آج بھی جو ہو براہیم کا ایمان پیدا

عزیز احمد
جنگ مےں کود پڑنا بہادری ہے نہ اس سے فرار دلیری کی علامت لیکن جب یہ مسلط ہو جائے تو بچنے کی کوشش بزدلی ہے اور بزدلی حکومتوں کی طرف سے ہو تو بے غیرتی کی حدوں کو چھو لیتی ہے، خدا کی طرف سے حق پرستوں کی ہمیشہ سے جیت ہوتی آئی ہے، خدا ان کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد کرتے ہےں، ہاتھ پہ دھرے بیٹھے رہنے اور حالات کے مقابلے سے گھبرانے والوں کا مقدر ذلت اور پستی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ عزت اور غیرت یہ نہیں کہ آپ کے ہاں ڈالروں کو ریل پیل ہو۔ اپنے لوگوں کو خواتین سمیت بیچ کر 20 لاکھ روپے ایک دن کے کرائے کے ہوٹل مےں شراب پی کر ڈانس کیا اور گانا گایا جائے۔ غیرت اور حمیت یہ ہے کہ روکھی سوکھی کھا لیں قومی خودداری اور خودمختاری پر آنچ نہ آنے دیں۔ اپنے عظیم وطن کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے نہ دیں۔ عزت‘ غیرت حمیت اور خودداری کو ڈالروں مےں شمار کیا جاسکتا ہے نہ سونے مےں تولا جاسکتا ہے۔ یہ انسان کے اندر کا احساس ہے جو کام کر کے آپ کا سر فخر سے بلند آپ سینہ تان کر چلیں یہی غیرت ہے یہی عزت ہے یہی خودداری ہے۔ 1.5 ارب ڈالر وصول کر کے بھی احساس جرم مےں مبتلا ہوں تو یہی عزت اور غیرت کا سودا ہے۔
ہمیں سپرپاور سے ڈرایا گیا، ایک بزدل نے جرنیل کی وردی پہنی ہونے کے باوجود پتھر کے زمانے مےں دھکیلے جانے کی دھمکی سن کر رات کے پچھلے پہر بغیر کسی مشورے اور رائے کے ملک عظیم سپرپاور کے ہاتھ گروی رکھ دیا ۔ خدا نیت کو دیکھتا ہے بغیر لڑے بھی فتح سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ ابراہہ کے ہاتھیوں کا انجام انسانی تاریخ کے سامنے ہے۔ ابابیلوں نے ہاتھیوں اور ان کے سواروں کا بھس نکال دیا، پھر پرانی تاریخ مےں جانے کی ضرورت نہیں اپریل 1980ءمےں امریکہ نے تہران مےں موجود اپنے یرغمالیوں کو چھڑانے کےلئے آپریشن کیا بحیرہ ہند مےں موجود اس کے بیڑے سے ایک سی ون 30 اور 8 ہیلی کاپٹر اڑتے ہےں ایران کے ایک بے آباد ہوائی اڈے پر اترتے ہےں اور آپریشن سے قبل ہی طوفان مےں پھنس جاتے ہےں تین ہیلی کاپٹر تباہ اور دو تین ناکارہ ہو جاتے ہےں۔ امریکی سوائے C-130 جہاز کے سب کچھ وہیں چھوڑ کر بھاگ نکلتے ہےں، ایرانیوں کا جذبہ صادق تھا انہوں نے امریکی طاقت کے آگے سر اٹھانا سیکھ لیا تھا، خدا نے ان کی مدد کی۔
امریکہ کے پاس لاتعداد فوج اور جدید ترین اسلحہ و ٹیکنالوجی سے اس کا خوف دلا کر خاموش رہنے کی نصیحت اور تلقین کی جاتی ہے ایسی سوچ جنگ بدر کے موقع پر ہوتی تو آج ہم رام رام کر رہے ہوتے۔ غزوہ بدر مےں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی۔ ان کے مقابلے مےں اس دور کے لحاظ سے کیل کاٹنے سے لیس دشمن 1300 تھے۔ مسلمان جذبہ ایمانی سے میدان اترے تو میدان مار لیا۔
آج امریکہ بیک وقت عراق اور افغانستان مےں اپنی فوجیں لئے بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے بے بس اور نہتے لوگ ہےں لیکن وہ جذبہ ایمانی سے سرشار ہےں ان کے پاس فوج نہ جدید اسلحہ، پھر بھی لڑ رہے ہےں۔ خدا ان کی ایسے طریقے کی مدد کرتا ہے جو معجزوں سے کم نہیں۔ افغانستان مےں 26 اکتوبر کو امریکہ کے بیک وقت تین ہیلی کاپٹر تباہ ہوگئے۔ دو آپس مےں ٹکرائے تھے ایک بے گناہ لوگوں پر بمباری کر کے واپس آ رہا تھا کہ گر کر تباہ ہوگیا۔ اس تباہی مےں 11 امریکی فوجیوں سمیت 14 امریکی ہلاک ہوگئے۔ اگلے روز بارودی سرنگ سے گاڑی ٹکرانے سے 8 امریکی فوجی موت کی آغوش مےں چلے گئے۔ اکتوبر کا مہینہ امریکی فوجیوں کےلئے منحوس اور عسکریت اور حریت پسندوں کےلئے مبارک ثابت ہوا ایک ماہ مےں 60 کے قریب امریکی فوجی موت کا ایندھن بنے۔ افغانستان مےں امریکہ کس سے لڑ رہا ہے؟ اس کے سامنے کوئی دشمن نہیں لیکن اپنی جارحیت کا نتیجہ بھگت رہا ہے۔
ہمارے بزدل حکمران نائن الیون کے بعد سے امریکی مفادات کےلئے کام کر رہے۔ موت کے خوف اور ڈالروں کے لالچ مےں اس کے ہر حکم کی تعمیل کر رہے ہےں۔ اپنے لوگوں کو خود مار رہے ہےں اور امریکیوں سے مروا رہے ہےں گلے پھاڑ پھاڑ کر اور رگیں پھلا پھلا کر کہتے ہےں یہ ہماری جنگ ہے۔ خدا کے بجائے امریکہ پر بھروسا کر رہے ہےں۔ قوم کا قبلہ اور حکمرانوں کا اور ہے۔ قومی وحدت اور اتحاد ناپید ہے۔ ذرا ہمت کریں غیرت اور حمیت کو آواز دیں بدر کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ جنگ 65ءکی تاریخ عود کر آئے گی۔ معجزے رونما ہونگے امریکہ کا حال ابرہیہ کے ہاتھیوں جیسا ہوگا۔ خدا کو پکار کر دیکھیں جس نے اپنے لوگوں کو کبھی مایوس نہیں۔
آج بھی جو ہو براہم کا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا