آزادکشمیر میں نئی سیاسی کروٹ … (۱)

22اکتوبر کو آزاد کشمیر اسمبلی کے 48 ارکان میں سے 29 ارکان نے مسلم کانفرنس کے امیدوار راجہ فاروق حیدر کو ووٹ دیکر آزاد جموں وکشمیر کا 9 واں وزیراعظم منتخب کیا ۔ انکے نوحریف جو ایک ماہ پہلے تک حلیف تھے سردار یعقوب کو 19 ووٹ ملے، وہ دس ماہ تک وزارت عظمیٰ کا جھولا جھولنے کے بعد فارغ ہو گئے۔ ان دس ماہ میں آزادکشمیر کے باشعور عوام نے ضِد و اناء اور تکون کی سیاست کے مضحکہ خیز مناظر چوٹی کے لیڈروں کے ہاتھوں رونما ہوتے دیکھے، سردار عتیق احمد کی دو تہائی اکثریت کی حکومت سے پیپلزپارٹی، پیپلز مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے ممبران اس مفروضہ کی بنا پر تعاون نہیں کرتے تھے کہ یہ مشرف کے دور کی دھاندلی کی پیدوار ہے۔
سردار سکندر حیات (سردار عبدالقیوم کے بعد مسلم کانفرنس اور آزاد کشمیر کے دوسرے بڑے لیڈر) کی وزارت عظمیٰ کے دور میں یہ انتخابات ہوئے تھے۔ انہوں نے خود اعلان کیا تھا کہ آئندہ وزیراعظم سردار عتیق احمد ہونگے۔
انتخابات کی کامیابی میں سردار عتیق احمد کی تنظیمی صلاحیتوں، ذہانت، ان تھک محنت اور سجدہ ریزی کی خوبیوں کا بڑا حصہ تھا، سردار عتیق احمد کے پاس مسلم کانفرنس کی صدارت کا اعزاز بھی تھا۔
سردار سکندر حیات نے گزشتہ سال نومبر میں مسلم کانفرنس کے سالانہ انتخاب کے وقت یہ مطالبہ رکھ دیا کہ سردار عتیق احمد یا مسلم کانفرنس کی صدارت اپنے پاس رکھیں یا وزارت عظمیٰ کا اعزاز، سالانہ اجلاس کے بڑے اجتماع میں سردار عتیق احمد کو پھر صدر مسلم کانفرنس منتخب کرلیا گیا۔ وزارت عظمیٰ بھی انکے پاس رہی، سردار سکندر حیات نے چند ممبر اسمبلی جو کابینہ کے وزیر بھی تھے اپنے ساتھ ملاکر ایک متوازی مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھ دی۔
سردار سکندر حیات 77 سالہ مسلم کانفرنس میں تقسیم کا ’’شغل‘‘ دوبار پہلے بھی کر چکے تھے، دونوں بار سردار عبدالقیوم نے آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس تقسیم کو ختم کیا تھا۔ دونوں بار متحدہ مسلم کانفرنس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور دونوں بار سردار سکندر حیات کو وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا۔ اس دفعہ سردار سکندر حیات جیسے پختہ فکر کے سیاستدان نے مسلم کانفرنس کی 34 ممبران کی پارلیمانی پارٹی کے 18 ممبران توڑ کر ایک فارورڈ بلاک بنایا، دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، انہوں نے اپنے ضمیر کی خلش کو دبا کر فارورڈ بلاک کے ان ارکان سے گٹھ جوڑ کیا جنہیں وہ جنرل پرویز مشرف کی دھاندلی کی پیدوار کہتے تھے۔ سردار سکندر حیات کی اشیر باد اور صدر آصف علی زرداری کی منظوری سے ایک کولیشن حکومت سردار محمد یعقوب کی قیادت میں تشکیل دیدی۔
