’’پانامہ فیصلے کے بعد…‘‘

کالم نگار  |  سید روح الامین
’’پانامہ فیصلے کے بعد…‘‘

وطن عزیز میں ایک سال سے ’’پانامہ‘‘ کا رونا رویا جا رہا تھا جسے سپریم کورٹ لے جایا گیا۔ ایک ماہ کی سماعت سابق چیف جسٹس جمالی کی سربراہی میں ہوئی ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ جج صاحبان پر مشتمل بنچ تشکیل دیا گیا۔ کھوسہ صاحب کی سربراہی میں پھر کیس کی انتہائی باریک بینی سے سماعت ہوئی۔ فروری میں فیصلہ ’’محفوظ‘‘ کر لیا گیا جسے20 اپریل کو سنایاگیا۔ فیصلے کے مطابق دو جج صاحبان نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا۔ باقی تین نے مزید تحقیقات کے لئے جے ٹی آئی بنانے کے لئے کہا جو کہ مرحلہ وار اب ہو گا۔ اب گیند جے آئی ٹی کے پاس ہے۔ ہماری تاریخ میںجے آئی ٹی اور کمشن کی رپورٹس قابل رشک کبھی بھی نہیں رہیں۔ یہ جے آئی ٹی تو ایسے ہی ہو گی جیسے ایک گھرانے میں جو افراد ہیں وہ گھر کے سربراہ سے سوالات پوچھیں گے بہرحال آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ پانامہ کے فیصلے کے بعد ٹاک شوز میں بیٹھنے والا ہر شخص خود کو ’’جج‘‘ سے زیادہ اہمیت دینے لگا ہے۔ پہلے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر تبصرے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی۔ بس اسے تسلیم کرنا ہوتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ ایک چینل پر ہم نے سنا کہ حکومتی وکیل اکرم شیخ فرما رہے تھے کہ میں بوجوہ خرابی صحت ملک سے باہر تھا۔ اینکر نے جب فیصلے کے بارے سوال کیا تو اکرم شیخ کہتے ہیں کہ جن دو جج صاحبان نے اختلافی نوٹ لکھام وہ میری نظر میں مناسب نہیں وہ ایسے کر لیتے ویسا کر لیتے…؟ اقتدار کی ہوس میں ہمارے ہاں پہلے بھی گندی ترین سیاست کی جاتی ہے۔ پانامہ کے فیصلے کے بعد تو ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملے کرنے میں تمام اخلاقی حدیں ہی پار کر لی گئیں۔ ذرا شرم وحیا والی کوئی بات ہی نظر نہیں آ رہی۔ عوامی مسائل اور ملکی سلامتی کسی کے بھی نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی حکومت کے پاس اقتدار نہیں چاہئے یہ اپوزیشن کو ملنا چاہئے ۔ وزیر قانون رانا ثنا کے انداز گفتگو سے پہلے بھی سبھی واقف ہیں اور ماڈل ٹائون واقعہ میں ان کی ’’کارکردگی‘‘ آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟ اب ڈان لیکس کی رپورٹ کافی دیر کے بعد آ ہی گئی جسے آرمی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے حالانکہ اس کے لئے پرویز رشید اور اب طارق فاطمی اورایک افسر کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ مگر کہا جاتاہے کہ اصل ’’مجرم‘‘ کوئی اور ہے؟ اور وہ شاید کبھی بھی منظر عام پر نہ لایا جائے۔ اسے بچانے کی کوششیں ہیں۔ رائے ونڈ میں وزیراعظم کی نواسی کی شادی پر ’’مودی‘‘ کا آنا ابھی خبروں میں تھا کہ ’’جندال‘‘ کی مری میں وزیراعظم صاحب سے خفیہ ملاقات سامنے آ رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد نے پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی۔ ایم کیو ایم کے ’’را‘‘ سے تعلقات ثابت ہیں۔ موجودہ حکومت خاموش؟ کلبھوشن پکڑا گیا۔ سب کچھ تسلیم کیا اس نے مگر حکومت خاموش؟ وہ تو آرمی کورٹ نے اسے سزائے موت سنائی مگر حکومت کی طرف سے زبانیں بند ہیں؟ ’’جندال‘‘ اور ’’مودی‘‘ کا ہمارے ہاں کھلم کھلا آنا جانا اور ہمارے حکمرانوں کا کشمیریوں اور کشمیرکے بارے میں رٹے رٹائے فقرے بولنا؟ یہ سب کیا ہو رہاہے؟ ملکی سلامتی کے ذمہ دار ادارے بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں؟ یہاں تو یہ ذاتی دوستیاں اور تعلقات نبھائے جا رہے ہیں۔ ملکی سلامتی اور خودداری کی کس کو فکر ہے؟ ہمارے ایک بزرگ اور بڑے بھائی حاجی بشیر نے ایک بڑے کام کی بات بتائی کہنے گئے شاہ صاحب ایک میراثی (بھانڈ) نے کافی عرصہ قبل کشمیر کا فیصلہ کر دیا تھا۔ اس نے کہاتھا کہ ’’کشمیر بھارت کا اور کشمیری ہمارے‘‘ بڑی معنی خیز بات ہے۔ جب ’’ذاتی‘‘ تعلقات کو ترجیح دی جائے گی تو کشمیر ایک خواب ہی رہے گا۔ بہرحال پانامہ کے فیصلے کے بعد عجیب سی صورت حال بن گئی ہے۔ عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ سزائیں صرف غریبوں کے لئے ہوتی ہیں۔ عام آدمی کی کرپشن کی بات ہو تو نیب، ایف آئی اے، پولیس جیسے ادارے چھلانگیں مارتے میدان میں جاتے ہیں اورایک عام آدمی کی طرف سے نہ کی جانے والی کرپشن بھی سامنے آ جاتی ہے اور جب ’’بڑے‘‘ لوگوںکی بات ہو تو کمشن اور جے آئی ٹی بنا دی جاتی ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ ایک تقریب میں فرما چکے ہیں کہ ’’بار ثبوت درخواست گزار پر نہیں ہونا چاہئے‘‘ دیکھنا ہے اب پانامہ کیس سے مزید کیا برآمد ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت کی بدقسمتی ہے کہ چار سال میں عوامی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کر سکی۔ ’’پانامہ‘‘ کو تقویت ملنے کا باعث حکومت کا عوامی مسائل کو نظرانداز کرنا بھی ہے، اگر صرف لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہی حل ہو چکا ہوتا تو ’’پانامہ‘‘ لوگوں کی بلا سے؟ مگر آج تک لوڈشیڈنگ کے بارے میں عابد شیر اور خواجہ صاحب لوڈشیڈنگ ’’ڈرامے بازیاں‘‘ ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں تک زرداری کی سیاست کا تعلق ہے وہ تو اب چلے ہوئے کارتوس کی مانند ہے۔ فارسی کا مقولہ ہے جس کا ترجمہ ہے…’’آزمائے ہوئے کو بار بار آزمانا بے وقوفی ہے‘‘ اللہ حکومت کو ملکی عوامی مسائل اور ملکی سلامتی کے بارے زیادہ فکر مند ہونے کی توفیق دے۔آمین۔