چاچا پریشان اور پیارا پاکستان

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین

ہم آج تک چاچے پریشان کے اس نام سے ناواقف ہیں، جو ان کے گھر والوں نے رکھا تھا۔ ہم انکے اسی نام پر اکتفا کرتے ہیں، جس پر باہر والوں نے مہر تصدیق ثبت کر رکھی ہے۔ یوں تو زندگی میں ہر شخص کو مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن چاچا پریشان کے بارے میں ہر وقت دھڑکا سا لگا رہتا ہے تو ان سے ملتے ہوئے یہی دعا ہونٹوں پر آ جاتی ہے کہ خدا چاچا پریشان کو کسی نئی پریشانی سے محفوظ رکھے۔
اک دن چاچا پریشان سے ملاقات ہوئی۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں غضبناک آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ آپ کی آنکھیں کس تجربہ سے دوچار ہوئی ہیں؟ چاچا پریشان کے دوست، جو ہمارے ساتھ ہی کھڑے تھے، کہنے لگے : چاچا پریشان کل سیر کرنے ایک پارک میں گئے تھے انہوں نے اپنے پورے جسم کو سیر کی تکلیف نہ دی صرف اپنی دو آنکھوں کو آتی جاتی خواتین کے چہروں پر گھما گھما کر سیر کرائی۔ چاچا جی سارا دن اپنی آنکھوں کو منور کرتے رہے۔ ان کی آنکھیں خواتین کے چہروں پر دوڑ دوڑ کر کافی تھک چکی ہیں اور آج چھٹی کا دن منا رہی ہیں۔
ہم نے چاچا پریشان کو مختلف پریشانیوں میں گِھرا دیکھا ہے ایک دن چاچا جی سے ملاقات ہوئی۔ دائیں بازو پر پلستر بندھا ہُوا تھا اور گلے میں سفید پٹی کا ہار بنا کر بازو کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی تھی۔
چاچا پریشان اس قسم کی پریشانیوں کے خوگر ہو چکے ہیں اور نہایت زندہ دلی سے اپنی پریشانیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ہم نے پوچھا تو فرمانے لگے، میں آج تک جس شخص کے بازو کو اس کے گلے کا اسیر دیکھتا تھا، ہنس پڑتا تھا اب مجھے بھی اس تکلیف اور پریشانی کا تجربہ ہو گیا ہے بلکہ مجھے اس شارپ ہینڈ کا تجربہ ہو گیا ہے۔ ہم نے پوچھا ”چاچا جی! نصیبِ دشمناں! آخر ہوا کیا ہے؟“ چاچا جی نے بتایا کہ کل آپ کی بھابی نے حکم دیا کہ پنکھے میل سے کالے ہو رہے ہیں انہیں صاف کرنا ہے۔ میں نے سٹول صوفے پر رکھا اور چھوٹے بیٹے سے کہا کہ تم سٹول تھام کر رکھو میں پنکھا صاف کئے دیتا ہوں۔ میں پنکھا صاف کرنے میں محو تھا میرے بیٹے کے ایک ہاتھ میں موبائل تھا، جس پر وہ گیم کھیل رہا تھا اور اپنے دوسرے ہاتھ کو سٹول پر بے دلی اور بے دھیانی سے دھر چھوڑا تھا، جب میں فرش پر دھڑام سے گرا تو بیٹے نے مجھے پکڑنے کی بجائے سٹول کو زور سے پکڑ لیا۔
چاچا پریشان پیدل جا رہے ہوں تو ان کے پاﺅں تلے کیلے کا چھلکا ضرور آئے گا۔ سیڑھیوں سے متعدد بار گر کر ہسپتال جا چکے ہیں۔ غسل خانے میں گرنے کے فن سے خوب آشنا ہیں، کہتے ہیں کہ صابن غسل خانے کے فرش کے ساتھ مل کر مجھے گرانے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ چاچا پریشان جس رکشے میں بیٹھتے ہیں وہ رکشا ضرور الٹ جاتا ہے، وہ جس ویگن میں سفر کرتے ہیں، اس ویگن کی چھت نیچے اور ٹائر اوپر ہو جاتے ہیں۔ کاروبار میں انہیں اکثر گھاٹا پڑتا رہتا ہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہر پریشانی اور ہر مصیبت کا تجربہ ہے۔
ہم جب چاچا پریشان کو متواتر پیش آنے والی پریشانیاں اور مشکلات دیکھتے ہیں تو ہماری نگاہوں کے سامنے اپنے پیارے پاکستان کی تصویر آ جاتی ہے۔ کون سی آفت، کون سی مشکل اور کون سی پریشانی ہے، جو پاکستان کو پیش نہیں آتی۔ پاکستان پر روز قیامتیں گزرتی ہیں، کبھی کوئٹہ میں دھماکہ ہو جاتا ہے، کبھی قائداعظم کی خوشبو سے معطر اقامت گاہ (زیارت) کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے کبھی خیبر پی کے میں دھماکے ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں تو انسانوں کو گولیوں کے نشانوں میں رکھ لیا گیا ہے۔ ہمارے علم میں اس وقت آتا ہے، جب خودکش حملہ ہو جاتا ہے اور حملہ آور کی کھوپڑی نشانی کے طور پر مل جاتی ہے۔ پاکستان کو زخم لگانے کیلئے حملہ آور پوری طاقت، پوری مہارت اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کرتے ہیں اور سو فی صد نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اتنے برس ہو گئے زخم لگواتے ہوئے، ہم نے آج تک حملہ آوروں کو زندہ کھوپڑیوں سمیت کبھی نہیں پکڑا۔ تنخواہ دار جس طرح ہر دو تاریخ کو پہلی کا انتظار کرتا ہے اسی طرح ہم ایک دھماکے کے بعد دوسرے کا انتظار کرتے ہیں۔ پاک فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئیے ہیں مگر اب پاک فوج کے شیر جوانوں کو 1965ءمیں چونڈہ والے محاذ کی طرح منصوبہ بندی کر لینی چاہئے تاکہ زخم زخم وطنِ عزیز سُکھ کا سانس لے۔ ہماری منزل اب کھوٹی کی جا رہی ہے، صدر مشرف کے کیس کو جہازی سائز کے پنکھوں سے ہَوا دی جا رہی ہے ماضی کی لکیر لگا کر چَھڑیاں اور سوٹے مارنے سے زمین سے مٹی اڑے گی۔ صدر مشرف نے بہاردی اور غلط فہمی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے شاید سوچا ہو کہ وہ بھٹو صاحب جیسے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ صدر مشرف کے حوض میں مراعات کا غسل کرنے والوں کو اب سانپ سونگھ چکا ہے۔ ہمیں چاچا پریشان اور اپنے پیارے پاکستان کی تصویر ایک سی دکھائی دے رہی ہے۔