رمضان المبارک-- نیکیوں کا موسم

کالم نگار  |  مسرت قیوم

اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے پر رحمت کے نزول کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اس کے قلب و دل کو صراط مستقیم کی جانب موڑ دیتا ہے، نیکی کے راستے پر گامزن کروا دیتا ہے یہی لوگ پھر دُکھی انسانیت کی خدمت پر مامور فرما دیئے جاتے ہیں۔ انہی نیک لوگوں میں سے کچھ لوگ روحانی بیماریوں کے علاج کیلئے مسجدیں تعمیر کرواتے ہیں کچھ جسمانی بیماریوں کے تدارک کے لئے ہسپتال، ڈسپنسریاں بنواتے ہیں۔ یہ فلاح وبہبود کے ادارے باقی لوگوں کے لئے مثال بن جاتے ہیں اور نیکیوں کے باہم اشتراک کی نادر مثالیں، ایسی ہی ایک سالانہ محفل خواتین ”حجاز ہسپتال“ میں منعقد ہوئی مہمان خصوصی نہایت قابل احترام قاضی حسین احمد مرحوم ومغفور کی ہونہار دانشور بیٹی سمیعہ راحیل قاضی تھیں۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت بریرہ شہزادی کو حاصل ہوئی۔ حمد باری تعالیٰ کا شرف لمیس فاروق کو ملا ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مسز واسعہ فاروق نے انجام دیئے جو بہت ہی ہر دلعزیز مذہبی، روحانی شخصیت پروفیسر مزمل احسن کی دختر نیک اختر ہیں۔ پروگرام کی صدارت چیئرپرسن حجاز ہسپتال مسز تسلیم فردوس نے کی۔ تقریب کے انعقاد اور انتظامات کی جملہ ذمہ داری مسز خالدہ طارق کے سپرد تھی۔ اس موقع پر رمضان المبارک کے حوالے سے مختلف مضامین اور زکوٰة کی اہمیت، ادائیگی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی خواتین نے بڑھ چڑھ کر عطیات دیئے ہسپتال کی تقاریب کی ایک خاص پہلو خوبی یہ ہے کہ ہر تقریب کا میزبان کوئی نہ کوئی ڈونر ہوتا ہے۔ اس تقریب کی میزبانی بھی پچھلے کئی سالوں کی طرح حجاز ہسپتال کے صدر سہیل اقبال وہرہ کی والدہ محترمہ تھیں۔ انہوں نے اپنی بہو کے ساتھ مل کر ایک لاکھ روپے کا عطیہ بھی ہسپتال کو مرحمت فرمایا۔ بانی و پراجیکٹ ڈائریکٹر حاجی انعام الٰہی اثر کے لگائے ہوئے اس درخت کو پروان چڑھانے میں بھی زیادہ حصہ حاجی انعام الٰہی اثر کی اپنی ذات مبارکہ اور ان کی فیملی کو ہی جاتا ہے۔ یقیناً سہیل اقبال، وحید فیملی اور انعام الٰہی اثر جیسے لوگ ہی نیکیوں کے فروغ کیلئے دوسروں کے سامنے مشعلِ راہ ہوتے ہیں۔ میری اپنے تمام بھائیوں، بہنوں، قارئین سے التماس ہے کہ وہ رمضان المبارک کے مبارک موسم میں دل کھول کر عطیات دیں کہنے والے نے خوب کہا ہے کہ
دُکھ کا جسے احساس نہیں غم کا جسے عرفان نہیں
آپ اسے جو کچھ بھی سمجھ لیں لیکن وہ انسان نہیں
ایک کے بدلے دس دنیا میں اور ہیں ستر عقبیٰ میں
 کار خیر میں دولت کی تقسیم میں کوئی نقصان نہیں۔
 بابا فریدؒ نے فرمایا ....
کوئی بھُل گیا مقصد آون دا....
کوئی کر کے مقصد حل چلیا
ایتھے ہر کوئی فرید مسافر اے
کوئی اج چلیا کوئی کل چلیا
زکوٰة، صدقات، عطیات کے استعمال کا بہترین مرکز شفاف انتظام آئیے ہمارے ہمسفر بنیں اور بے بس، لاچار، غریب لوگوں کے علاج معالجہ کی ذمہ داری کا بوجھ بٹانے میں ہماری مدد فرمائیں۔ برائے رابطہ 0333- 4848001