صدر مرسی بھی مسٹر ایکس کو نہ پہچان سکے

کالم نگار  |  محمد مصدق

مشرق وسطیٰ میں مسلمان حکمرانوں اور حکومتوں کو زیر و بم کرنے والی تحریک بہارِ عرب عرف ”بربادی¿ عرب“ جاری ہے۔ اس تحریک میں مغربی اقوام نے مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کو کمزور کرنے کیلئے عوامی تحریکوں کا نیا جنگی ہتھیار کا کامیابی سے تجربہ کیا ہے اس طریقے سے خرچہ بھی کم آتا ہے اور کوئی ملک بدنام بھی نہیں ہوتا کہ عوام جمہوریت چاہتے ہیں اور مغرب اپنے ممالک میں تو آمریت کا قائل ہے اگر وہاں ”وال سٹریٹ پر قبضہ کرو“ تحریک چلتی ہے تو اس تحریک کو ایک ویران علاقے میں شفٹ کر دیا جاتا ہے اور پھر ان افراد کے خلاف کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں جو انہیں چندہ دیتے ہیں اس طرح ایک سال کے بعد تحریک وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے خود ہی دم توڑ دیتی ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے ممالک میں عوامی تحریکوں کی لگائی ہوئی آگ کو نہ صرف تیل سے بجھایا جاتا ہے بلکہ حکومت مخالفوں کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جتنے ممالک میں بہارِ عرب عرف بربادی¿ عرب کی تحریک چلی وہاں نہ صرف کوئی مضبوط حکومت قائم نہیں ہونے دی جاتی بلکہ عوام کے مسائل میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ان کی مت ماری جاتی ہے کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے۔
مصر میں تازہ ترین فوجی انقلاب اس کی تازہ مثال ہے جہاں صدر مرسی کو صرف اس جرم پر ہٹا دیا گیا کہ ان کا تعلق اخوان المسلمین سے ہے جو ایک اسلامی ذہن کی سیاسی جماعت ہے اور یہی صدر مرسی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ حالانکہ مغربی اصولوں کے مطابق ان کا انتخاب کھلے انتخابات کے ذریعے سے ہوا۔ سابق صدر حسنی مبارک کا تختہ بھی بہت شاندار پلاننگ کے ساتھ الٹا گیا تھا۔ تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے کہ صدر حسنی مبارک اس وقت اقتدار میں تھے جب وکی لیکس کے پیپرز آﺅٹ ہوئے اور ان میں بالکل صاف صاف مصر کے صدر کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش تفصیل سے بیان کی گئی تھی یہاں تک کہ سال کا انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ کس سال حسنی مبارک کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔ وکی لیکس کے پیپرز کے مطابق قاہرہ سے امریکی سفارتخانے نے واشنگٹن کیبل بھیجی کہ ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جس کا نام افشا نہیں کیا جا سکتا اس لئے اس کا نام مسٹر ایکس لکھا جا رہا ہے۔ مسٹر ایکس نے بتایا ہے کہ اس کے گروپ نے 2011ءمیں صدر حسنی مبارک کو تخت سے اتارنے کا انتہائی جامع پروگرام ترتیب دے دیا ہے افسر شاہی سے لیکر پولیس تک ہمارے ساتھ شامل ہو چکی ہے لیکن صرف ایک ”مضبوط ادارہ“ ساتھ دینے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔ واشنگٹن سے جواب آیا کہ اس نوجوان اور اس کے دو چار ساتھیوں کو واشنگٹن بھجوایا جائے، وہاں جب پورا منصوبہ سُنا گیا تو اس کی کامیابی میں کوئی کمی نظر نہیں آئی صرف ایک کمی جس کا مسٹر ایکس نے ذکر کیا تھا اسے پورا کرانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ چنانچہ منصوبہ کی کامیابی کیلئے جو وسائل درکار تھے وہ مہیا کر دئیے گئے اور اس آئیڈیا کو کچھ دوسرے ممالک میں بھی آزمانے کا فیصلہ کیا گیا، آئیڈیا سپرہٹ گیا۔ میدان التحریر کے منظم اجتماع اور مغرب کے پریشر اور دھمکیوں نے صدر حسنی مبارک کو مجبور کر دیا کہ اقتدار کے مزے چھوڑ کر جیل کی صعوبتیں برداشت کریں۔ یہاں ایک اور دلچسپ تاریخی نکتہ بھی انجوائے کرنے کیلئے موجود ہے کہ جب بہارِ عرب عرف بربادی¿ عرب کی تحریک شروع ہوئی تو اردن میں بھی پہلے دن مظاہرے اور اجتماعات ہوئے اور سی این این نے ٹیلی کاسٹ کئے تو فوراً حکم ملا کہ اردن میں تو ہماری اپنی حکومت ہے وہاں مظاہروں اور اجتماعات کا کیا کام ہے چنانچہ اردن کو بربادی¿ عرب کی فہرست میں سے نکال دیا گیا۔
صدر مرسی کو جب گزشتہ ہفتے فوج نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا اور تین دن پہلے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا تھا کہ یہاں تو احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کریں یا پھر نتیجہ بھگتنے کیلئے تیار ہو جائیں، صدر مرسی نے نوشتہ¿ دیوار پڑھنا تو دور کی بات ہے انہوں نے تو دو فرانسیسی صحافیوں کی معروف کتاب ”دی مین آن دی ہارس بیک“ بھی پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں فوج بار بار اقتدار پر شبِ خون مارتی رہے گی کیونکہ دنیا میں بقول اقبال :
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مناجات
پاکستان کے بڑے بڑے ”دانشور“ بھی اس زعم میں مبتلا ہیں کہ پاکستان میں آئندہ کبھی فوج اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گی۔ اگر منتخب حکومت عوام کو خوش نہیں رکھے گی اور ان کے مسائل حل نہیں کرے گی، سیاسی افراتفری کے کلچر کو پروان چڑھائے گی، عوام کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کرے گی اور انصاف فراہم نہیں کرے گی تو پھر مصیبتوں کے مارے عوام نے امید بھر نظروں سے کسی طرف تو دیکھنا ہے۔