”امریکہ کا قومی دن‘ پاکستان پر ایک اور حملہ“

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو

نامعلوم اس عمر میں اور کیا کیا دیکھنا باقی ہے‘ کتنے فتنے ہیں جو شب و روز عیاں ہونے ہیں‘ کتنے گھاﺅ ہیں‘ جو ممکت خداد پر لگنے ہیں‘ کیسے کیسے قبیح اور مکروہ جغرافیائی‘ ثقافتی اور سماجی حملے اس مملکت اسلام پر کئے جانے ہیں۔ نجانے اس پیرانہ سالی میں دل نے اور کتنے چرکے سہنے ہیں‘ اسلامیان پاکستان امریکہ کا سال 2011ءکا قومی دن کبھی بھلا نہ پائیں گے کہ اس دن وہ ملک جو ہمارے شہروں اور سرحدوں پر حملہ آور تھا‘ ہماری تہذیب‘ اقدار اور مذہب پر بھی پل پڑا۔ گزشتہ روز امریکی سفارت خانے نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کا پہلا اجتماع منعقد کرکے سفارتی‘ اسلامی‘ ریاستی اور سماجی اصولوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ سفارتی آداب میں سفارت کاروں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ میزبان ملک کی قوانین‘ مذہب‘ اقدار اور رسومات کا پاس کریں گے۔ ذاتی منکرات اور ممنوعات کو کھلے عام کرنے سے گریز کرینگے۔ مگر یہاں آقاﺅں کا معاملہ الٹ ہے‘ اس طرح تو گورے اپنی کالونیوں میں بھی نہیں کرتے تھے۔
یہ ناپاک جسارت اس ملک میں کی گئی ہے کہ امریکی سروے کے مطابق چالیس فیصد لوگ خلافت‘ تیس فیصد اسلامی جمہوریت اور بیس فیصد لوگ لبرل اسلام چاہتے ہیں۔ آٹھ فیصد آمریت کے حامی ہیں جبکہ صرف دو فیصد مادر پدر آزادی کے خواہاں ہیں اور لگتا یوں ہے کہ ان دو فیصد میں سے بھی ایک فیصد لبرل فاشسٹ دانشور اور اینکر پرسن بن گئے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہیں محافل ناﺅ و نوش و رقص و سرود پر پابندیاں گوارا نہیں۔ جنہیں آزادانہ اختلاط میں رکاوٹ قبول نہیں‘ انہیں مبارک ہو کہ ان کے آقا نے انکی تسکین کا سامان کردیا۔ جمہوریت کے عالمی چیمپئن نے اکثریت کی رائے کے برعکس اس نام نہاد اشرافیہ کو مدد فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے کہ جو اول روز سے ہی اسلامی حدود و قیود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ جناب مجید نظامی اور دیگر نظریاتی اہل قلم کی باتیں ایک مرتبہ پھر درست ثابت ہوئی ہیں کہ اغیار فواحش و منکرات کے ذریعے نوجوانانِ پاکستان کو کھوکھلا کر دینا چاہتے ہیں۔ بے غیرت بریگیڈ جواب دے کہ اس ناپاک امریکی جسارت کی انکے پاس کیا دلیل ہے؟ امریکی وکلاءصفائی بتائیں کہ اب انکے پاس آقاﺅں کی پاکی¿ داماں بیان کرنے کو کونسی حکایت دستیاب ہے؟
آج یورپ اور امریکہ میں وہ تحفہ دینے جا رہے ہیں جس کے باعث انکی اپنی تہذیب کھوکھلی اور غیرمتوازن ہو چکی ہے۔ لندن کے قدامت پسند میڈیا کمپیئن کر رہے ہیں کہ برٹش قومیت کو بچانے کیلئے فیملی سسٹم اور ازدواجی زندگی کی رغبت پیدا کی جائے۔ 60 فیصد نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی اور اولاد کو جھنجٹ سمجھ کر آزادانہ اختلاط میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ تیس فیصد مغربی لڑکے لڑکیاں ہم جس پرستی کا شکار ہو چکے ہیں جو کہ بلاشبہ ایک ذہنی مرض ہے‘ بقیہ دس فصد شادیاں کرتے ہیں جو معدودے چند کامیاب ہوتی ہیں۔ سنگاپور میں قائم این جی او برائے فلاح ہم جنس پرستی ”اوسی“ خود تسلیم کرتی ہے کہ ہم جنس پرست زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ سکولوں سے نکالے گئے مجموعی طلباءمیں سے اٹھائیس فیصد ہم جنس پرست ہوتے ہیں۔ منشیات کے مجموعی استعمال کا تیس فصد یہی لوگ کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ صحت و انسانی حقوق کی رپورٹ کے خودکشی کا زیادہ رجحان ہم جنس پرستوں میں ہوتا ہے۔ دنیا کی مجموعی خودکشیوں کا تیس فیصد یہی افراد کرتے ہیں۔ تو کیا اب امریکہ ہمیں ایسے ذہنی مریضوں کی کفالت کا تحفہ دینے والا ہے؟ یقیناً اسلامیانِ پاکستان اس ناپاک جسارت کو قبول نہیں کرینگے‘ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام‘ سنی اتحاد‘ سنی تحریک اور عمران خان یقیناً سراپا احتجاج ہونگے‘ ہمیں حکومت سے ایک جھوٹی امید ضرور ہے کہ وہ امریکی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کرکے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے اور ملک سے روانہ کرے۔ مگر آقاﺅں کے سامنے جسارت کیسی؟ نعیم صدیقی مرحوم نے تہذیب مغرب کا مرثیہ لکھتے کہا تھا....
دیارِ مغرب ہوس میں غلطاں
شراب ارزاں شباب عریاں
جسے بھی دیکھو غریق غصیاں عصیاں
ہم ایسی تہذیب کیا کریں گے