6 جنوری کو اس متحدہ گروپ نے سردار عتیق احمد کیخلاف عدم اعتماد کی قرار داد منظور کرائی اور کولیشن حکومت قائم کرلی ۔مسلم کانفرنس کی پارلیمانی پارٹی کے 17 ممبران بڑی استقامت کیساتھ سردار عتیق احمد کیساتھ کھڑے رہے، فارورڈ بلاک کے 18 ممبران میں سے 8 نے الگ ہو کر ایک فرینڈز گروپ قائم کرلیا، اب اس کولیشن میں فارورڈ بلاک 10، فرینڈز گروپ 8، پیپلزپارٹی 7، پیپلزمسلم لیگ 4 اور ایم کیو ایم کے 2ممبران کل 31 ممبران تھے۔ کولیشن حکومت ایک بے سمت جہاز کی طرح ہچکولے کھاتی چلتی رہی۔ پیپلزپارٹی اور سلطان محمود آپس میں بات تک نہیں کرتے تھے۔ فارورڈ بلاک اور فرینڈز گروپ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے اور فارورڈ بلاک و پیپلزپارٹی ایک دوسرے کو طعنے دیتے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ کولیشن میں ہم آہنگی نہیں تھی، اس کا انداز حکمرانی ایک مذاق کی حیثیت رکھتا تھا، انتظامیہ من مانی کرتی، زلزلہ زدگان کیلئے ایک اینٹ بھی کہیں نہیں رکھی گئی، بیرونی ممالک نے اپنے طور پر ہسپتال، انتظامی پلازہ ، وزراء و حکام کے رہائشی بنگلے، کچھ سکول اور پانی کے منصوبے تکمیل کیے، سردار سکندر حیات جیسے لیڈر اس صورتحال پر ناخوش تھے، انہوں نے ایک بیان میں تسلیم بھی کیا کہ کولیشن حکومت کا تجربہ ناکام رہا ہے، پیپلزپارٹی اسلام آباد کے اعلیٰ ترین حلقوں کی حمایت سے ناتجربہ کار وزیراعظم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی رہی۔ (جاری ہے)
سردار عتیق احمد اور سردار عبدالقیوم بیمار ہونے کے باوجود مسلم کانفرنس کے اتحاد کیلئے کوشش کرتے رہے، دوبار سردار عتیق احمد نے کوٹلی اور نکیال سردار سکندر حیات کے گھر جا کر جماعت میں اتحاد کیلئے مذاکرات کیے، ایک بار تو دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ مسلم کانفرنس میں اتحاد کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
جولائی میں سردار سکندر حیات نے اک بیان میں کہا’’میں مسلم کانفرنس میں اتحاد کا حامی ہوں اپنی زندگی کے اس حصہ میں جماعت میں تقسیم کا داغ اپنے سر نہیں لینا چاہتا، میں آج بھی سردار عبدالقیوم کو اپنا لیڈر تسلیم کرتا ہوں، لیکن یہ نیک خیالات عملی صورت اختیار نہیں کر سکے، آزاد کشمیر میں کولیشن حکومت سردار عتیق احمد کو اقتدار سے الگ کرنے کیلئے بنا دی، لیکن یہ حکومت سردار سکندر حیات کی منشاء کے مطابق کام نہیں کر رہی تھی۔ اسکی باگ دوڑ تو اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی ہائی کمان کے پاس تھی، سردار سکندر حیات ذہنی خلفشار میں تھے کہ اکتوبر کے اوائل میں سردار عبدالقیوم کی عیادت کیلئے انکے گھر مجاہد منزل راولپنڈی میں گئے، سردار عبدالقیوم نے تیسری بار پیش قدمی کرتے ہوئے سکندر حیات سے کہا کہ جماعت میں اتحاد پیدا کریں۔ یہ ذمہ داری آپکی ہے، جو فیصلہ آپ کرینگے ہم تسلیم کرینگے، پاس بیٹھے سردار عتیق احمد نے پیش کش کی کہ مسلم کانفرنس کی متحدہ پارلیمانی پارٹی (34 ممبران) کسی اور کو پارلیمانی لیڈر منتخب کرے، وہ اس سے پورا تعاون کرینگے، سردار سکندر حیات نے سردار عبدالقیوم کی ہدایت اور سردار عتیق احمد کی پیشکش کو بڑے تدبر و فراست سے نبھایا، چند دنوں میں سردار عتیق احمد کے 17 مضبوط ساتھی اور فارورڈ بلاک کے 10 ممبران میں دوبارہ اتحاد ہو گیا، فرینڈز گروپ سے بھی دو ممبران واپس آملے اور 22 اکتوبر کو 29 ممبران نے متحدہ مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار راجہ فاروق حیدر کو وزیراعظم منتخب کرلیا، شام 3 بجے راجہ فاروق حیدر نے حلف وفاداری اٹھایا اور 10 ماہ کے اندر مختلف پارٹیوں کے مضحکہ خیز طرز عمل سے مایوس ہوئے آزادکشمیر کے عوام کو اپنی 77 سالہ سیاسی جماعت کی قیادت میں ایک مستحکم حکومت پھر مل گئی ہے۔
راجہ فاروق حیدر ذہین، خوش خلاق، سیاسی کارکن ہیں، اپنے دبنگ والد راجہ حیدر خان اور اپنی فولادی عزم کی مالک والدہ کے روشن سیاسی کردار کا اثاثہ اپنی پشت پر رکھتے ہیں، انکے سامنے تحریک آزادی کشمیر کو الحاق پاکستان کی روح کیساتھ متحرک کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد سے ہم آہنگ رکھنے، زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور متاثرین کی آبادکاری کے ہمہ گیر کام کو ٹھوس اقدامات کیساتھ تکمیل کرنا، منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل حل کرنا، میرٹ اور اصولوں پر مبنی انتظامیہ سے کام لینا، عوام کے مسائل پر توجہ دینا اور آزاد کشمیر میں سیاسی رواداری اور افہام و تفہیم کی روایت کو جاری رکھنا بڑے کام ہیں۔
اس سیاسی کروٹ کے رونما ہونے کے دوران آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کے قیام کا بھی بڑا چرچا رہا، اس دوڑ میں بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دو سال سے بڑے سرگرم تھے، وہ سائے کی طرح میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کیساتھ لندن، رائے ونڈ لاہور اور پنجاب ہائوس اسلام آباد میں رہتے رہے، میاں صاحبان بھی انہیںلفٹ دیتے تھے، بیرسٹر اس خوش گمانی میں جھوم رہے تھے کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی قیادت وہ کرینگے، لیکن مسلم کانفرنس میں اتحاد میاں نوازشریف کی خواہش تھی، یہ اتحاد ہو گیا تو آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کے قیام کا ارادہ ترک کر دیا گیا، بیرسٹر سلطان محمود کی مانگ اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی ہائی کمان میں پھر محسوس کی گئی ہے، ہائی کمان کو آزادکشمیر پیپلزپارٹی کی حالیہ ’’سیاسی کروٹ‘‘ میں بے جان کارکردگی پر غصہ ہے، چنانچہ چودھری عبدالمجید، چیئرمین آزاد کشمیر پیپلزپارٹی جو بیرسٹر سلطان محمود سے بات کرنے کے روا دار نہیں تھے نے بیرسٹر کیساتھ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے، ذمہ دار حلقوں کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود اپنے سیاسی کیرئیر کی ساتویں قلا بازی کے ساتھ پھر پیپلزپارٹی میں شامل ہو جائینگے اور آزادکشمیر میں اپوزیشن کا کاردار ادا کرینگے، اس سیاسی کروٹ کی روئیداد میں مختلف سیاستدانوں اور پارٹیوں کے مضحکہ خیز کردار کو محتاط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہ وہ ان سے سبق سیکھیں۔