مفاہمت

نوازخان میرانی ۔۔۔
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے اس وقت میرا بیٹا ابھی چھوٹا تھا۔ اچانک خبر ملی کہ جمعة المبارک کی چھٹی منسوخ کر دی گئی ہے چونکہ اس وقت ”مفاہمت“ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی، شاید ذوالفقار علی بھٹو کی باقیات سمجھ کر یہ قدم اٹھایا گیا ہو۔ بہرکیف ہمیں سید عثمان علی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ کے دربار سے شہدا کے جنازے اٹھانے کی فرصت نہیں ہمیں گڑھے مُردے اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔
بات ہو رہی تھی جمعة المبارک کی شہادت کی کہ جمعہ کی چھٹی بند کر دی گئی ہے اس طرح سے بچوں کے سکول بھی جمعہ کو کھلنا شروع ہو گئے۔ ننھے منے بچوں میں بھی پریشانی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اس پر غور و خوض کرنا شروع کر دیا۔ آخرکار بچوں کا نمائندہ بن کر میرا بیٹا بڑی دانشورانہ سنجیدگی سجائے میرے کمرے میں داخل ہوا، میں نے پوچھا، بیٹا کیا بات ہے کیا سوچ رہے ہو، تو وہ بولا ابو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ جمعہ کی نماز اتوار کو پڑھ لی جائے۔ اس طرح سے چھٹی بھی نہیں ہو گی اور نماز بھی سب پڑھ لیں گے۔ اس وقت کئے گئے سوال کا جواب اب میرے پاس ضرور موجود ہے کہ ہاں ایسے ہو سکتا ہے، اگر پارلیمنٹ میں یہ قرارداد لائی جائے اور قومی اسمبلی میرے متفقہ طور پر یہ بات منظور کر لے جس کا کافی حد تک امکان موجود ہے کہ ناممکنات کو ممکن قومی اسمبلی کا سہارا لیکر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو وہ کچھ لو کچھ دو کے فارمولے کے شدید قائل ہیں زیادہ سے زیادہ یہی تقاضا کریں گے نا کہ میرے بھائی کو وزیر بنا دو، یا مولانا شیرانی کو کسی کمیٹی کا سربراہ بنا دو، ایسا تو سبھی پارٹیوں والے کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم زیادہ سے زیادہ ایک دن شدید ترین احتجاج کرے گی، کراچی سے خیبر تک آگ بھڑک اٹھے گی۔ مگر صرف رحمان ملک کے لندن جاتے ہی مفاد عامہ اور ملکی مفاد کی خاطر وہ بھی خاموش ہو جائیں گے۔ رہ گئی (ن) لیگ وہ ویسے ہی مفاہمت کے جذبے سے سرشار بلکہ لبریز ہے۔
یہ باتیں مجھے اس لئے یاد آئی ہیں کہ قومی اسمبلی اگر سورج مغرب سے نکلنے کی منظور دے سکتی ہے تو پنجاب اسمبلی کیوں اپاہج ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد متفقہ طور پر میاں نواز شریف کے دور سے لیکر موجودہ دور کے شیخ علاوالدین ایم پی اے کی تحریک التوا کا نوٹس پنجاب اسمبلی نے جنوری فروری 2010 میں لیا۔ لیکن جس تحریک کا نام ہی تحریک التوا ہو تو اس سے امیدیں وابستہ کرنا عبث ہے۔ تاہم ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دی گئی کہ وہ پی سی افسران کے مطالبات کا جائزہ لے اور دس مارچ کی حتمی یعنی ڈیڈ لائن دی گئی کہ وہ تفصیلی رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کرے۔ رپورٹ تسلیم شدہ نکات سے صرف نظر کر کے اور پی سی ایس کے صدر کو دکھائے اور دستخط کرائے بغیر بنا لی گئی۔
میں نہ تو پی سی ایس ہوں اور نہ ہی سی ایس پی، میں صرف پاکستانی ہوں۔ دوسرے یہ کہ پی سی ایس کی ایک میٹنگ جس میں صوبے بھر سے آئے ہوئے افسران کے علاوہ وزیر قانون رانا ثنااللہ اور چودھری عبدالغفور متعدد ایم پی اے خواتین و حضرات کے علاوہ کافی مقتدر شخصیات موجود تھیں۔ مجھے بھی بلایا گیا جیسے چند دوسرے صحافی حضرات کو۔ میں نے دیکھا کہ وزیر اعلیٰ ہاوس کے باہر کلب میں چودھری عبدالغفور ان افسران کے حق میں اتنی گھن گرج کے ساتھ اتنی اونچی آواز سے بول کر صدق دل سے کوشش کر رہے تھے کہ ان کی آواز رائے ونڈ تک ضرور پہنچ جائے تاکہ افسران کی شنوائی ہو سکے۔ مگر رانا ثنااللہ نہایت دھیمی آواز سے افسران کو تلقین کر رہے تھے کہ چونکہ آپ حق پر ہیں اور جائز مطالبات کی جدوجہد کر رہے ہیں لہٰذا اسے منطقی انجام تک ضرور پہنچائیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں (جو ایسا نہیں کرے گا وہ جعلی ڈگریوں کی طرح جعلی ہو گا، اصلی اور نسلی نہیں ہو گا) میں سمجھتا تھا کہ شاید اسی ہفتے ان کے مطالبات منظور ہو جائیں گے مگر اب پتہ چلا کہ وہ تو ابھی وہیں کے وہیں ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پی کے کے لوگ اعلانیہ کہتے ہیں کہ کاش ہمارا وزیر اعلیٰ پنجاب جیسا ہوتا۔