کشمیر کیلئے ”سیاست“ نہیں فراست!

پروفیسر نعیم مسعود
اقتدار کا نشہ بھی بڑا ہی ظالم ہوتا ہے، جب ہو تو سر چڑھ کر بولتا ہے، جب اُترے تو بھی بندہ بہکی بہکی سی باتیں کرتا ہے۔ سابق وزیراعظم سردار عتیق کی وزارت عظمیٰ کا سورج کیا غروب ہوا، اُس نے سیاستدانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی بجائے آزاد کشمیر الیکشن کمشنر خواجہ محمد سعید پر بے جا تنقید شروع کر دی۔ مانا کہ کچھ روایتی غلطیاں الیکشن کمشن سے بھی ہوئی ہوں گی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صاف گو اور اچھی شہرت رکھنے والے سابق جسٹس ہائیکورٹ و سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر و چیف الیکشن کمشنر خواجہ سعید ہی سردار صاحب کی عبرتناک شکست کا باعث بنے ہیں۔ سردار قیوم کے بعد اب سردار عتیق بھی سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔ سردار فیملی اب یقیناً سوتے جاگتے ان خوابوں اور خیالوں میں ہوتی ہے۔ کشمیر کی حکومت طشتری میں پڑی انکے سامنے ہو اور اسے انجوائے کریں۔ کامیابیوں کو برقرار رکھنے کےلئے کامیابیوں کے حصول سے بھی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے!
حقیقت میں کشمیر الیکشن نے ایک تیر سے دو شکار والی بات کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہاں معاملہ ”ایک تیر سے دو چار شکار“ والا ہو گیا۔ کشمیر الیکشن نے سب سے زیادہ شکار سردار عتیق کو کیا، اسکے بعد پیپلز پارٹی، پھر ن لیگ بھی نہیں بچ سکی اور گہرے اثرات ایم کیو ایم پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ پہلے تو سردار عتیق اس بات کا جواب کشمیری عوام کو دیں کہ باپ دادا سے حکومتیں سنبھالنے والوں کےساتھ آخر ایسا ہوا کیوں؟ ظاہر ہے جب سردار قیوم سے سردار عتیق تک (اور ممکن ہے کہ سردار عتیق تک) اقتدار ہی اقتدار خواہش ہو تو پھر نتائج ایسے ہی ہونگے‘ بلاشبہ مسلم کانفرنس کشمیر میں مسلم لیگ کی نمائندہ جماعت تھی اور مقامی اہمیت رکھتی تھی لیکن جب بھی پاکستان میں آمریت آئی یا جو بھی حکومت آئی مسلم کانفرنس اُسی کی ہو گئی۔ اب تو مسلم کانفرنس کی قیادت الیکشن سے کچھ روز کی وزارت عظمیٰ کےلئے پی پی پی کی بھی ہو گئی تھی۔ اقتدار میٹھا، کڑوا یا بے مزا کوئی بھی اور کسی قسم کا بھی پھل نہ چھوڑنے والی مسلم کانفرنس اگر آج یہ دن دیکھ رہی ہے تو اس میں اس کا اپنا قصور 75 فی صد کے لگ بھگ ہے۔ مسلم لیگ ہو کہ، مسلم کانفرنس اسے بزرگوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے، مسلم لیگ کو تو بالخصوص بزرگی اور دانائی والی جماعت سمجھا جاتا ہے اور یہ ایسی ہے بھی، تبھی آرام سے اسکے ساتھ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان اور مرکزی جمعیت اہلحدیث جیسی مذہبی جماعتیں بھی اتحاد بنا کر چل نکلتی ہیں۔ اسکے اندر ایسی فہم و فراست اور وسعت بھی ہے کہ ایم کیو ایم، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام بھی دامن میں جگہ پا لیتی ہیں۔ مگر ان دنوں مسلم لیگ پر بزرگی کم اور ”جیالا ازم“ زیادہ چھا گیا ہے۔ راجہ ظفرالحق، میاں نواز شریف اور جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کی گفتگو¶ں اور بازگشت سے زیادہ تو مسلم لیگی رانا ثنااللہ اور جوان مسلم لیگی خواجہ سعد رفیق کے شور شرابے ہیں
ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے؟
اول تو سردار عتیق کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں تھے اور میاں نواز شریف کی چھتری تلے آ جانا چاہئے تھا، بڑوں سے معذرت کر لینا انا کا پاش پاش ہونا نہیں بلکہ بڑائی کے زینے چڑھنا ہوتا ہے۔ دوم، میاں نواز شریف کو سردار عتیق کو بہلا پھسلا لینا چاہئے تھا۔ پی پی پی اگر جیتی ہے، تو مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ ن کے ووٹوں کی تقسیم کے سبب۔ آصف علی زرداری بھی اس کامیابی پر زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں، جنکی مرکز میں حکومت ہو، انکی کشمیر میں بھی بن ہی جایا کرتی ہے مگر یہ ہوتی چار ہی دن کی چاندنی ہے۔ بہرحال پی پی پی نے اگر معرکہ سر کیا ہے، تو وجہ میاں نواز شریف اور سردار عتیق خود ہیں اگر ن لیگ، مسلم لیگ والی بزرگی سے اس طرح سرکتی رہی، تو شکستیں مستقبل بھی منہ چڑائے کھڑی ہیں۔ میاں نواز شریف حقیقت کی جانب بڑھیں، اپنے اتحادیوں اور ”اپنوں“ کےلئے دل بڑا کریں مسلم لیگیوں کو اکٹھا کریں ورنہ کامیابیاں سمٹتی جائیں گی اور ناکامیاں پھیلتی رہیں گی۔ انتہائی بُری کارکردگی کے باوجود اگر پی پی پی جیتی ہے، تو اس کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب نہیں ہے کہ، ن لیگ بھی لورز ہے، اس نقصان کی ذمہ دار قیادت ہے اور قیادت کا بزرگوں سے دور ہونا یا رہنا نیک شگون دکھائی نہیں دیتا۔ سیانے کہتے ہیں کہ شکست تسلیم کرنا کھیل کا پہلا اصول ہے۔ سردار عتیق اور ن لیگ شکست تسلیم کر لے کہ انہوں نے ہارے ہوئے لوگوں کو جتوا دیا۔ وہ جیتے نہیں جتوائے گئے ہیں۔
اس بات سے خواص و عوام آگاہ ہیں کہ، ن لیگ، ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن نئے الیکشن کی تیاری میں ہیں، جماعت اسلامی بھی تیار بیٹھی ہے بلکہ جماعت اسلامی عنقریب ن لیگ کی جانب سے لپکنے والی ہے جس کا موقع ن لیگ کو قطعی نہیں گنوانا چاہئے۔ البتہ فضل الرحمن کا ابھی کچا پکا ہے۔ کشمیر الیکشن سے اور اس ہار سے پاکستان کے عام انتخابات تراشے جانے کی سرتوڑ کوشش جاری ہے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اسے سمجھنے کے لئے ابھی مزید دو تین ہفتے درکار ہیں۔ ساری باتیں اپنی جگہ مگر خواجہ سعد رفیق کا یہ کہنا ہے کہ ”آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں فرق کیا رہ گیا ہے وہاں حق خود ارادیت کا فقدان ہے یہاں بھی“ یہ وہ جملہ ہے جو کسی طرح بھی ہضم نہیں ہوتا۔یہ بالغ نظری نہیں کم نظری ہے۔ یہ بات آزاد کشمیر اور پاکستان میں سے کسی ایک کے بھی حق میں نہیں جاتی۔ یہ ری ایکشن ہے ۔۔۔ ری ایکشن! اسی طرح سردار عتیق کا یہ کہنا کہ ”چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کو پھانسی دینی چاہئے“ ایسی بات ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ سردار عتیق کو شکست ان تساہل پسندی اور غرور نے دی ہے، انکے ذاتی سسٹم نے انہیں شکست سے دوچار کیا ہے کسی انتخابی نظام نے نہیں۔ پھر اس بات کا بھی جواب دیں کہ نسل در نسل صدارتیں اور وزارتیں رکھنے والے ان سرداروں نے اپنے ادوار میں الیکشن کمشن کی خود مختاری میں کیا کیا؟ پھر الیکشن جون 2011ءمیں وزیراعظم سردار عتیق تھے، انتظامیہ ان کے ہاتھ میں تھی، انتظامی مشینری یہ الیکشن میں استعمال کرتے رہے۔ ٹیچر یا پٹواری اور دیگر ووٹر لسٹیں بنانے والے انکے ماتحت تھے، اُس وقت یہ کہاں تھے؟ ان کی شکست کا یہ مطلب نہیں کہ سارا قصور ہی الیکشن کمشن کا ہے۔ بحیثیت سیاستدان اور بحیثیت منظم بے شمار غلطیاں سردار عتیق کی بھی ہیں۔ وہ انہیں کیوں بھول گئے ہیں؟
بات چلی تھی کشمیر الیکشن کے ”ایک تیر سے دو چار شکار“ کی۔ ہاں، پہلی بات، سردار عتیق کی سرداری گئی، ن لیگ جیتی مگر وہ بات نہ ہو سکی جو شہباز شریف نے کہا تھا کہ ”آصف علی زرداری کی سیاست کا کشمیر سے جنازہ نکال دیں گے“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ، ن لیگ وہ کر نہ سکی جو کہہ رہی تھی، یہ دوسری بات ہے۔ تیسری بات یہ کہ، پی پی پی کی جیت بھی اس کےلئے باعث بدنامی ہی بنی، اور اس کی بدانتظامی نے عام انتخابات کو قریب تر کر دیا۔ چوتھی بات ایم کیو ایم کی کہ وہ کراچی میں ہر قیمت پر رہنا چاہتی ہے اور کشمیر الیکشن بھی ان کےلئے کراچی الیکشن ہے، وہ شکست سے بچنا چاہتی تھی سو بائیکاٹ کر دیا۔ جس طرح کے حالات و واقعات منظرنامہ پر چھائے ہوئے ہیں اس کےلئے ضروری ہے کہ خود احتسابی سے بھی کام لیا جائے تمام پارٹیاں اپنے اپنے اندر جھانکیں اور یاد رکھیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن کو بین الاقوامی مسئلہ نہ بنائیں بلکہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے حالات و واقعات کو بین الااقوامی سطح پر اجاگر کریں۔ نظریہ پاکستان کو مدنظر رکھا جائے۔ مسلم لیگ اپنی بزرگی اور مقام و مرتبہ کو بروئے کار لائے اور بزرگوں کو قریب تر، ورنہ سیاست سنجیدگی کی پٹڑی سے اتر کر رنجیدگی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کے درپے ہے اور یہ موقع اس بات کا متقاضی نہیں ہے اور سیاست کا امتحان بھی ہے۔ سرداریاں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن اصول اور ملک و ملت سے وفا کو کہیں نہیں جانا چاہئے، کہیں نہیں!
سیاسی منظرنامہ اور سیاستدانوں کی سعی یہ بتاتی ہے کہ کشمیر سے شروع ہونےوالی ”سیاسی جنگ“ کوچہ و بازار میں پھیل چکی ہے۔ پہلے میاں نواز شریف اور بعد ازاں میاں شہباز شریف نے گرینڈ الائنس کی دعوتِ عام دے دی ہے، یہ اچھی جمہوری کوشش ہے اور حق بھی بشرطیکہ اس میں شائستگی قائم و دائم رہے۔ سردار عتیق کی طرح اداروں سے الجھ کر شکست کا بدلہ لینے کی ہٹ دھرمی نہ پالی جائے۔ بیدار مغز لوگ ملک و ملت کےلئے کوشاں ہوں، صرف ملک و قوم کےلئے! اور مسلم لیگی بزرگی اور بزرگوں کا دور واپس لایا جائے۔ ہاں! کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، شہ رگ ہے! امتحانی و سیاسی سنٹر نہیں!