زمینی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ سے ماڈل ٹاﺅن تک

کالم نگار  |  بیدار سرمدی

اگر ایسا ہو گیا تو بہت کچھ ہو جائے گا۔ عدالتوں پر کچھ بوجھ کم ہو گا۔ تھانوں میں ایف آئی آرکا اندراج گھٹے گا۔ دیہی اور کسی حد تک شہری زندگی میں گھٹن کا خاتمہ ہو گا۔ جی ہاں اگر ایسا ہو گیا تو۔۔۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پر صوبہ پنجاب میں جون2014 تک تمام لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔ پنجاب کے 35 اضلاع میں سے 12 اضلاع منڈی بہاﺅالدین، حافظ آباد ،لودھراں، جہلم ، نارووال، سیالکوٹ، جھنگ ، ننکانہ، چکوال، اٹک، گوجرانوالہ اور ملتان میں تو لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد لوگوں کی دسترس میں ہے۔ زمینی حقائق تو ان اضلاع کے لوگ ہی بتا سکتے ہیں لیکن سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو ندیم اشرف نے چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اسلم کو یہی بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے تو بریفنگ میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ ان اضلاع کے لوگ اپنی زمینوں کا لین دین کمپیوٹرائزڈ طریقے سے ہی کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور، شیخوپورہ، قصور، بہاولپور، گجرات، لیہ، اوکاڑہ، رحیم یار خان ، راولپنڈی، سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 51 فی صد زمینی ریکارڈ کمپیوٹر میں ڈالا جا چکا ہے اور عنقریب ان اضلاع کے عوام کو کمپیوٹرازڈ ریکرڈ کی سہولت حاصل ہو جائے گی جبکہ باقی 12 اضلاع جن میں فیصل آباد، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، خانیوال، پاکپتن، بہاولنگر، خوشاب، وہاڑی، راجن پور اور بھکر شامل ہیں جون 2014ءتک اس منصوبے کی تکمیل کا حصہ بن جائیں گے۔ اس طرح لوگ زمین کے لین دین، رہنمائی اور ریکارڈ کیلئے پنجاب بھر کے136 سروس سنٹروں سے فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ ریونیو حکام کو یہ بھی کہنا ہے کہ اب ہیومن ریسورس، ہارڈویئر اور کوالٹی انشورنس اینڈ مانیٹرنگ ک باعث کوئی پٹواری زمینوں کے ریکارڈ میں ردوبدل نہیں کر سکے گا۔
غالب نے کہا تھا کہ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“سو پنجاب کے عوام کی ہزاروں خواہشوں میں سے ایک بڑی خواہش یہ تھی کہ زمینوں کا نظام کرپشن سے پاک ہو جائے ۔ لاہور کے باسی ”ایل ڈی اے“ میں کرپشن کے ہمیشہ شاکی رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دیانتداری کی شہرت رکھنے والے افسر احد چیمہ کو ایل ڈی اے کا چیئرمین مقرر کیا۔ ان کے مختلف ٹارگٹس میں سے ایک ٹارگٹ ایل ڈی اے کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرانا بھی تھا مگر شاید درمیان میں عام انتخابات کے دوران ان کے تبادلے یا اندرونی مافیا کے باعث ایل ڈی اے کا ریکارڈ ابھی تک ہوا میں معلق ہے۔ جب ایل ڈی اے پلازہ یا کسی ایسی جگہ آگ لگتی ہے جہاں ایل ڈی اے کا ریکارڈ بھی ہو سکتا ہے تو لوگوں کے دل زور زور سے دھڑکتے ہیں۔ افواہیں جنم لیتی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اور لیڈر میاں محمود الرشید کی طرف سے تحریک التوا کی گنجائش نکلتی ہے۔
ایل ڈی اے کا دوبارہ چارج سنبھالنے والے احد چیمہ کو بھی کوئی تاریخ دینی چاہئے جب ایل ڈی اے کا زمینی ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ ہو کر عوام کے اعتماد کا باعث بنے گا اور ہزاروں جعلی پلاٹوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی اگر لاہور میں ڈی ایچ اے کا ریکارڈ قابل بھروسہ بن سکتا ہے تو ایل ڈی اے کا کیوں نہیں بن سکتا۔
زمینوں کی بات چلی ہے تو میاں شہباز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اسلم کی توجہ ماڈل ٹاﺅن سرگودھا کی گزشتہ20 برس سے زائد عرصہ سے زبوں حالی اور زمینی گھپلوں کی طرف دلانا ضروری ہے۔ سرگودھا میں آشیانہ سکیم سے کچھ فاصلے پر امپرومنٹ ٹرسٹ سرگودھا (جو سرگودھا کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہے) کی سرکاری انتظام میں بنائی گئی سکیم سرگودھا کے عوام سے مکمل رقم، سوئی گیس چارجز لینے کے باوجود برسوں سے گھپلوں کی نذر ہے۔ کسی کو نہ قبضہ دیا جا رہا ہے نہ سکیم آباد ہوئی ہے۔ 1991ءکے بعد کئی ڈپٹی کمشنر تحصل ناظم (جو اس کے انچارج تھے) آئے اور گئے۔ کروڑوں روپے عوام سے وصول کر کے ٹرسٹ پلازہ اور ٹرسمٹ کی دوسری سکیموں پر خرچ کرنے کے بہانے ہضم کر لئے گئے چونکہ اس فراڈ میں سرگودھا کے کئی سیاستدان ملوث ہیں۔ کئی حکام پکڑ میں آ سکتے ہیں اس لئے کوئی میاں شہباز شریف کو نہیں بتاتا کہ ماڈل ٹاﺅن سرگودھا کے سینکڑوں الاٹیوں کو پلاٹوں کا قبضہ کیوں نہیں دیا جا رہا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ لاہور سے سرگودھا میں داخلہ کیلئے برسوں سے جس ٹول ٹیکس سے گزرنا پڑتا ہے اس کا نام ہے ”ماڈل ٹاﺅن ٹول پلازہ“۔