اب ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا

کالم نگار  |  سعید آسی

سعید آسی
بہت خوشی کی بات ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بقول صدر آصف علی زرداری این آر او پر عدالتی فیصلہ تسلیم کرلیں گے مگر یہ موشگافی کہاں سے آگئی کہ این آر او کی حاصل شدہ رعایت ختم ہونے کے باوجود صدر مملکت کسی بھی قانونی کارروائی سے مستثنیٰ رہیں گے۔ کیا یہ آئین کی دفعہ 248 کا تقاضہ ہے؟ میں نے اس آئینی شق کا کئی بار اور بار بار مطالعہ کیا ہے کہ شائد اس کے کسی ایک لفظ، کسی ایک فل سٹاپ، کولن، سیمی کولن سے صدر کو ان کے اس منصب پر فائز ہونے سے پہلے کے سرزد شدہ کسی جرم میں بھی ان کے دور صدارت کے دوران تحفظ حاصل ہونے کی کوئی گنجائش نکل آئے مگر مجھے ہر بار اس معاملہ میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ یہ آئینی شق تو صدر مملکت کو ان کے صرف عہدِ صدارت والے معاملات پر آئینی اور قانونی استثناٰ دیتی ہے اور وہ بھی ایسے اقدامات و معاملات پر جو بطور صدرمملکت ان کے فرائض منصبی سے متعلق ہوں۔ اگر صدر مملکت سے ان کے عہدِ صدارت میں قتل یا ڈکیتی کی کوئی سنگین واردات سرزد ہو جائے(جس کی بادی النظر میں صدرمملکت سے توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی اور نہ ہی آج تک ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا ہے) تو آئین کی دفعہ 248 ہر گز یہ تقاضہ نہیں کرتی کہ صدر کو ان کے اس فوجداری جرم پر بھی استثناٰ دے دیا جائے۔ اگر صدر کو ان کے عہدِ صدارت کے دوران سرزد ہونے والے ایسے کئی جرم پراستثناٰ حاصل نہیں تو ان کے عہدِ صدارت سے پہلے سرزد ہونے والے ایسے کسی جرم پر انہیں اس بنیاد پر بھلا کیسے استثناٰ حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ صدرمملکت کے منصب پر فائز ہیں۔
معلوم نہیں بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن نے کس مصلحت کے تحت یہ بیان دے دیا ہے کہ این آر او کی رعایت ختم ہونے کے باوجود بطور صدرمملکت محترم آصف علی زرداری کو ان مقدمات میں آئینی تحفظ حاصل رہے گا جو این آر او کی بنیاد پر ختم کئے گئے تھے۔ ظاہر ہے ان مقدمات کا متعلقہ عدالتوں میں ابھی تک میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا اور این آر او کی چھتری ہٹنے سے یہ مقدمات پھر بحال ہو جائیں گے جنہیں میرٹ پر نمٹانا لازمی تقاضہ بن جائے گا۔ محترم آصف علی زرداری کے خلاف یہ مقدمات ان کے صدر منتخب ہونے سے پہلے درج ہوئے تھے اس لئے ان مقدمات پر تو انہیں صدر مملکت کی حیثیت سے کسی صورت استثناٰ حاصل نہیں ہوسکتا البتہ یہ عدالتی نظرثانی ہوسکتی ہے کہ ان مقدمات کی موجودگی میں جناب آصف علی زرداری صدرمملکت کا انتخاب لڑنے کے اہل بھی تھے یا نہیں۔ اس حوالے سے سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کی یہ ”ترنگ“ بھی مصلحتوں کے لبادے میں لپٹی ہوئی نظر آتی ہے کہ این آر او کی رعایت ختم ہونے کے بعد صدرمملکت کے خلاف دائر مقدمات ان کے عہدِ صدارت تک معطل رہیں گے۔
میری ناقص رائے میں یہ ساری بحث ہی بے کار اور محض کسی کو طفل تسلی دینے والی ہے کیونکہ آئین کی دفعہ 248 تو صدر کو ان کے صدر بننے سے پہلے کے جرائم پر ہر گز استثناٰ نہیں دیتی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ اگر آئین میں ترمیم کرکے اس استثنیٰ کیلئے دفعہ 248 کوئی ذیلی شق ڈال دی جائے تو یہ الگ بات ہے جبکہ اس میں بھی بطور خاص صدر زرداری کا نام لکھنا پڑے گا کہ انہیں بھی یہ استثنیٰ حاصل ہوگا ورنہ وہ صدر کے استثنیٰ کے بارے میں اب ہونے والی کسی عمومی آئینی ترمیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے جبکہ صدر کو ان کے ماضی کے جرائم پر استثنیٰ دینے کیلئے موجودہ پارلیمنٹ میں کوئی آئینی ترمیم ممکن بھی ہے یا نہیں، یقینا اس بارے میں بھی بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن کو بخوبی علم ہوگا۔ اگر موجودہ اسمبلی میں ایسی کوئی آئینی ترمیم ممکن ہوتی تو پھر اس اسمبلی میں این آر او کی بھی آسانی سے منظوری لی جاسکتی تھی اور حکومتی بنچوں کو پسپائی اختیار کرنے کی ہر گز ضرورت محسورس نہ ہوتی۔ اس لئے اگر موجودہ اسمبلی این آر او کی منظوری کیلئے ان کی مددگار نہیں بن سکی تو صدر کے مستقل استثنیٰ کیلئے بھلا موجودہ اسمبلی کیوں مدد گار بنے گی۔ پھر یہ ساری طفل تسلیاں لینے اور دینے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ طے تو اب یہ ہونا چاہئے کہ صدر، وزیراعظم اور دیگر اشرافیہ طبقات سے لے کر عام آدمی تک کوئی بھی شخص آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ جس نے دانستہ یا نادانستہ جو بھی قابل دست اندازی¿ پولیس جرم سرزد کیا ہے، اسے بہرصورت قانون و انصاف کے کٹہرے میں آنا ہوگا اور اگر کوئی جرم اس نے سرزد نہیں کیا اور محض کسی کے ذاتی یا سیاسی انتقام کے شاخسانے کے طور پر اس پر وہ جرم ڈال دیا گیا ہے تو اس وقت عدلیہ آزاد ہے اور انصاف و قانون کی حکمرانی ہے، اسے بھلا اس جرم میں کیوں سزا ملے گی جو اس نے سرزد ہی نہ کیا ہو۔ اس لئے ماضی کے مقدمات میں صدر ذی وقارکادامن صاف ہے تو انہیں انصاف و قانون کی عملداری سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں تو خود ہی اپنے آپ کو عدالت کی عملداری کے دائرے میں لے آنا چاہئے۔ لیکن معاف کیجئے، اب ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ قانون کا یہ شکنجہ صرف عام آدمی اور کمزور طبقات کیلئے ہی ہو اور اقتدار کی فصیلوں کے اندر بیٹھے اور باہر ان کے ساتھ جڑے ہوئے طبقات اور شخصیات کے آگے کسی قانون اور آئین کی کسی شق کو پر مارنے کی بھی اجازت نہ دی جائے، اب ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے جناب، اب ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