مومنہ… حدود وقت سے آگے

کالم نگار  |  رخسانہ نور
مومنہ… حدود وقت سے آگے

جب میری مومنہ سے پہلی ملاقات ہوئی تو اسے موجود سے ناموجود کا سفر اختیار کئے چار برس ہو چکے تھے اور میں اسکے وجودیت کے فلسفے کو اپنے اندر اتارتے ہوئے اسے اپنے آس پاس محسوس کر رہی تھی۔ اس کی دل آویز مسکراہٹ‘ دھیمی دھیمی مدلل گفتگو‘ فقیرانہ عاجزی‘ صوفیانہ وجد‘ اپنے ہونے کی دھمال میں میرے یقین کو اور بھی قوی کر رہا تھا۔ نیویارک کوئنز کے علاقے میں‘ میں جوں جوں اسکے گھر کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی‘ دیواروں پر آویزاں اسکی تصاویر اسکی معصومیت سے لیکر علم و دانش‘ فکر و فلسفہ اور دین مذہب تک کی تمام تر نرم خو پرتوں سے متعارف کروا رہی تھیں۔ طیبہ ضیاء چیمہ جیسی درویش‘ لیکن بہادر عورت سے ان دیکھے احساس کے بندھن میں بندھی ایسی ملاقات نصیب میں ہوگی میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ مومنہ کو چومنے کیلئے اسکا جسم ہونا لگن اور چاہ کی منازل کیلئے ضروری کہاں تھا۔ زرہ اپنی اکائی میں ضم ہوکر زماں و مکاں کی حدود پھلانگ چکا تھا۔ جبھی تو طیبہ جی نے میرے لئے جو ٹھکانہ بنایا وہ مومنہ کی سٹڈی تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلتے ہی سامنے دیوار پر اسکے روحانی مرشد علامہ اقبال کی فکر میں ڈوبی آویزاں تصویر سے مومنہ کی سوچوں کے محور سے آشنائی شروع ہو جاتی ہے۔ دائیں دیوار کے ساتھ چھت تک بنا بک شیلف قانون اور فلسفے کی کتابوں سے لبا لب‘ بائیں جانب رائٹنگ ٹیبل اور درمیان میں کمسنی میں ممتا کا ایک عکس جس میں اپنے چھوٹے بھائی سعید کو گود میں اور فرید کو پہلو میں بٹھائے وہ بڑے غور سے کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے کسی اور ہی دنیا کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ داتا کی ملنگنی ماں اور حرص سے کوسوں دور راست باز باپ کی انگلی تھامے مومنہ نے پاکستان‘ سعودی عرب اور امریکہ میں اپنے تعلیمی زینے طے کرنا شروع کئے تو یہ طیبہ جیسی طاہرہ کو ہی پتہ نہ چلا کہ وہ کب اس سے بہت آگے نکل گئی۔ مومنہ نے روحانی مرشدوں سے گفتگو کیلئے فارسی‘ عربی‘ اردو اور پھر جرمن زبان اور انگریزی تو جیسے اس کی اپنی زبان ہو‘ زبان تو وہ بلھے شاہ کی بھی سمجھتی اور بولتی مگر رومی کے اثر تلے جھوم جھوم جاتی۔ اسی وجد نے اپنی ذات سے نکل کر آفاق اور کائنات میں تمام تر مخلوقات کیلئے دلی کثاقتوں کو کشید کر ڈالا۔ انسانی رویوں کی طہارت اعتقاد و ایمان کے کامل ہونے میں ہی تھی۔ ذہانت اور فصاحت و بلاغت کو فلسفے کی ریگزار کا راہی بنا کر جب اس سے ڈیوک یونیورسٹی سے جرمن زبان سیکھنا شروع کیا تو گویا تہذیبی اور انسانی فلاحی رویوں اور اصولوں کے مروجہ تانے بانوں میں اسکی سوچ کے اپنے رنگ ابھرنے لگے۔ پھر جرمنی کی لیونبرگ یونیوسٹی تک کا سفر اور روحانی مرشد کی اڑان کو محسوس کرنے کیلئے ہیڈل برگ یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے ہال میں ٹہلتے ہوئے شاید اس نے پنکھ پھیلائے ‘ زمین پر پائوں جمائے جمائے اڑانیں بھرتے ہوئے اپنے والدین کو اقبال کے وہ سارے جذبات جو ان کے جرمن فلاسفر گوئٹے اور نطشے کے بارے میں تھے۔ یوں بتاتی چلی جارہی تھی جیسے کہیں ان تینوں کی ہمجولی رہی ہو۔ اگلے پڑائو میں ہارورڈ یونیورسٹی سے مشرقی تہذیب و تمدن ہی میں ڈگری حاصل کی۔ ڈگری کے ساتھ تین گلاب کے پھولوں والی شاخ ہاتھ میں پکڑے وہ فطرت کی حسین ترین مخلوق جس کی پیشانی ذہانت و روحانی سیرابی سے دمک رہی ہو۔ یہاںمجھے جدائی کے گھائو میں ڈوبی طیبہ ضیاء کی آواز نے ماہ و سال کے پاتال سے نکالا۔ طیبہ ضیاء چیمہ کہہ رہی ہیں ’’وہ فطرت کی دلدادہ تھی‘ فطرت ہی کا حصہ بن گئی۔‘‘ میری آنکھوں سے سیل رواں نے بتایا میں موجود ہوں اور وہ جو سچ کی متلاشی تھی‘ جزو سے کُل میں مدغم ہو چکی ہے۔ حیرت انگیز طورپر وہ ہر منطق کی گتھیاں لمحوں میں سلجھاتی امریکن اساتذہ کیلئے فخراور دوستوں کیلے مشعل راہ بنتی چلی گئی۔ اسے یقین ہو گیا کہ دنیا سے آمریت‘ ناانصافی‘ غیر مساویانہ معاشرت کی تبدیلی کیلئے قانون و انصاف کی تعلیم ناگزیر ہے۔ ورجینیا کی لاء یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ مشہور جج Fabian کے حوالے سے ہمیشہ کیلئے ’’مومنہ معیار‘‘ کے نام سے یاد کیا جائے۔ بے شک مومنہ کا ظاہر سے غائب ہونا امریکن اپنا نقصان سمجھتے ہیں۔ مومنہ جو اب ورجینیا یونیورسٹی سے نیویارک صرف اس لئے آئی تھی کہ امی اور ڈیڈی سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی‘ لیکن ستر مائوں جتنا پیار کرنیوالا اسے خود میں مدغم کرنے کیلئے بے قرار تھا۔ اسی لئے تو 9 جون 2011ء کی گرم صبح جب وہ اپنی انٹرن شپ کے فرائض کی ادائیگی کیلئے اسی جیل میں گئی جہاں کبھی عافیہ صدیقی بھی تھیں اور اسے امریکہ کی جیلوں میں مسلمانوں کی قیدوبند بے چین کرتی تھی‘ اسی مخمصے میں جب وہ فارغ ہوکر باہر نکلی تو اپنے والد ڈاکٹر اختر چیمہ کو عدالت کے باہر قبرستان کے ایک سایہ دار درخت کے نیچے منتظر پایا۔ وہ حیران ہوئی کہ انہوں نے یہ انتظار کی گھڑیاں کسی کیفے میں کافی کے سپ لیتے ہوئے کیوں نہیں بتائیں۔ قدرت اشارے دے رہی تھی! پھر اگلے ہی دن 10 جون کی ایک اور تپتی دوپہر میں جب اس نے اپنی دوست کیتھی کو پک کرنے کیلئے قدم گھر سے باہر نکالا تو ممتا نے راہ روکی۔ ’’بیٹا کچھ دیر آرام کر لو۔‘‘ لیکن Death qco ریسٹورنٹ میں اس کا آخری دانہ دنکا اسے بلا رہا تھا۔ لمحوں میں منظرنامہ بدل رہا تھا۔ شدید حبس اور گھٹن کے بعد آسمان پر گھنے بادل چھائے‘ طوفان اور آندھی نے کہا کہ ’’بس آج میں ہی ہوں‘‘ اور انتہائی محتاط ڈرائیور مومنہ چیمہ جس کو اپنے نانا ضیا ء چیمہ سے دھیرج وراثت میں ملا تھا‘ جانے کیسے طوفان اڑا کر اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ پل ہی پل میں فنا اور بقاء کی گتھیاں سلجھ گئیں‘ لیکن طیبہ ضیاء چیمہ اور ڈاکٹر اختر چیمہ کو ایک ناقابل برداشت درد میں مبتلا کر گئیں۔ میں نے صوفی مومنہ سے اسکی سرسبز حسین آرام گاہ پر بھی ملاقات کی۔ یہاں بھی اسکے والدین صبر کا دامن تھامے ہوئے تھے۔ میرا بیٹا شاہ ظل نور مومنہ آپی کے پسندیدہ گلاب اسکے سرہانے رکھ رہا تھا اور میں اپنی چیخوں کو سینے میں قید کرنے کی ناکام کوشش میں طیبہ سے ذرا اوٹ لئے سورۂ یٰسین پڑھتے دوپٹے کے پہلو سے آنسو صاف کررہی تھی۔ وہ جو صرف ایک برس قبل بلھے شاہ کے دربار سے صوف لیکر اقبال کے مزار سے ہوتی ہوئی داتا صاحب کے لنگر تک اپنی دوست کیتھی کو لے آئی تھی اور کیتھی کہہ رہی تھی کہ ’’ایک داتا دربار امریکہ میں بھی ہونا چاہئے کیونکہ اب امریکہ میں بھی بہت ’’ہوم لیس ہیں۔‘‘ آنسو درد اور کرب سے بہت پہلے ایک ایک طمانیت ہی روح کو سیراب کرتی ہے کہ پاکستان کی بیٹی کا اعزازدیکھئے‘ امریکہ کی نامور لاء یونیورسٹی‘ یونیورسٹی آف ورجینیا نے مومنہ چیمہ سکالر شپ کا اہتمام کیا ہے جو صرف ان امریکی سٹوڈنٹس کو ملے گا جو اسلامی قانون و ثقافت کی تعلیم حاصل کرنا چاہیں گے۔