پاکستان پائندہ باد کانفرنس.... اگلا قدم

صحافی  |  عطاء الرحمن

پاکستان پائندہ باد کانفرنس کے انعقاد سے پہلے میں نے لکھا تھا ایسے اجلاس اور سیمینار وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ یہ کانفرنس منعقد ہوئی، تین گھنٹے تک جاری رہی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پرجوش تقریر کی۔ شمسی ایئر پورٹ کو خالی کرنے سے امریکہ کے انکار کو ہمارے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔ حکمرانوں کی پست اور غلامانہ ذہنیت کو اس کا سدباب بتایا، شعر پڑھے، معاشی محتاجی کو واضح کیا۔ اس پر زور دیا کہ ہماری آزادی و خودمختاری پر جو قدغن ہے اس کی ایک وجہ حکمرانوں کا غیر ملکی آقاﺅں کا مطیع بن جانا اور اسی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کا راز سمجھنا ہے۔ دوسرا سبب پاکستان کی معاشی بدحالی ہے جس کی وجہ سے ملک کو غیر ملکی امداد کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔ اس کی ذمہ دار کرپٹ اشرافیہ ہے جو غلط کار حکمرانوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ جب تک ہم اس سوچ سے نجات نہیں حاصل کر لیتے اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا نہیں کرتے پاکستان کا مستقبل نہیں سنور سکے گا۔ سابقہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کیا۔ ارباب بست و کشاد کی پست ذہنیت پر سخت تنقید کی۔ میاں نواز شریف کو کھلے عام پیشکش کی اگر وہ امریکہ سے آنکھیں چار کرتے ہیں، ملک کی آزادی کے تحفظ کیلئے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو ہم کھل کر ساتھ دیں گے۔ یوں امید کی ایک کرن روشن ہوئی۔ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید غوث علی شاہ نے کہا پاکستان کو ایک کامیاب ریاست بنانے کیلئے اشد ضروری ہے کہ غیر آئینی قوتیں اپنی حدود کا پاس کریں، آئین کی بالادستی کو عملاً تسلیم کریں، پس پردہ تاریں نہ ہلائیں اور پالیسی سازی کے کام کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی روش ترک کر دیں ۔ انہوں نے 1998ءمیں میاں نواز شریف کی اس جرا¿ت رندانہ کا ذکر کیا جب پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں ایٹمی طاقت بناتے وقت انہوں نے امریکی دباﺅ کی پرواہ کی نہ کسی ترغیب اور لالچ میں آئے۔ غوث علی شاہ کا کہنا تھا اب بھی ملک کو درپیش بحرانوں سے بچانے کیلئے ایسی قیادت کی ضرورت ہے۔کانفرنس کے محرک محترم جناب مجید نظامی نے اپنے افتتاحی خطاب میں جہاد کو فساد کہنے والوں کی فکری پسماندگی اور غلامانہ ذہنیت کا پردہ چاک کیا۔ تنازع کشمیر کا منصفانہ اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل پاکستان کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے کیونکہ کشمیر جو قائداعظمؒ کے الفاظ میں پاکستان کی شہہ رگ ہے، ہمارے پانچوں دریا یہیں سے بہہ کر آتے ہیں۔ بھارت ہمارا پانی بند کر کے پاکستان کی سرزمینوں کو بنجر بنا دینے پر تلا ہوا ہے یوں ہمارے درپے آزار ہے۔ ہمیں ہر صورت اس کے ارادوں کو شکست دینا ہے۔ لازم ہے پاکستان کی قوم، یہاں کی حکومت اور فوج سب اس سب سے بڑے قومی ہدف کو سامنے رکھیں کہ کشمیر کو آزاد کرانا ہے، اسے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان کا حصہ بنانا ہے۔ ہم جس قدر تیزی کے ساتھ اس منزل کی جانب رواں دواں ہونگے پاکستان کے حق میں اتنا بہتر ہوگا، انشاءاللہ پاکستان تاقیامت زندہ و پائندہ رہے گا۔
ہال سامعین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ایئرکنڈیشنر بند ہو چکے تھے۔ شرکاءپسینے سے شرابور تھے، اس کے باوجود ان کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ حاضرین میں بوڑھے جوان خواتین اور بچے سب شریک تھے۔ پاکستان کو موجودہ سخت ترین حالات سے نکال لے جانے کی زبردست خواہش ہر ایک دل و دماغ میں موجزن تھی۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار مسلسل اور پرجوش نعروں کی شکل میں کر رہے تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر مقررین اور مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانے کی محفل آراستہ ہوئی تو محترم مجید نظامی نے میری رائے طلب کی۔ میں نے کہا بہت کامیاب تھی مبارکباد دی۔ انہوں نے بے اختیار دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ میرا جناب نظامی صاحب کو مشورہ ہے وہ اگلے قدم کے طور پر اسی طرح کی کانفرنس پاکستان کے دیگر اہم شہروں مثلاً اسلام آباد، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی منعقد کریں تاکہ پاکستان کے ایک حصے سے لے کر دوسرے تک نوجوان نسل میں اپنے وطن کو دنیا کی کامیاب ترین اور درخشندہ ریاست بنانے کیلئے ولولہ¿ تازہ پیدا کیا جائے، نیا شعور بیدار کیا جائے، غلط کار حکمرانوں کو للکارا جائے، اسٹیبلشمنٹ کو راہ راست پر لایا جائے، سیاست دانوں کو ان کا صحیح فرض یاد دلایا جائے، دانشوروں کی سوچ بدلی جائے ان کا قبلہ درست کیا جائے۔ پاکستان کی اس سے بہتر خدمات کوئی نہیں ہو سکتی۔