اپنا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی

بے چینی اور بے یقینی نے ایک ایسا عجیب و غریب ماحول پیدا کر دیا ہے کہ اب کسی بھی سمت سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ایک قصہ پارینہ نظر آتا ہے۔ پوری قوم پر ایک انجانا سا آسیب طاری ہے۔ ہر شخص سہما سہما اور بددلی کی کیفیات نے اسے بے زبان کر دیا ہے۔ بعض اوقات کچھ سانس سکون کے آتے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد پھر حبس شروع ہو جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے آپ کو فراموش کئے ہوئے ہے۔ زبان پر کچھ الفاظ آتے ہیں لیکن پھر زبان بھی بھاری ہو جاتی ہے دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ آنکھیں آنسو بہانا چاہتی ہیں لیکن پتھر ہو جاتی ہیں۔ سب کچھ پتھر‘ احساس پتھر‘ دل پتھر‘ جان پتھر‘ اندر پورا پتھر اور باہر سے پتھروں کی بوچھاڑ‘ حملے کا کوئی وار بھی برداشت نہیں ہو پاتا۔
 گلشن کی بربادی کا سارا معاملہ‘ معاملہ بندی کے فقدان کے سبب سے ہے۔ اتحاد اور یقین کی دولت سے یکسر خالی ملت کا کارواں ہے ہنگم منزل سے ناآشنا نجانے کس ناپسندیدہ سمت کو اپنا مقصود سفر بنائے ہوئے ہے۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
بادل نخواستہ ایک قدم تبدیلی کی طرف بڑھاتے ہیں۔ بدقسمتی کا تھپیڑا بری طرح سے پیچھے کی جانب دھکیل دیتا ہے اور ہم اس بے کسی کا شکار نظر آتے ہیں کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو پہلے سے سازش کی پھیلائی ہوئی کیچڑ میں پا¶ں دھنس جاتے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ کہ ہاتھ کا سہارا دینے والے بڑی صفائی اور چابکدستی سے اور آگے ہی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ ہم بکھر رہے ہیں اور بکھرتے بکھرتے ٹوٹ رہے ہیں۔
سیاست مذہب کی گلی میں اپنے کرشماتی قدموں سمیت مدہوشی کے عالم میں رقصاں ہے اور مذہب کے خیر خواہ کوچہ سیاست میں معجزہ خیرو فلاح تلاش کر رہے ہیںلیکن مذہب نے اپنے علمبرداروں کے ہاتھوں حیران کن محدودیت اپنا لی ہے اور سیاست کے تماشہ بازوں نے مذہب سے ایسی سرد مہری برتی ہے کہ اخلاق اور ضابطہ حیات فقط حرف بے صدا ہیں اور بے چارے سادہ پاکستانی مسلمانوں ایک حبل متین کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ روایتی خرکاروں نے عوام کو کالانعام ہی سمجھا ہے۔ اس لئے ہر بوالحوس نے حسن قرینہ کو اپنی ہوس کا زینہ بتایا ہے۔ سیاست اور مذہب کی یکجائی تو ازبس ضروری ہے ورنہ آج کی تازہ ترین صورتحال میں چگیزیت غالب آرہی ہے۔
جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہوویں سیاست سے تو رہ جاتی چنگیزی
اور شاعر فطرت نے عصر حاضر کے مسائل کی تجزیاتی نقابت میں یہ درست فرمایا تھا اور یہ بات صد فیصد درست ثابت ہو رہی ہے جب نبض وقت سے ناآشنا دوائے دل کا تذکرہ کرتے ہیں تو حیرانگی بھی سرپیٹتی ہے۔ آج تو اسلامستان کیلئے دوائے دل تو اتحاد‘ اتفاق‘ اعتماد اور احساس کے عناصر اربع سے تشکیل پاتی ہے۔ اس دوائے دل میں ایک عنصر بھی کم ہو تو قوم کے اعضائے رئیسہ مبتلائے الم ہوتے ہیں۔
اس لئے سب سے پہلے یہ نسخہ شعور قوم کے ان دماغوں میں اتارنا چاہئے جو زبان و قلم سے خدمات سرانجام دینے والی صفوں میں شامل ہیں۔ ان صفوں کو مرتب کرتے ہوئے بھی کوئی نباض عصر یہ ہدایت ضرور جاری کرے کہ اختلاف کا قرینہ حسن نیت اور جمال کلمات پر مبنی ہو۔ کسی کی نیت پر حملہ نہ کیا جائے کسی کے ذوق عمل کو حرمت کے تیروں کی زد پر نہ رکھا جائے۔ کسی رہ نورد شوق کی منزل کو بدذوقی کے نیزے پر نہ اڑایا جائے۔اہل دل۔ اہل زبان اور اہل قلم محبت کے نغموں کے الاپ میں نفرت کے سازوں کو خاموش کرا دیں۔
تنقید کے نشتروں کو کچھ دیر کیلئے ماضی میں لوٹا دیں تو امن کی تقسیم راحت گلشن وطن کو نہال کر دے گی اور ایک ضروری بات تو یہ ہے کہ مذہب اور مذہب کے اختلافی رویوں کو گلہائے رنگارنگ اور ہر گلے را بوئے دیگر کے آشتوں میں مرتب کرکے سوچیں کئی بار سوچیں تو حسن اختلاف کا ہر زاویہ لولو و مرجان کی طرح دمکتا ہوا نظر آئے گا۔
کون نماز کیسے پڑھتا ہے اور کون درود و سلام کا کونسا پیرایہ اختیار کرتا ہے‘ اس کیلئے خانہ دل کے جذب دروں سے روشنی کلام حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوران نماز ہاتھ کھلے ہوں یا بندھے ہوں‘ حاضری تو اس بارگاہ احدیت مآب کی ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ امت کے اجل محدثین نے درود و سلام کے جو انداز مسنون الفتوں کی قبا¶ں میں لپیٹ کر مومنین کے قلوب آشنا کئے ہیں۔ وہاں تنقید کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے۔اختلاف نماز و درود پر اگر محدود شعوروالے خفیف تنقید کریں گے تو بے شعور اس کو مناظرے کا اکھاڑے بنا لیں گے اور اب تو یہی ہوا ہے۔