کالا باغ ڈیم ،سیاست کی بجائے حقائق سمجھنے کی ضرورت

عنازہ احسان بٹ ۔۔۔
کالاباغ ڈیم کا نام آتے ہی بعض سیاسی جماعتوںاورمخصوص گروپوں کی جانب سے چیںبہ جبیںہونے اوراسے”غیر ت ملی“قراردینے کی روایت مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے تین صوبے اس ڈیم کی بوجوہ مخالفت کررہے ہیں ،بعض گروپوں کی جانب سے اس کی مخالفت سیاسی خواہشات کی تکمیل کیلئے ہے جبکہ چند ایک نے اس کی مخالفت کوگویا اپنے ”ایمان “کا حصہ بنا رکھاہے لیکن ان محالفین سے اگر یہ ہی پوچھ لیا جائے کہ کالا باغ ہے کہاں،یا یہ منصوبہ کیا ہے تو ایک لفظ نہیں بتا پائیںگے ،میںنے پوری ایمانداری کے ساتھ اس ڈیم کے تما م مثبت اورمنفی پہلوﺅ ں کا جائزہ لیا ،تمام صوبوںکے عمائدین سے با ت کرکے ان کا موقف اورمخالفت کی وجوہات جاننے کی کوشش کی اورآبی ذخائراورڈیموں کے ماہرین سے بھی بات چیت کی جونذرقارئین ہے ۔صوبہ سندھ کالا باغ ڈیم کا سب سے بڑا مخالف ہے اوراس کی طرف سے اس ڈیم کی مخالفت کے جوازمیں کہا جاتاہے اگرڈیم بن جائے توپانی روکے جانے اورزیریں صوبہ ہونے کی وجہ سے ہماری زمینیںبنجرہوجائیںگی،وہ پنجاب کوپانی کے چورکے الزامات سے نوازنے سے بھی گریزنہیںکرتے ،ان کا خیال ہے کہ پنجاب اور خیبر پی کے کی زمینوںسے گذرنے والے دریا ئے سندھ پرعالمی قوانین کے لحاظ سے ان کا حق مقدم ہے اوروہ یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ صوبہ پنجاب اورخیبر پی کے کی زمینیں ان کی زمینوں کی قیمت پرآبادکی جائیں۔اسی طرح وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ تربیلا اورمنگلاڈیم تعمیرکئے جانے کے بعد دریائے سندھ پرتیسرا ڈیم بنانے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ اس سے پانی کا بہاﺅکم ہوجائے گا جس سے سندھ کی بہت سی زرخیززمینیں بھی بنجرہونے کا امکان ہے ،ایک تاثریہ بھی پایا جاتاہے کہ ڈیم کیلئے جس جگہ کاانتخاب کیا گیاہے یہ جگہ خطرناک سیسمک زون پرہے اورکسی بھی ممکنہ زلزلے کی صورت میںپا نی کا ذخیرہ خطرناک صورتحال اختیارکرسکتاہے اسی طرح ڈیم منچھرجھیل اورہلیجی جھیل میں پانی کی قلت اورماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بن سکتاہے۔سابق صدرمشرف اورروزیراعظم شوکت عزیزکی جانب سے پانی کا مناسب حصہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تویہ خدشہ سامنے آیاکہ پنجاب جب 1991کے معاہدے،مشترکہ مفادات کونسل،عالمی ضامنوںاورتحریری معاہدے کی پروا نہ کرتے ہوئے پانی چوری کررہا ہے تواب نئے معاہدے یا گارنٹی کی پاسداری پرکیسے یقین کرلیا جائے۔سندھ میںکالاباغ ڈیم پرسیاست بھی بہت کی گئی اوراب بھی اس پرسیاست جاری ہے،کیونکہ ہرکوئی عام آدمی کوحقیقی صورتحال سے آگاہ کرنے کی بجائے ووٹ کھونے کے ڈرسے مسئلے کوہی سرے سے دبانا چاہتاہے ۔خیبر پی کے کا موقف ہے کہ پنجاب وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا حتی کہ پنجاب کی طرف سے آئینی ضمانتوں کی بھی پاسداری نہیںکی گئی اس سلسلے میں مثال کے طورپرگندم کی سمگلنگ روکنے کیلئے پنجاب کے اقدامات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے ،وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ غازی بروتھا پروجیکٹ خیبر پی کے میںہے لیکن بجلی پیداکرنے والی ٹربائینز500میٹرپنجاب کی طرف اس لئے لگائی گئی ہیںکہ خیبر پی کے کورائلٹی نہ دینا پڑے جبکہ پنجاب وفاقی حکومت سے اس کی رائلٹی لے سکتاہے، خیبر پی کے میں یہ بھی تاثر ہے کہ ڈیم بنانے کے بعد پنجاب پانی کوسندھ کی کلائی مروڑنے کیلئے بطورآلہ بھی استعمال کرسکتاہے حالانکہ ڈیم براہ راست وفاق کے ماتحت ہوگا ،ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے ضلع نوشہرہ کا بہت بڑا رقبہ زیرآب آجائے گا اوراس کی زمینیںبنجرہوجائیںگے۔ (جاری ہے)
