دریائوں کا پانی‘ بھارتی ننگی آبی جارحیت

صحافی  |  معین باری

معین باری (فیصل آباد)
آج کی خبر ہے کہ بھارت نے پاکستانی دریاؤں کا پانی مکمل طور پر روک لیا ہے، سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین اور عالمی پانی اسمبلی کے چیف کوآرڈینیٹر حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے بیان دیا ہے کہ ’’پاکستان کا اہم مسئلہ بھارتی آبی جارحیت کا ہے، بھارت پاکستان کے حصہ میں آنیوالے دریاؤں پر 62 ڈیم مکمل کرنے کے قریب ہے اور مزید 31 ڈیموں کی تعمیر شروع کر رہا ہے۔ بھارت ناردرن کینال لنک کے ایک بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس پر 230 ارب ڈالر لاگت آئیگی اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کے دریاؤں کو بھارتی دریاؤں کیساتھ لنک کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ 2012ء تک پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا‘‘
ظہور الحسن صاحب کہتے ہیں ’’2013ء تک پاکستان کی طرف بہنے والے تمام دریاؤں کا رخ بھارت اپنے کھیتوں کی طرف موڑ لے گا اور پاکستان کی طرف ایک گھونٹ پانی نہیں آ سکے گا‘‘ موصوف نے پریس بریفنگ میں کہا ’’بھارتی آبی دہشت گردی کے باعث اب دریائے چناب اور جہلم میں ایک قطرہ پانی نہیں رہا۔ ہیڈ مرالا سے جو دو ہزار کیوسک پانی آ رہا ہے یہ صرف پلکھو نالہ کا ہے دریا چناب میں پاکستان کی طرف ایک گھونٹ پانی نہیں آرہا تمام ششماہی نہریں اور اکثر سالانہ نہریں بند پڑی ہیں‘‘ جناب ظہور الحسن ڈاہر کا بیان پڑھ کر دکھ ہوا۔ پاکستانی حکمرانوں اور لیڈروں کی بے بسی اور غفلت پر افسوس ہوا جو بھارت کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت کو دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ لب کشائی تک نہیں کرتے دریاؤں کے بند ہونے پر پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھتی۔ ڈیفنس کمیٹی اور منسٹری آف ڈیفنس سے کوئی نہیں بولتا مذہبی لیڈروں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ دوسرے بھارت کے منصوبہ سازوں پر رشک آتا ہے جو پوری ڈھٹائی کیساتھ پاکستان کو جنگ کئے بغیر Sun Tzu پالیسی پر عمل کرتے ہوئے زیر دام کر رہے ہیں۔ چینی جنرل سن زو لکھتا ہے کہ ’’عسکری برتری یہ ہے کہ جنگ کئے بغیر دشمن کی قوت مدافعت ختم کر دی جائے‘‘ یہ اسی ملک میں ہو سکتا ہے جہاں کی لیڈر شپ کمزور، بزدل اور بے بس ہو۔
قارئین اب تک تو آپ نے راوی اور ستلج دریاؤں کو گندے نالے بنتے ہوئے دیکھا ہے اب چناب جہلم اور سندھ کو بھی گندے نالے بنتے دیکھیں گے۔ ان دریاؤں میں اب پہاڑوں سے بہتا ہوا شفاف پانی نہیں ہو گا بلکہ ملوں، فیکٹریوں اور شہری گٹروں کا بہاؤ ہو گا جس میں نہ آبی جانور پرورش پا سکیں گے نہ انسان روبصحت ہو سکیں گے۔ یاد رہے کہ دریا ستلج، بیاس اور راوی کے بند ہونے سے ان علاقوں میں آباد 5 کروڑ انسان پینے کے صاف پانی سے محروم ہو چکے ہیں اس کمی کو پانچ لاکھ ٹیوب ویلوں کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے زمینی پانی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی اور کئی قسم کی بیماریاں پھیل چکی ہیں۔ دریا راوی کی مثال لیں، لاہور آبادی کا 120-96 ملین کیوسک فٹ انسانی فضلا روزانہ راوی میں گر رہا ہے پنجاب حکومت نے ابھی تک ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب نہیں کیا۔ حکومت کو اطلاع ہے کہ لاہور شہر کے نیچے والا پانی زہریلا ہو رہا ہے۔ راوی کناروں پر 200 فیکٹریوں کا کیمیکل زدہ پانی 1400 کیوسک فٹ فی سیکنڈ کے حساب سے دریا میں گر رہا ہے حکومتی محکموں کی رپورٹ ہے کہ ان جانوروں کا دودھ اور گوشت مضر صحت ہے جو دریا کا پانی پیتے ہیں۔ ڈی ڈی او انوائرمنٹ نے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دریا راوی سے دور رہیں (پوسٹ 8 اپریل)
