نائب سفیر کا قتل

کالم نگار  |  محمد اظہار الحق

2010ءکا مارچ تھا یا شاید اپریل....میں کئی دن بعد اسلام آباد کلب آیا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ یوں لگا جیسے ادا سی کی زرد چادر ہر طرف تنی ہے۔ میں اپنے دوستوں کی منڈلی میں جا کر بیٹھ گیا۔ سب چُپ تھے۔ ایک ویٹر تفصیل بتا رہا تھا۔ یہ دو دن پہلے کا واقعہ تھا۔ مشتاق رضوی لاﺅنج میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے چائے منگوائی۔ ویٹر چائے لےکر پہنچا تو وہ سو رہے تھے۔ اس نے آواز دی۔ پہلے آہستہ، پھر اونچی....لیکن رضوی صاحب بہت دور جا چکے تھے۔ وہاں، جہاں پرویز مشرف کو بھی جانا پڑےگا۔ اس جرنیل کو بھی جس کے جرم پر پردہ ڈالنے کےلئے پرویز مشرف نے مشتاق رضوی کو دس سال اذیت میں رکھا اور نوکر شاہی کے اُن تین کارندوں کو بھی جو قوم کے خرچ پر ”انکوائری“ کرنے جکارتہ گئے اور مجرم کو بچا کر، بےگناہ مشتاق رضوی کے پیچھے پڑ گئے۔ ان کارندوں نے اس دنیا میں تو ”خدمت“ کا صلہ پا لیا لیکن مشتاق رضوی پُل کے اُس پار ان کا انتظار کر رہا ہے!
مشتاق رضوی سے میری پہلی ملاقات وزارت خارجہ میںاپنے دوست زاہد سعید کے دفتر میں ہوئی تھی۔ شگفتہ چہرہ، دھیمی آواز، اتنی دھیمی کہ سننے کیلئے ہمہ تن گوش ہونا پڑتا تھا۔ ہم چائے پی رہے تھے اور زاہد سعید مجھے رضوی صاحب کی کہانی سنا رہا تھا۔ چائے کے گھونٹ میرے حلق سے نیچے نہیں اُتر رہے تھے۔ میں نے پیالی رکھ دی اس رات میں بستر پر کروٹیں بدلتا رہا۔ میں خوف زدہ تھا۔ جس ملک میں اتنا کھلا، اتنا واشگاف، اور اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہو اس ملک کا کیا بنے گا؟ کوئی آفت تو ضرور آئےگی۔ آسمان سے پتھر برسیں گے۔ مینڈکوں، بچھوﺅں اور سانپوں کی بارش ہو گی۔ سیلاب آئینگے۔ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا ....
موت آئے گی کہ تو آئے گا کچھ ہو گا ضرور
ہجر کی شب چاند کا چہرہ کبھی ایسا نہ تھا
زاہد سعید مجھے پیچھے لے گیا۔ یہ 2002ءکی بات تھی۔ مشتاق رضوی جکارتہ کے پاکستانی سفارت خانے میں نائب سفیر تھے۔ وہ بہت سینئر تھے۔ تیس سال کا وزارت خارجہ کا تجربہ تھا لیکن پھر بھی نائب سفیر تھے اس لئے کہ سفیر ایک ریٹائرڈ جرنیل تھا۔ ریٹائرڈ جرنیل ہونا بھی کچھ کم نہ تھا اس پر مستزاد یہ کہ وہ پرویز مشرف کا انتہائی قریبی دوست بھی تھا اور پرویز مشرف ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ مسلم لیگ قاف اسکے آگے سجدہ ریز تھی جب اتنی طاقتیں یکجا ہو جائیں تو مشتاق رضوی جیسے ہنر مند بے چارے نائب سفیر ہی لگ سکتے ہیں!
