چیئرمین کشمیر کمیٹی اور وزیر امور کشمیر

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

یوں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں، مگر کشمیر کے حوالے سے کام نہ کرنے کے لحاظ سے دونوں میں کافی فرق ہے۔ اسی فرق کے باعث چکوٹھی پر پچھلے دنوں رات بھر بھارتی فوج گولہ باری کرتی رہی۔ لوگوں نے ساری رات گھروں سے دور بھاگ کر بسر کی مگر ہماری وزارت امور کشمیر سے یہ جواب ملا کہ ہم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا یہ جواب کسی کو نظر نہ آیا گویا ترکی خواب میں بول کر دیا گیا۔ شاید اس وزارت کو اس لئے قائم کیا گیا اور ایک ماہر جوڑ توڑ کو اس کا وزیر بنایا گیا کہ وہ اپنی شیریں گفتاری سے من جملہ اور امورِ ناپسندیدہ کے الیکشن کمشن کو بھی آزاد ثابت کرتے ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ پورے پاکستان کی اسمبلیوں کے اکثر ووٹر جعلی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بارہا یہ کہا بھی کہ ان کو نکال باہر کرو مگر پرنالہ الیکشن کرپشن کا وہیں ہے جہاں تھا۔ پوری دنیا میں کمپیوٹرائزڈ ووٹنگ ہوتی ہے جس میں بددیانتی کا امکان نہیں لیکن یہاں ایسا کوئی نظام نہیں اپنایا جا رہا جس کا نتیجہ ہے کہ ہر پھر کر وہی لوگ برسر اقتدار آ جاتے ہیں جو آتے رہتے ہیں۔ کیا وزیر امور کشمیر جو باخبر ہو کر بے خبر ہیں، صرف اس لئے ہیں کہ ان شکوک و شبہات کو دور کریں جو حقیقت ہیں۔ اب جبکہ آزاد کشمیر کے انتخابات ہو چکے ہیں انہیں کیا الہام ہوا ہے کہ وہ بالکل بے داغ تھے بہرحال پیپلز پارٹی کو مبارک ہو کہ وہ انتخابات جیت گئی۔ وزیر امور کشمیر اب پیپلز پارٹی کے ترجمان ہیں۔ مسلم لیگ قاف میں بھی رہے، پنجاب کے چیف منسٹر بھی رہے اور ان کے بقول انہوں نے سیاست یا عہدے کے حصول میں کبھی ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ کیا انہوں نے کچھ کمایا بھی نہیں؟ وہ سیاسی ذہانت رکھتے ہیں اور ایک طویل عرصے سے کبھی سیاست کی اس گلی میں اور کبھی اس گلی، بلکہ ”جس نے لایا گلی اس دے نال چلی“ ان کا یہ بھی فرمانا ہے کہ ان کا ہمیشہ کشمیر پر ایک ہی موقف رہا کبھی بدلا نہیں کیا اب بھی 63 سالہ ناکام مذاکرات کے بعد وہ موقف پر قائم رہنے کو آزادی کشمیر کہیں گے کیا اب بھی صرف زبانی موقف سے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ آزاد کشمیر کے امور کی وزارت نے آزاد کشمیر میں انتخابات ہی کرائے ہیں اور تو کچھ نہیں کیا۔ کشمیر کے حوالے سے دوسرا بڑا نام مولانا فضل الرحمان کا ہے جو ایک طویل عرصے سے آزادی مقبوضہ کشمیر کے امور طے کرنے پر فائز ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا تو کجا اس کارخیر کے لئے اصل محرک اور اسلام کے چوتھے رکن کو بھی نصاب سے نکالنے کا کام شروع ہو چکا ہے جبکہ دنیا سن لے کہ پاکستانی ملت صرف جہاد ہی کے ذریعے اپنی شہ رگ واگزار کرا سکتی ہے۔ کیا اسمبلی میں وہ اس نئے امریکی فتنے کے سدِباب کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائیں گے کوئی عمل سرانجام نہ دیں گے۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور ان کی پاکستان کو آواز دینے پر وہ کان نہیں دھر سکتے۔ موجودہ حالات معلومات ظاہر کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا بزعم خویش اٹوٹ انگ نہ بننے دینے کے لئے اب 63 سالہ بے مقصد مذاکرات اور دنیا بھر کے دباﺅ کے باوجود یہ ضروری اور لابدی نہیں ہو گیا کہ پاکستان کے ہر مسلمان پر چونکہ جہاد فرض ہو چکا ہے اور اسے نصاب سے بھی نکالا جا رہا ہے تو منبر و محراب اور عامتہ المسلمین جہاد کو ازخود منظم کریں تاآنکہ حکومت بھی اس جہادی ریلے کے سامنے مجبور ہو کر اس میں شامل ہو جائے۔ مولانا ایک ایسے عظیم باپ کے بیٹے ہیں جنہوں نے پاکستان مخالف تحریک میں شرکت نہ کی۔ آج ان کے بیٹے کو جو مقام ملا ہے، اس کے تقاضے وہی ہیں جو ان کے والد کے مقام کے تھے۔ مفتی محمودؒ تحریک ختم نبوت کے سالار بلکہ موجد ہو سکتے ہیں۔ تو کیا مولانا فضل الرحمن جہادِ کشمیر کا علم عملاً بلند نہیں کر سکتے یا سرکاری عہدے ہی نبھاتے رہیں گے؟ جہاں وزیر امور کشمیر کی حدود آزاد کشمیر پر ختم ہو جاتی ہیں وہاں سے کنٹرول لائن پار بھارتی ریاستی دہشت گردی کا جواب دینے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ وہ پوری دنیا میں یہ مشن کیوں نہیں چلاتے کہ مقبوضہ کشمیر دو ایٹمی ملکوں کے درمیان ایک ایسا تنازعہ ہے جو پوری دنیا کو تباہی کی لپیٹ میں لے سکتا ہے اس لئے اس سلسلے میں پوری دنیا مل کر اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی طے شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرائیں اور خود اقوام متحدہ بھی اس عالمی خطرے کو بھانپتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان اس تنازعے کا وہ تصفیہ کرائے جس پر نہرو نے دستخط کئے تھے اور یہ بات طے پا چکی تھی کہ مسئلہ کشمیر، کشمیریوں کی رائے کے موافق ہی فیصل ہو گا پھر اس کے بعد نہرو مکر گیا۔ اس لئے کہ اس پر ہندووانہ مکر غالب آ گیا اور یہ مکر اب تک ظلم و بربریت کی صورت وادی کے مالک کشمیریوں کے خلاف جاری ہے۔
کشمیر کی آزادی کے مسئلے سے متعلق دنیا خوف کا شکار ہو چکی ہے اس لئے اب اقوام عالم اپنے بچاﺅ کی خاطر بھی اقوام متحدہ سے مطالبہ کریں گی اور بھارتی حکمرانوں پر بھی دباﺅ ڈالیں گی۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ ہر دو وزراءکی آبائی ”جماعتوں“ کا کشمیر کاز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ قیام پاکستان کی تحریک کے ساتھ بھی! کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ امریکہ ہر جور و جفا کر رہا ہے اسے کیوں کوئی روکتا نہیں۔ صرف اس لئے کہ اس نے جہاد کا نام دہشت گردی رکھ کر دراصل جہاد کو مٹانے کا ورلڈ آرڈر شروع کر رکھا ہے۔ اسلام کے آغاز پر نظر ڈالیں تو اس کی ترویج و توسیع و اشاعت جہاد سے عبارت ہے اور یہ جو اقبالؒ نے کہا تھا بحرِ ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے۔ تو وہ جان گئے تھے کہ اسلام، مسلم اور ان کے ممالک کا تحفظ جہاد میں مضمر ہے۔ جہاد کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ بندہ مسلم اللہ کی راہ میں جان کی پرواہ نہیں کرتا اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جنت کا نظارہ کرتا ہے اور یہی فلسفہ جہاد ہی ہے جو اسلام کو مسلمانوں کو ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔ امریکہ ہو یا اس کی حواری باطل قوتیں سبھی کو کسی جنگی ہتھیار کا خوف نہیں جتنا جہاد سے ہے۔ اس لئے بھارت کشمیر کے معاملے میں خوفزدہ ہو کر ہی وہاں سات لاکھ فوج بٹھا کر اسے لیزرگنوں سے مسلح کر چکا ہے۔ حرف آخر اور نقارہ خدا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر جہاد کے ذریعے آزاد ہو گا اور صرف پاکستان کے مسلمان ہی نہیں دنیا بھر سے مسلمان اس معرکہ حق و باطل میں شامل ہونے جوق در جوق پہنچیں گے۔ اس لئے کہ کس مسلمان کو جنت درکار نہیں کہ وہ کشمیریوں کو کشمیر جنت نظیر نہ دلوائے۔