اب سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان چیئرمین جناب ظہور الحسن ڈاہر کے حالیہ بیان سے ظاہر ہے کہ بھارت نے دریا چناب اور جہلم کا پانی بھی مکمل طور پر روک لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ آئندہ سال یہ دو پاکستانی دریا بھی راوی کی طرح گندے نالے بن جائینگے۔ دریا سندھ پر ایک سے زیادہ ڈیم بنائے جا رہے ہیں اور بڑے سرنگ کے ذریعے اس عظیم دریا کا پانی بنگلور تک لیجا کر ایک بہت بڑے ڈیم میں ذخیرہ کرنے کی سکیم تیار ہے۔ ظہور الحسن صاحب حکومت پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ ’’ملک بچانا ہے تو مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا جائے، بھارت نے یہودی لابی کی مدد سے پاکستان پر بڑا حملہ کر دیا ہے۔‘‘ قرآن پاک میں ذکر ہے کہ اگر ’’تمہیں اندیشہ ہو کسی قوم سے خیانت کا تو اٹھا کر پھینک دو (ان کا عہد) ان کی طرف اسی طرح جیسے انہوں نے پھینکا‘‘ (سورۃ الانفال آیت 58)
بھارت نے پاکستانی دریاؤں پر 62 ڈیم بنا کر اور 31 ڈیموں کو مزید تعمیر کر کے سندھ طاس معاہدے کو توڑا ہے جس سے ملک کی بقاء اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے اس لئے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بھی اس معاہدہ کو بین الاقوامی فورم میں بھارتیوں کے منہ پر دے ماریں۔ ملکی سالمیت کے اس سنگین مسئلہ پر اپنی زبان بندی کو طوالت نہ دیں اور قوم کو عملی اقدامات کیلئے تیار کریں۔ پاکستانی قائدین کے علم میں ہو گا کہ کرہ ارض پر دریا ہیں جو ایک سے زائد ملکوں کو سیراب کرتے ہیں ہر ملک اپنے حصے کا پانی عالمی اقدار و قوانین کے مطابق حاصل کر رہا ہے۔ دریا نیل تین ملکوں سے ہو کر گزرتا ہے کیا پاکستانی حکمرانوں لیڈروں اور جرنیلوں میں اتنی اہلیت اور جرأت نہیں کہ وہ اپنے دریاؤں کے پانیوں کو ہی بچا سکیں۔ دریاؤں کا پانی مکمل طور پر بند کرنا پاک قوم کی قوت مدافعت کو ختم کرنا ہے جو بھارتی نیتا بلا خوف کر رہے ہیں اور حکومت پاکستان نے کالا باغ ڈیم کے منصوبہ کو جس پر اربوں روپے خرچ ہو چکے تھے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اب اللہ ہی ہے جو پاکستان کے باسیوں کو بھوک و ننگ سے محفوظ رکھے۔
دوسرا عذاب دہشت گردی یا خانہ جنگی کی صورت میں نازل ہوا ہے یہ دہشتگردی یا خانہ جنگی سپرطاقتوں اور انکے گماشتوں نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستانیوں پر مسلط کی ہے جیسے مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش بنانے کیلئے مکتی باہنی تیار کی گئی۔ بقول سابق وزیراعظم مرارجی ڈلیائی ’’اندرا‘‘ گاندھی کے حکم پر 60 ہزار مسلح بھارتی فوجی سول کپڑوں میں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیئے گئے جب پاک فوج مکتی باہنی سے لڑتے ہوئے تھک گئی تو 9 ڈویژن بھارتی مسلح افواج نے فضائیہ کی فل سپورٹ کیساتھ تین اطراف سے حملہ کر دیا بالکل اسی طرح افغانستان میں امریکی حملہ کے بعد بھارت نے قونصل خانے کھولے جہاں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے ڈیرے جمائے ۔
را، خاد، موساد، سی آئی اے اور بعض نیٹو ممالک نے خفیہ ایجنسیوں کے ہیڈ کوارٹر کھولے۔ وہاں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی اور اسلحہ دیکر پاکستان بھیجا جاتا۔ ان گوریلوں نے سوات، دیر، باجوڑ، ملاکنڈ میں مار دھاڑ شروع کی امن وامان قائم کرنے کیلئے پاک فوج کو آپریشن کرنا پڑا۔ قبائلی علاقوں میں امریکہ نے ڈرون حملے کئے جہاں سینکڑوں بے گناہ مارے گئے۔ اسکاری ایکشن لازمی تھا‘ خودکش بمبار پاکستانی شہروں میں داخل ہو گئے اور جی ایچ کیو پنڈی تک جا پہنچے۔ سوات، دیر، باجوڑ اور مالاکنڈ میں ابھی لوگ واپس جا کر پوری طرح آباد نہ ہوئے تھے کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا جہاں مقابلہ سخت ہو رہا ہے۔ بمبار اور دہشت گرد پاکستانی شہروں میں داخل ہو کر تباہی مچا رہے ہیں۔ یہ ملٹری آپریشن سوات اور مالاکنڈ سے زیادہ وقت لے گا اور بھاری نقصانات کے خطرات ہیں۔ پاک فوج کو خونخوار لڑائیاں کرنی پڑیں گی اور نتائج کیلئے دیر لگے گی ابھی تک وزیرستان میں دو لاکھ باشندے پناہ گزین بن چکے ہیں انہیں فوراً ہر قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔‘‘ (نیوز 20 اکتوبر)
