5 جولائی کا سبق

رﺅف طاہر
قائداعظمؒ کے پاکستان کی 56 فیصد آبادی پر مشتمل سونار بنگلہ اب مشرقی پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد یہ بھٹو صاحب کا نیا پاکستان تھا‘ جہاں ان کا واسطہ خاصی ”فرینڈلی اپوزیشن“ سے تھا۔ بھٹو فرینڈلی نہ سہی‘ پاکستان فرینڈلی اور ڈیمو کریٹک سسٹم فرینڈلی اپوزیشن۔
بھٹو صاحب کا شمار اپنے عہد کے ذہین ترین عالمی رہنما¶ں میں ہوتا تھا۔ وہ مغرب کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے اعلیٰ فارغ التحصیل تھے۔ آئین اور قانون ان کا خاص موضوع تھا۔ تاریخ پر بھی ان کی گہری نظر تھی‘ وہ جمہوری نظام کے ثمرات اور آمریت و فسطائیت کے بداثرات سے بھی آگاہ تھے۔ چنانچہ یہ امید بے جا نہ تھی کہ وہ نئے پاکستان میں جمہوری روایات کو فروغ دیں گے۔ وہ چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کے طور پر جنرل یحییٰ خان کے جانشین تھے لیکن اس میں ان کا کوئی قصور نہ تھا۔ تب پاکستان سرزمین بے آئین تھا اور انتقال اقتدار کے عمل میں مارشل لاءہی منتقل ہو سکتا تھا‘ البتہ اب یہ ”عوامی مارشل لائ“ تھا۔ ڈان کے ایڈیٹر انچیف الطاف گوہر مرحوم اور عاصمہ جہانگیر (تب عاصمہ جیلانی) کے والد ملک غلام جیلانی ”عوامی مارشل لائ“ کے ابتدائی ستم زدگان تھے۔ عاصمہ جیلانی کیس میں چیف جسٹس حمود الرحمن والی سپریم کورٹ نے یحییٰ خاں کو غاصب اور اسکے مارشل لاءکو غاصبانہ اقدام قرار دیدیا تھا۔ بھٹو صاحب کو یہی غصب شدہ اثاثہ منتقل ہوا تھا۔ اگرچہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے مارشل لاءجاری رکھنے کی قرارداد پر دستخط کر دئیے تھے‘ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے اس کی سیاسی و اخلاقی بنیاد منہدم ہو گئی تھی۔ تب بھٹو صاحب عبوری آئین (Interim Constitution) لائے۔ ایک طاقتور صدر ہمیشہ ان کا آئیڈیل رہا تھا۔ 1972ءکے عبوری آئین کے تحت اب وہ ملک کے مطلق العنان صدر تھے تاہم جمہوری حلقوں کے لئے یہ بات باعث اطمینان تھی کہ ملک میں سیاسی اور آئینی عمل کا آغاز ہو گیا تھا۔ اپوزیشن کے تعاون کا یہ عالم تھا کہ بھٹو صاحب اندرا گاندھی سے شملہ مذاکرات کےلئے روانہ ہوئے تو لاہور ائرپورٹ پر انہیں الوداع کہنے والوں میں جماعت اسلامی کے قائمقام امیر میاں طفیل محمد بھی موجود تھے (تب بھٹو صاحب اور جماعت اسلامی میں کشیدگی جس انتہا کو تھی‘ آج اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا) مارشل لاءکے خاتمے اور عبوری آئین کے نفاذ کے بعد سرحد اور بلوچستان میں ولی خاں کی نیشنل عوامی پارٹی اور مفتی محمود مرحوم کی جمعیت علماءاسلام نے (اپنی اکثریت کی بنا پر) مخلوط حکومتیں بنائیں۔ ملک کے دو صوبوں میں حزب اختلاف کی حکومتیں بھٹو صاحب کے لئے ناگواری کا باعث تھیں۔ صرف 10 ماہ میں پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ بلوچستان میں مینگل حکومت عراقی اسلحہ کے الزام میں برطرف کر دی گئی جس پر صوبہ سرحد میں مفتی محمود احتجاجاً مستعفیٰ ہو گئے۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں حزب اختلاف کے احتجاجی جلسے پر فائرنگ نے انگریز دور کے جلیانوالہ باغ (امرتسر) کی یاد تازہ کر دی۔ عوامی جمہوریت کے پہلے 6 ماہ میں ڈیرہ غازی خاں سے جماعت اسلامی کے ایم این اے ڈاکٹر نذیر احمد اور عوامی اقتدار کی پہلی سالگرہ پر لاہور میں احتجاجی جلوس کے اختتام پر خواجہ رفیق شہید کر دئیے گئے۔ جیلوں میں سیاسی اسیروں کے ساتھ شرمناک سلوک کی کہانی الگ تھی۔ حزب اختلاف نے پے در پے زخموں کے باوجود ملک کو متفقہ آئین دینے میں مکمل تعاون کیا لیکن خود اس آئین پر اسکے خالق کے ہاتھوں کیا بیتی؟ 14 اگست 1973ءکی صبح یہ نافذ ہوا اور شام کو ایمرجنسی کے نام پر بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے۔ اسکے باوجود عدالتیں ستم زدگان کے ریلیف کے لئے کوئی راہ نکال لیتیں تو انہیں مکمل طور پر بے بال و پر کرنے کا اہتمام ہوا۔ صرف ساڑھے تین سال میں چار ترامیم عدلیہ کو مکمل طور پر بے اختیار کرنے کے لئے کی گئیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ولی خاں اور ان کے پشتون اور بلوچ رفقاءغداری کے الزام میں حیدر آباد ٹربیونل کے سپرد کر دئیے گئے اور نیشنل عوامی پارٹی خلاف قانون قرار پائی۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن اس سے سوا تھا۔ چودھری ظہور الٰہی بلوچستان کے دور دراز علاقے کولہو میں حوالہ زنداں تھے۔ حزب اختلاف کے بیشتر ارکان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے تھے اور اب اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والوں کی تعداد شاید درجن بھر سے زائد نہ تھی۔ یہ زیادہ شور شرابہ کرتے تو ایوان میں ”آرڈر“ برقرار رکھنے کے لئے انہیں سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا اس دور میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی کہانی اپنی جگہ شرمناک تھی۔نوائے وقت سمیت صحافت اور اہل صحافت پر جو بیتی وہ الگ المیہ تھا پارٹی کے اندر کسی نے اختلاف کی گستاخی کی تو اسکے لئے دلائی کیمپ موجود تھا۔ 1977ءکے عام انتخابات کا اعلان ہوا تو وزیراعظم بھٹو‘ چاروں وزرائے اعلیٰ اور پنجاب کے سینئر منسٹر ”بلامقابلہ“ منتخب ہو گئے۔ الیکشن کے روز جو کچھ ہوا‘ اسکے متعلق چیف الیکشن کمشنر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ”ہم نے تو میلہ سجا دیا تھا‘ ڈاکو آئے اور لوٹ کر چلے گئے“ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک میں ساڑھے تین سو افراد جاں بحق اور ہزاروں حوالہ زنداں ہوئے۔ ملک کے بڑے شہروں میں مارشل لاءاور کرفیو کے باوجود تحریک جاری رہی۔ ادھر جناب وزیراعظم اور پی این اے کی قیادت طویل مذاکرات کے باوجود کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔ یہاں تک کہ 5 جولائی آگیا جس کا ماتم کرتے ہوئے ہمیں اس یوم سیاہ کا سبق بھی یاد رکھنا چاہئے۔ انتخابات کے ذریعے آئینی تبدیلی کی راہ بند ہو جائے اور سیاسی حریفوں کو سپیس دینے کی بجائے‘ انہیں دیوار سے لگانے اور فنا کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے تو یہی ہوتا ہے۔ خدا شاہد ہے ہم اس کا جواز پیش نہیں کر رہے‘ اس کا سبب بیان کر رہے ہیں۔
فاعتبرو یا اولی الابصار