تجاویز

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

جہاں موجودہ حکومت کے مضبوط شانوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ نظر آرہا ہے وہاں ان کا ذمہ داریوں کے ممکنہ کوششوں کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا جوش و ولولہ بھی اُن کے لب و لہجے سے اور اپنے تجدیدِ عہد کا عزم اُن کی آنکھوں سے جھلک رہا ہے۔ عوام کو پچھلے طویل عرصے سے مصائب و مسائل کے نہ ختم ہونے کا یقین سا پیدا ہو گیا تھا۔ جمہوریت کی سربلندی کے لیے جب عوام نے اپنا بھرپور حق ادا کر کے اپنے بیدار ہونے کا ثبوت دیا ہے تو یہ سیاستدانوں،اکابرین اور جماعتوں کا اولین فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کا چکنا چور ہوا اعتماد نہ صرف زبانی کلامی بحال کریں بلکہ عملاً بھی اس کا ثبوت دیں۔
مختلف صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس دیکھ کے کئی سالوں کے بعد ایسے محسوس ہوا جسیے ہماری قوم میں آج بھی باشعور،مفکر،عالم اور اکابریں موجود ہیںورنہ اس سے پہلے تواسمبلیوں کے اجلاس میں کرسیاں بھی ٹوٹتے دیکھیں اور سر بھی پھٹتے دیکھے،زبان درازی سے لے کر گریبان چاک کرنے تک کا عمل بھی دیکھا اور اسمبلی کی تحقیر و توہین ہوتے بھی دیکھی،مگر جب بُرے وقت کے بعد اچھا وقت آجائے تو بُرا وقت بھول جاتا ہے مگر اُس بُرے وقت میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کا اس نئے وقت میں ارادہ اور اعادہ کیا جاتا ہے تا کہ گزرے وقت کے خون کے چھینٹے اُبھرنے والے نئے دنوں کے دامن نہ رنگ دیں۔
ڈاکٹر عبدالمالک کے وزیر اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے انتہائی دلپذیرپر اثر اور مسرت کن گفتگو نے طوفانوں میں ہچکولے کھاتی کشتی کو ساحل کا عندیہ دیاتھا مگر اُس کے بعد جو قائدِ اعظم پریذیڈنسی پر اور بولان یونیورسٹی پہ ہوا اُس میں ہماری قومی ثقافت او رتمام حکمتِ عملیوں کی دھجیاں اُڑ گئیں۔ جو نام نہاد بی۔ایل۔اے کے لوگ ہیں وہ یہ نہیں چاہتے کہ صوبے او ر وفاق کے درمیان تعلقات استوار رہیں اور یگانگت پیدا ہو سکے۔ حکومت کا اصل امتحان یہ ہے کہ ان کو ایک خاص دائرے میں لانے اور دھارے پہ چلانے کی سر توڑ کوشش کریں۔
تشہیرِ اسلام کے اوائل دور میں جب لوگ شباب و شراب میں گم تھے اُنہیں بے راہ روی کے راستے سے محفوظ رکھنے اور صراطِ مستقیم پہ چلانے کے لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وا ٓلہ وسلم نے درجہ بہ درجہ اُنب کو طریقے بتائے اور اُن سے عمل کرواتے رہے اور مثال کے لیے خود کو ہمیشہ سامنے رکھا، کسی بھی حکمت عملی کو کامیاب کرنے کے لیے آپ کا اندازِ گفتگو اور کردار بے مثال ہونا چاہیے۔ قیام امن اور معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے کے لئے ممکنہ کوششوں میں متعلقہ محکمے کے افسران بالا کا وقت سے لے کر محنت اور ایمانداری تک کا پابند ہونا،مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا،مدعی غریب ہو یا امیر،معاملہ گھر کا ہو یا باہر کا کسی بھی ذمہ دار عہدیدار کا اُس کو قانون کے آئینے اور پس منظر میں رکھ کر فوری طور پر عملدرآمد کرانا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی بد عنوانی سے بچنے کے لیے اور اپنے حکم محکمے کو بچانے کے لیے افسران بالا کا ایک ایماندار کمیٹی تشکیل دینے کے ساتھ اپنے حکام اور عملے میں اتنا اعتماد اور ایمانداری اُجاگر کرنا ضروری ہے۔ جب تک اپنا محاسبہ نہیں کریں گے کسی بھی مسئلے کا مداوا نہ ہو سکے گا۔ نظام ایسا بنایا جائے کہ عام انسان کی پہنچ ذمہ دار افسر تک آسان ہو۔ ہمارے چا راہم ایشوز جن میں سے کشمیر کا مسئلہ،پانی پر قبضہ،سیاچین گلیشئر ،سر کریک کا مسئلہ اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر از سر نو قومی مفادات کا تعین کرنا اہم ہے۔ ایسا فیصلہ جس میں سب کی اتفاقِ رائے ہونا بہت ضروری ہے، اور پھر اس کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بہت ضروری ہے اور بالخصوص یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنا قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ قومی مفاد کا تعین کرتے ہوئے اس نکتے کو زیرِ بحث لانا بھی ضروری ہے کہ بھارت اور امریکہ کا ہمارے نزدیک کیا مقام ہے؟
اگر ہم نے بھارت سے تجارت شروع کر لی تو یہ یاد رکھیں کہ وہ تجارت پہ چھا جائے گا کیونکہ اُس کے پاس ورائٹی اور پروڈکس زیادہ ہیں۔۔۔ویسے بھی قائدِ اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ہندو ہاتھ جوڑ کر جو "رام رام" کرتا ہے تو اُس نے بغلوں میں بہت کچھ چھپایا ہوتا ہے یعنی کہ وہ انتہائی منافق ہے۔ اس لیے یہاں فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ تعلیمی نصاب کو ایسے ایجوکینٹ کی ضرورت ہے جو وطن،مذہب اور قومی زبان سے محبت رکھتا ہو۔ اسمبلیوں میں قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ اردو کا ترجمہ بیان کرنا ہمارے لیے زیادہ اہم ہونا چاہیے بجائے انگریزی ترجمے کے۔اصل میں ہماری مبادیات ایک ہونی چاہئیں چاہے وہ اسلام کے متعلق ہوں شخصیات کے یا سلیبس کے ۔۔۔میڈیا پہ آنے والے حکومتی سیاسی ممبران کو پابند کیا جائے کہ اپنی مخالفت کے اظہار کے لیے "سخت جملے" "توہین آمیز الفاظ" ادا کرنے سے گریز کریں ورنہ اُنہیں پارٹی سے خارج کر دیا جائے گا یا سخت کاروائی کی جائے گی کیونکہ ممبر جو بھی ہو پاکستان کی عزت اس سے وابستہ ہے۔