مغربی صحافی ادیب اور دانشور ERIC MARGOLIS لکھتا ہے ’’امریکہ نے پاکستان پر فولادی پنجے جمانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ پاکستان جو افغان وار کی وجہ سے غیر متوازن ہو چکا ہے اب ٹوٹنے کے قریب ہے۔ بمباروں اور قاتلانہ حملوں نے 17 کروڑ کی قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔یہاں تک کہ دہشتگرد جی ایچ کیو پہنچ گئے بازاروں میں دندناتے پھر رہے ہیں امریکہ افغانستان میں اپنی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے وہ پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر پورا کنٹرول چاہتا ہے جو پاک نیشنل ڈیفنس کی روح ہے۔ امریکی پاکستان کے اندر فضائی حملوں سے پہلے حکومت پاکستان سے اجازت بھی نہیں لیتے۔ 90% پاکستانی افغانستان میں امریکی جارحیت کے خلاف ہیں‘‘ (نوائے وقت 22 اکتوبر) ایسے اوقات میں جب ملکی دریا خشک ہو چکے ہوں پاکستانی شہروں کے گلی کوچوں میں جنگ کا سماں ہو حکمران خود اعلان کریں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں‘ مسلح افواج کی اپنے ہی قبائل یا شہریوں سے لڑائی شروع ہو جائے اور سپر طاقتیں ملک کے اندر جہاں چاہیں ڈرون حملے شروع کر دیں‘ ایسے سنگین حالات میں دشمن ممالک ضرور فائدہ اٹھاتے ہیں جیسا کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر فوج میں اضافہ کر دیا ہے‘ بھارتی فضائیہ کے لڑاکا سکوارڈن پاک بارڈر کیساتھ لگا دیئے گئے ہیں آگرہ میں حالیہ بھارتی امریکی فوجی مشقیں ہوئی ہیں‘ جہاں جدید لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا ہے اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا بہانہ بنا کر اعلیٰ کمانڈروں کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ سٹریٹجک پارٹنرز یا اتحادیوں کی پہلی کوشش ہو گی کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کیا جائے اس کیلئے امریکی اسلام آباد اور گردونواح میں ماحول تیار کر رہے ہیں۔
ایرک مرگولیس لکھتا ہے ’’امریکہ اسلام آباد میں دنیا کا وسیع ترین سفارت خانہ تعمیر کر رہا ہے جہاں ایک ہزار امریکی آسانی سے قیام پذیر ہو سکیں تاکہ لوگر قانون کے ذریعے جو 7.5 بلین ڈالر پاکستان کو ایڈ مل رہی ہے اس پر نظر رکھیں امریکی اپنی خفیہ تنظیم (بلیک واٹر) کو بھی لے آئے ہیں تاکہ وہ امریکی عزائم کو تحفظ دے سکے۔‘‘ (نیشن 19 اکتوبر) دوسرا ہدف بلوچستان ہو سکتا ہے‘ امریکی تھنک ٹینک کئی سالوں سے آزاد بلوچستان کی رٹ لگا رہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی کا ہیڈ کوارٹر اسرائیل میں ہے پاکستان میں امریکی سفیر نے حال ہی میں مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں پختون لیڈروں پر فضائی حملے کئے جائیں اور حکومت پاکستان نے بھی الزام لگایا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں اس صوبہ میں دہشتگردی کرا رہی ہیں۔ ظاہر ہے اتحادی چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں بھی وزیرستان جیسا ملٹری آپریشن کرا دیا جائے تاکہ پاک فوج کئی محاذوں پر الجھ کر رہ جائے۔ ایسے حالات میں بھارتی سندھ پر فوج کشی بھی کر سکتے ہیں‘ اسلئے کہ بھارتی افواج نے سندھ فتح کرنے کیلئے دوبار فوج کشی کی۔ پہلی بار اندراگاندھی کے قتل نے روکا دوسری بار ایٹم بم کے خوف نے بھارتی فوج کی دوڑیں لگا دیں۔ سندھ کے بعد بھارتی آزاد کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں دشمن کے گھناؤنے عزائم کو ہم تب ہی خاک میں ملا سکتے ہیں اگر ملک کے اندر خانہ جنگی ختم کرا دی جائے‘ قبائل سے جنگ کی بجائے صلح وامن کی صورت نکالی جائے اور پاکستانی حکمران سپر طاقتوں کے طفیلی بننے کی بجائے ملک کے بہادر خوددار اور بے خوف محافظ بن کر دکھائیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلطان صلاح الدین ، مصطفیٰ کمال یا مہاتیر محمد جیسے لیڈر عطا کر دے۔