بلوچستان ڈیم سے براہ راست متاثرنہیںہوسکتا تاہم اس کے بلوچ اوردیگرسیاسی رہنماﺅں کی طرف سے بھی یہ تاثر پیدا کیا گیا ہے کہ کالاباغ ڈیم پنجاب کی طرف سے چھوٹے صوبوں کے خلاف ایک ہتھیارکے طورپراستعمال ہوسکتاہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان اسمبلی نے بھی ڈیم کے خلاف قرارداد منظورکررکھی ہے ۔
کالاباغ ڈیم پرپنجاب کا موقف بڑا واضح ہے کہ زرعی زمینوںکیلئے پانی اورصنعتی مراکزکیلئے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اس ڈیم کی تعمیرناگزیرہے ،پانی کا ایک بڑا ذخیرہ(تقریبا35سے 40فیصد) جوسمندرمیں گرکرضائع ہوجاتاہے اسے استعمال کرکے قومی وملکی ترقی کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے ،پنجاب چاہتاہے کہ نہ صرف کالا باغ بلکہ بھاشااوردیگرچھوٹے چھوٹے ڈیم بھی بنائے جائیں۔1960میںبھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے کی روشنی میںدریائے راوی، ستلج اوربیاس بھارت کے زیرتصرف آگئے جبکہ پاکستان کواپنے زیراستعمال باقی تین دریاﺅں میںسے ایک پربڑا ڈیم تعمیرکرناتھا جونہیں کرسکا جس کی وجہ سے نہ صرف پنجاب کی زمینیںبنجرہورہی ہیںبلکہ توانائی کے شدید بحران کے باعث ملک لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوب چکا ہے ،ڈیم کی تعمیر سے جو بجلی پیدا ہوگی وہ نہ صرف پنجاب بلکہ ملک بھر کی صنعتی ضروریات پورا کرے گی اورتمام صوبوںکوسستی بجلی میسرآسکے گی۔ملک وقوم اورباقی صوبوںکے وسیع ترمفادمیںپنجاب پہلے ہی رائلٹی کے مطالبے سے دستبردا رہوچکا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی تیارہونے اورفنڈزکی موجودگی کے باوجو د اس منصوبے کومحض سیاسی خدشات کی بھینٹ چڑھانا درست نہیں لیکن دوسری طرف اس رائے کوبھی نظراندازنہیں کیا جاسکتاکہ تینوں صوبوں کی سیاسی قیادت اورعوام کونظراندازکرکے ڈیم بنانے کی کوشش کی گئی تواس کی وفاق کوبھاری قیمت اداکرنا پڑنا سکتی ہے ،لیکن یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ اگرکالاباغ ڈیم پرکل ہی سے کام شروع ہوجائے تب بھی اس کی تعمیر پر8برس لگیںگے اس لئے چھوٹے چھوٹے ڈیموں اورنہروںکی تعمیر کا کا م بھی شروع کردیا جانا چاہئے۔اے این جی عباسی کی سربراہی میںقائم کی گئی تمام صوبوںکے ماہرین پرمشتمل تکنیکی کمیٹی بھی اپنی سفارشات میں کالاباغ ڈیم کے منصوبے کوقابل عمل اورنہایت ضروری قراردے چکی ہے ،ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا ساڑھے پانچ ارب ڈالرکی لاگت سے تعمیرہونے والے اس ڈیم سے ملک کوسالانہ 33.2ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا۔نئے ڈیزائن کے مطابق ڈیم کی مجوزہ بلندی سطح سمندرسے 915فٹ متعین کی گئی ہے جس میں6.1ملین ایکڑ فٹ پانی سما سکے گا اوراس سے 2400سے3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی ۔
