تلاشی پروگرام ....

تنویر حسین
کل ایک کارخانے کا مزدور اپنے ہی دیس میں اجنبی ہونے کی مرغ آمیز داستان سنا رہا تھا۔ داستانوں میں تو شہزادے، شہزادی اور پریوں کا ذکر آتا ہے۔ اس کی داستان میں بار بار مرغ اور نیلی کالی اور خاکی وردی کا ذکر آ رہا تھا۔ ہم نے بھی اپنے دو کان لگا دئیے اگرچہ ہم دیوار نہیں تھے۔ اس نے بتایا کہ وہ کارخانے سے نکل کر گھر آ رہا تھا کہ ناکے پر اسے چند اور لوگوں کے ساتھ روک لیا گیا۔ چن ماہی نے کہا کہ اپنی شناخت کرائیے کہ آپ کس ملک کے باسی یا تازہ رہائشی ہیں جن کی جیبوں نے شناختی کارڈ اگل دئیے، انہیں چھوڑ دیا گیا اور ہم بغیر شناختی کارڈ والوں کو مرغا بننے کا حکم دے دیاگیا۔ مزدور نے اپنی کانپتی ہوئی ٹانگوں پر قابو پایا اور ہمت پیدا کرتے ہوئے کہا۔ موتیاں والیو! اگر میں ماسٹر صاحب کے حکم پر مرغا بن جاتا تو آج میں آپ کی جگہ پر ہوتا اور پاکستان کے عام شہریوں کو مرغا بنا کر پاکستان کی خدمت کر رہا ہوتا۔ ایک شہری نے مرغا بننے سے قبل پولیس والوں سے کہا کہ آپ کی حب الوطنی اور نیک چیکنگ پر ہمیں کوئی شک نہیں صرف ٹریفک سے بھرپور رواں دواں شاہراہ کے کنارے مرغے کی شکل اختیار کرنا کچھ خلاف تہذیب لگتا ہے۔ اس مرغیہ مسئلے کو خوش اسلوبی سے بھی طے کیا جا سکتا ہے۔ ہم سب مثال اور عبرت کے طور پر مرغا بننے والے سامنے والے ہوٹل سے کوئی اچھی نسل کا مرغا تیار کروا لیتے ہیں۔ ہم کالی اور سرخ مرچیں الگ الگ لے آئیں گے۔ آپ ہمارے سامنے کھائیں تاکہ ہماری دل شکنی نہ ہو۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہوا ہے کہ کسی نے پولیس والوں کو فون پر اطلاع دی کہ ان کے علاقے میں دہشت گرد آ گئے ہیں۔ اطلاع دینے والے نے پولیس کو بروقت پہنچنے کے لئے غالب کا یہ مصرع بھی سنا دیا۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن۔ پولیس کے بیس پچیس ڈالے اطلاع دینے والے کے خاک ہو جانے سے پہلے پہنچے۔ جن لوگوں کو کچھ خبر نہ تھی، وہ حیران اور فکرمند ہو گئے۔ پولیس نے اتنی ایمانداری سے تلاشی لی کہ ہر گھر کے پلنگوں اور چارپائیوں کو الٹا الٹا کر دیکھا کہ کوئی دہشت گرد ان کے اندر نہ چھپا بیٹھا ہو۔ پولیس والوں نے محلے داروں کو قطار میں کھڑے کرکے ایسی تلاشی لی کہ بہت سے شہریوں کے چہرے مسرتوں سے کھل اٹھے۔ وہ خود کو ایسے وزیر مشیر سمجھ رہے تھے جن کی امریکہ پہنچنے پر جوتے جرابیں تک اتروا کر تلاشی لی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایسا تلاشی پروگرام چل رہا ہے، جو پوری دنیا میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ چکا ہے۔ اس تلاشی پروگرام کا ڈائریکٹر امریکہ ہے۔ وہ اشارے دیتا جا رہا ہے۔ ادھر تلاش کرو، ادھر تلاش کرو، پہاڑوں میں تلاش کرو اور سکولوں میں تلاش کرو۔ ہمارے اندر تو شاید یہ جرات بھی نہیں رہی کہ امریکہ سے کہہ سکیں کہ کیا ہم نے ساری زندگی تلاشی پروگرام ہی میں بے ثمر کرنی ہے؟ یہ تلاشی پروگرام مشرف دور میں شروع ہوا تھا۔ اس پروگرام کا نہ کوئی عنوان ہے اور نہ سر پیر، امریکہ ہمیں تلاشی پروگرام کے ذریعے یہ بتا رہا ہے کہ یہی راہِ راست ہے اور یہی راہِ نجات۔ منیر نیازی نے بھلے وقتوں میں کہا تھا
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بس اس نے کیا
اس شعر میں ہمیں ”اس“ کی سمجھ کبھی نہیں آئی تھی۔ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہماری ساری زندگی کو امریکہ ہی نے ”بے ثمر“ کیا ہے۔