پاکستان میں امریکی سفیر، این ڈبلیو پیٹرسن

(گزشتہ سے پیوستہ) مجاہدکامران..............
یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ میرے رابطہ نمبرز چیک کر رہا تھا کیونکہ سکرولنگ کے دوران اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس فون میں میرے کتنے رابطہ نمبرز ہیں۔ میں نے اسے بتایا مجھے کچھ پتہ نہیں۔ جوابا اس نے کہا کہ میرے رابطہ نمبرز کی تعداد خاصی ہے۔ چنانچہ میری ذاتی پرائیویسی کی یوں درگت بنائی گئی۔ بالآخر دوسرے افسر نے مجھے میرا بٹوہ لوٹاتے ہوئے بتایا کہ اس نے مجھے وکی پیڈیا پر چیک کیا ہے اورر میرے بارے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی۔ جب میں نے اپنے بھائی جو امریکی شہری تھا اور NASA کے لئے کام کر چکا تھا کا ذکر کیا تو اس فاسر نے مجھ سے اس کا نام پوچھا۔ بعدازاں جب ہم اپنا سامان دوبارہ پیک کر چکے تو اس نے مجھ سے میرا سیل فون نمبر پوچھا تاکہ ضرورت پڑنے پر مجھ سے رابطہ کیا جا سکے۔ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ وہ اپنی مخصوص وجوہات کی بناءپر میرا فون نمبر مانگ رہے ہیں۔ ورنہ اگر میرے پاس موبائل فون نہ ہوتا تو وہ مجھ سے کیسے رابطہ کرتے۔ مجھ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا میں بوسٹن ایریا میں کسی کو جانتا ہوں یا کسی کو ملوں گا تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد ایک افسر نے بیرونی راستے تک میرا ساتھ دیا اور مجھے بتایا کہ بعض اوقات انہیں لوگوں کو چیک کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ تاہم انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ میں”اچھا انسان“ ہوں اور میں نے ”کوئی غلط کام نہیں کیا“۔
کسٹمز ایریا میں یہ سارا عمل تقریباً دو گھنٹے میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔ دونوں افسران کا رویہ پوری گفتگو کے دوران بہت شائستہ رہا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ساری کارروائی محض تضیح اوقات ہے لیکن میں سوچنے پر مجبور ہوگیا۔
اس دوران جب دونوں افسران اپنا کام کرتے رہے، مجھے بیٹھنے اور انتظار کرنے کے لئے کہا گیا۔ میں سوچتا رہا کہ مجھ سے یہ سوالات کیوں کیے جا رہے ہیں اور ان کا محرک کیا ہے۔ میں نے نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں امریکی فوجی مہمات کے اچانک ظہور پذیر ہونے اور اس ضمن میں بش انتظامیہ کے منظور کردہ مخصوص قوانین، امریکی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صرف چھ بڑی کارپوریشنوں کے زیر ملکیت ہونے، برازنسکی کے قول کہ جمہوری نظام غلبے کے لئے درکار قومی و عسکری نظم و ضبط کا دشمن ہے، جنرل ٹامی فرانکس کے بیان کہ امریکی عوام کو آخر کار اپنی آئینی آزادیوں کو ترک کرنا ہوگا اور جارج آرویل جس نے ایسے رجحانات کی نشاندہی کی جنہوں نے مابعد نائن الیون امریکہ میں عملی شکل اختیار کی، کے بارے سوچنا شروع کر دیا۔ میں نے پراجیکٹ نیو امریکن سنچری(PNAC) کی ایک رپورٹ بعنوان”امریکی دفاع کی تعمیر نو“ کو یاد کیا۔ اسی طرح”پرل ہاربر“ سے متعلق رابرٹ سٹنٹس کی کتاب میں رازداری کے قوانین سے مستثنیٰ دستاویزات میرے ذہن میں گھوم گئیں۔ مجھے ڈک چینی کے کچھ اخباری بیانات اور تیل و گیس کے ذخائر کی خاطر کرہ ارض پر برپا ہنگامے جس میں امریکہ کا کلیدی کردار ہے، بھی یاد آئے۔ مجھے اپنے ذہن میں اس خیال کی بازگشت بھی سنائی دی کہ اگر محض 13 فیصد امریکی عوام اپنے حکام کی غلط کاریوں بارے آگہی حاصل کر لیں تو حکام بالا کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ طبقہ اشرافیہ کے ہاتھوں میں 80 فیصد میڈیا ہوتے ہوئے ایسا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ تمام سوالات میرے ذہن میں سر اٹھاتے رہے جب کہ دونوں افسران میرے ریکارڈ کی چھان بین کرکے اس بات کا تعین کرنے میں مصروف تھے کہ کیا میری وجہ سے امریکہ کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
میں نے کانفرنس کے منتظمین کو اس واقعہ کی رپورٹ نہیں کی۔ میں نے محسوس کیا کہ امریکی عوام عزت نفس و دیانت داری کے حامل ہونے کے ناطے کانفرنس کے منتظمین ایک وائس چانسلر کے ساتھ اس رویہ پر شرمندگی محسوس کریں گے۔ میں انہیں کسی ناکردہ گناہ کے بوجھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر اپنے ایک پاکستانی ہم وطن کے ساتھ کیا جوکہ ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی کر چکا تھا۔ اس نے اپنے طور پر اپنے ایک ذاتی دوست پروفیسر رچرڈ لارسن، جو مذکورہ کانفرنس کی روح رواں تھے، کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا۔ مجھے ازحد خفت کا احساس ہوا جب پروفیسر رچرڈ لارسن نے مجھ سے کہا کہ”میں امریکہ کی جانب سے آپ سے ازحد معذرت خواہ ہوں“۔ امریکی حکام ایسی کارروائیاں کیوں کرتے ہیں جس کے لئے شریف امریکی عوام کو اظہار معذرت کرنا پڑتا ہے۔
میں نے 10 مئی 2010ءکو اپنے آفس واقع نیو کیمپس لاہور میں امریکی نیشنل پبلک ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ میں انسانی ترقی کے موجودہ مرحلے میں امریکی عوام کو انسانیت کا عظیم ترین اثاثہ تصور کرتا ہوں۔ لوگن انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پیش آنے والے تجربہ نے میرے اس تصور کو تبدیل نہیں کیا۔ درحقیقت کانفرنس کے دوران امریکی رفقائے کار کے ساتھ گفتگو نے میرے اس اندازے کی توثیق کی ہے بہرحال ایئر پورٹ پر میرے ساتھ روا رکھا گیا سلوک امریکی عوام کے قد و قامت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس سے امریکی انتظامیہ کے ذہنی سانچے اور پالیسیوں کے بارے سوچے سمجھے رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے، جن میں تبدیلی کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ رجحانات بالآخر امریکہ کو غالب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، ایسی ریاست میں بدل دیں گے جیسی کہ سوویت یونین ماضی میں تھی۔ سوائے اس کے کہ ایک طاقتور ایلیٹ کلاس کے زیر کنٹرول دو پارٹی نظام پر مشتمل ایک جمہوری تماشہ لوگوں کو دیکھنے کو ملتا رہے گا۔ آج بین الاقوامی سطح پر امریکہ کو وہی پوزیشن حاصل ہے جو ایک صدی قبل یورپی ممالک میں جرمنی کو حاصل تھی۔ کیا موجودہ صدی ایک امریکی صدی کہلائے گی یا امریکہ یہ تاریخی موقع ویسے ہی کھودے گا جیسے کہ گزشتہ صدی میں میں جرمنی نے کھو دیا۔ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