صوبوںکے درمیان 1991کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے مطابق پانی کی فراہمی 103ملین ایکڑ فٹ سے بڑھاکر110ملین ایکڑ فٹ کردی گئی اورمعاہدے کے مطابق ڈیم کی تعمیرکے باوجود زرعی زمینوں کیلئے پنجاب اورسندھ کو37فیصد، خیبر پی کے کو14اوربلوچستان کو12 فیصد پانی کی فراہمی میںکوئی کمی واقع نہیں ہوگی بلکہ پانی کے ذخائرمحفوظ ہونے کے باعث ضرورت پڑنے پرمزید پانی بھی فراہم کیا جاسکے گا، لیکن اگرہم ڈیم بنا کرپانی ذخیرہ نہ کرسکے توپانی کی گرتی ہوئی شرح بری طر ح اثراندازہوگی اورصوبوں کوپانی کی معینہ مقدارمیںفراہمی کسی صورت ممکن نہیں رہے گی کیونکہ اب منگلاڈیم میں9.68 ملین ایکڑ فٹ، تربیلا ڈیم میں 5.34 ملین ایکڑ فٹ اور چشمہ میں 0.78 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پانی کی کمی واقع ہو رہی ہے جو مجموعی طور پر 15.74 ملین ایکڑ فٹ بنتی ہے۔
ماہرین کے خیال کے مطابق ہمارے دریاﺅں میں عموماً 150 ملین ایکڑ فٹ پانی بہتا ہے جس میں سے 43 سے 61 ملین ایکڑ فٹ سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے لیکن اگر ہم یہ پانی بچا کرکالاباغ ڈیم بنالیں توہمیں اس کیلئے صرف 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی درکارہوگا کیونکہ ڈیم میں اس سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں، اس طرح یہ تاثر سرے سے ہی غلط ہے کہ پانی کا بہاﺅ کم ہو جائے گا اور سندھ اور خیبر پی کے کی زمینیں خدانخواستہ بنجر ہو جائیں گی کیونکہ پانی ذخیرہ کرنے کے باوجود بھی 37 سے 55 ملین ایکڑ فٹ پانی کا بہاﺅ اپنے معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ باقی رہا ضلع نوشہرہ کی زمینیں بنجر ہونے کا شوشہ تو سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک جن کی اپنی ضلع نوشہرہ میں زمینیں ہیںبارہا ایسے کسی بھی ممکنہ امکان کومستردکرچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، طویل ترین لوڈ شیڈنگ کی صورت میں توانائی کی صورتحال ہمارے سامنے ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قومی مسئلے پر سیاست کرنے، لوگوں کو حقائق بتائے بغیر اسے متنازعہ، جذباتی اور غیرت کا مسئلہ بنانے کی بجائے مذاکرات اور اصل حقائق کی روشنی میں پرکھا جائے کیونکہ جو خدشات پھیلائے گئے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں، ڈیم کی تعمیر سے سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان کا صنعتکار اور کاشتکار بھی اتنا ہی فائدہ اٹھائے گا جتنا پنجاب کے کاشتکاروں اور صنعتکاروں کو فائدہ ہو گا، اسی طرح صرف کالا باغ ڈیم ہی نہیں منڈا، اکوڑی، کرم تنگی، بھاشا اور دیگر منصوبوں کے ذریعے بھی عوامی فلا ح کا کا م کیا جائے ایسا نہ ہوکہ اس اہم قومی معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے باعث ہم آئندہ نسلوں کو قحط زدہ، خشک اور بنجر زمینیں ورثے میں دے جائیں، قومی قیادت بشمول پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماءاسلام، بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر جماعتوںکے قائدین کو مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کے ساتھ بیٹھ کر ڈیم کی تعمیر کیلئے رائے عامہ ہموارکرنے کی مہم کا آغاز کر دینا چاہئے کیونکہ یہ پنجاب یا ن لیگ کا نہیںپوری قوم کا مسئلہ ہے ورنہ مستقبل کا مورخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