حکومت پاکستان جکارتہ میں خوشحال تھی اس لئے کہ تیس سال پہلے اچھے وقتوں میں اس نے سفارت خانے کےلئے اپنی عمارت خرید لی تھی۔ جرنیل سفیر نے فیصلہ کیا کہ یہ عمارت فروخت کر دینی چاہیے۔ قاعدے کےمطابق وزارت خارجہ سے اجازت لینا ضروری تھی۔ اگر فروخت کرنے کی اجازت مل جاتی تو اخبار میں اشتہار دےکر زیادہ سے زیادہ قیمت لینے کی کوشش کی جانی تھی اور فروخت کی صورت میں ادائیگی ڈالروں میں ہونا چاہیے تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ ریٹائرڈ جرنیل صاحب نے مشتہر کیے بغیر عمارت اونے پونے داموں بیچ ڈالی اور قیمت مقامی کرنسی میں وصول کی۔ نائب سفیر نے اعتراض کیا جو ظاہر ہے سفیر صاحب نے مسترد کر دیا۔ مشتاق رضوی قاعدے قانون کا آدمی تھا۔ وہ اتنی بڑی بے قاعدگی، جس میں حکومت پاکستان کو نقصان ہی نقصان تھا، کیسے ہضم کرتا۔ اس نے وزارت خارجہ کو اطلاع دی کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور غلط ہو رہا ہے‘ اسے روکا جائے‘ اس نے اپنا فرض پورا کیا۔
اگر کوئی عام سفیر ہوتا تو وزارت خارجہ خود ہی تحقیق کر سکتی تھی لیکن یہ تو ایک ریٹائرڈ جرنیل کا معاملہ تھا اور وہ بھی پرویز مشرف کا خاص آدمی۔ اس خاص آدمی کو بہرحال چھونا بھی نہیں تھا اور ہمت بھی کس کی تھی کہ اسے چھو سکے! چنانچہ انکوائری کا کام بھی چیف ایگزیکٹو کے دفتر نے سنبھال لیا۔ (ان دنوں پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو کہلاتا تھا)۔ وزارت خارجہ یوں ایک طرف کر دی گئی۔ جیسے دودھ سے مکھی نکال کر ایک طرف پھینک دی جاتی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ اس وقت کے سیکرٹری کابینہ کو مقرر کیا گیا جو پرویز مشرف کا براہ راست ماتحت تھا۔ دو اور افسر کمیٹی میں ”ڈالے“ گئے اور یہ کمیٹی جکارتہ پہنچ گئی۔
دنیا کی اس عجیب و غریب تحقیقاتی کمیٹی نے تین سفارشات پیش کیں۔ اوّل یہ کہ اس سارے سودے میں بے قاعدگی ہوئی ہے۔ دوم یہ کہ سودے کی منظوری دے دی جائے۔ سوم یہ کہ نائب سفیر مشتاق رضوی کےخلاف کارروائی کی جائے۔ اِنّا لِلّٰہ وَ اِنّا الیہِ راجِعون۔ کمیٹی واپس آئی‘ اس کا اجلاس ہوا‘ اجلاس کی صدارت خود پرویز مشرف نے کی اور تینوں سفارشات منظور کر لی گئیں۔ ایک بار پھر اِنّا لِلّٰہ وَ اِنّا الیہِ راجِعون۔
قانون توڑنے والا جرنیل سفیر صاف بچ گیا۔ حکومت پاکستان نقصان کو پی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان کو ترقیاں ملیں۔ ایک صاحب تو پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری لگ گئے اور اسکے سارے کارناموں میں شریک رہے لیکن سزا نائب سفیر مشتاق رضوی کو ملی۔ اسے فوراً واپس ملک بلا لیا گیا اور پھر اسکے ساتھ وہ سلوک ہوا جو تاریخ میں کسی سے نہیں ہوا تھا۔ اس سے عہدہ و منصب سب کچھ چھین لیا گیا۔ اسے وزارت خارجہ ہی سے نکال دیا گیا۔ اسے کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرو۔
یاد رہے کہ وزارت خارجہ کے ملازمین اگر عہدے کے بغیر (او۔ایس۔ڈی) بھی ہوں تو وزارت خارجہ ہی میں رہتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا کہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیج دیا گیا۔ ایک ماہ یا دو ماہ نہیں۔ ایک سال یا دو سال نہیں۔ پورے چھ سال اسے بے یارو مددگار رکھا گیا۔ جس دیانت دار شخص نے ساری ملازمت قاعدے قانون کےمطابق کی۔ ملک کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، اسے بغیر کسی جرم کے سزا دی گئی۔ اسکے ماتحت ترقیاں لیتے رہے، سفیر لگتے رہے، وہ چھ سال بیکار بیٹھا رہا۔ ذہنی اذیت میں مبتلا رہا۔ خون کے آنسو روتا رہا۔ اس نے پرویز مشرف کے دوست کی لاقانونیت پر اعتراض کیا تھا۔ پورے ملک میں کوئی نہیں تھا جو اسے پرویز مشرف کے عتاب سے بچا سکتا۔ دن رات اسی طرح آتے اور جاتے رہے۔ یہاں تک کہ 2008ءمیں مشتاق رضوی وزارت خارجہ واپس گئے بغیر ہی ریٹائر ہو گیا! اگر اسکی ریٹائرمنٹ نہ ہوتی تو سزا نے تو ختم نہیں ہونا تھا۔ رہائی تو کیا ہونی تھی، وہ قید خانہ ہی ساتھ اٹھا لایا۔
اس نے وکالت شروع کر دی، شام کو اسلام آباد کلب آ جاتا۔ میری اس سے ملاقات اکثر کلب کی لائبریری میں ہوتی۔ وہی دھیما انداز گفتگو، لیکن میں صاف دیکھ رہا تھا کہ وہ اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہے۔ کبھی لائنج میں بیٹھا خلا کو گھور رہا ہوتا، کبھی لائبریری میں اخبار یا رسالہ دیکھ رہا ہوتا لیکن وہ دیکھتا تو کیا دیکھتا، اس کا ذہن ، اس کی آنکھوں کا ساتھ نہیں دیتا تھا۔ اس نے صبر کیا اور صبر ہی میں موت کا پیالہ پی لیا۔ اس شام وہ کلب ہی میں تھا۔ چائے منگوائی اور چائے آنے سے پہلے وہاں چلا گیا، جہاں مشرف نے بھی جانا ہے، اس کے جرنیل دوست نے بھی تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے بھی اور اس رکن نے بھی جو بعد میں پرویز مشرف کا دست راست بن گیا۔
آج سے چار دن پہلے یعنی یکم جولائی کو یہ سارا معاملہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ کمیٹی کے ارکان نے ظلم کی یہ داستان سنی تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ نائب سفیر نیم پاگل ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے اور اب انکی بیوہ کا بھی بُرا حال ہے تو وہ جیسے اندر باہر سے ہل گئے۔ کمیٹی کے رکن ندیم افضل چن کا تو کہنا تھا کہ مشتاق رضوی کا قتل ہوا ہے۔ ایم این اے ایاز صادق نے نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کو کہا کہ تم پر مشرف کا دباﺅ تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ یعنی نوکر شاہی کے اس ریٹائرڈ رکن نے افسوس کا اظہار کیا ہو گا اور ظلم پر پچھتایا ہو گا؟ نہیں! اس نے کہا کہ میں نے کبھی دباﺅ قبول نہیں کیا۔ اس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ تمہاری صرف انگریزی ٹھیک ہے۔ کچھ اور ٹھیک ہوتا تو ملک ترقی کر چکا ہوتا۔ ایاز صادق نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ جائیداد جو اونے پونے بیچ دی گئی، پرویز مشرف کے والد کی جائیداد تھی! سردار ایاز صادق کا خیال تو یہ بھی ہے کہ نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی اس سارے معاملے میں ملوث تھی! پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا موقف یہ ہے کہ مشتاق رضوی کے قاتل کون ہیں، اس کا تعین ہونا چاہیے۔
پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی یہ بھی چاہتی ہے کہ وازارت خارجہ نائب سفیر کی بیوہ سے معافی مانگے۔ کاش یہ انصاف مشتاق رضوی کی زندگی میں ہو سکتا:
آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
وزارت خارجہ کو محکمانہ رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ملک کی پارلیمنٹ کی نمائندہ ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس سفیر کو سزا دے سکے گی جس نے یہ غلط کام کیا؟ اور کیا ان لوگوں کو بھی سزا ملے گی جنہوں نے مجرم کو چھوڑ دیا اور نائب سفیر کو پکڑ لیا؟