مرکز مہرو وفا بھی دہشت کا نشانہ

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ

لاہور میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں بھوکے کو کھانا، پیاسے کو پانی، مصیبت زدہ کو پناہ، بے گھر کو سونے کی جگہ اور اُداس و ویران دلوں کو سکوں کی دولت ملتی ہے۔یہ مسجد داتا دربار اور مزار سید علی ہجویریؒ ہے۔ تقریباً ایک ہزار برس پہلے سید علی ہجویریؒ کے مرشد نے انہیں غزنی سے عازم سفر ہونے اور لاہور میں آباد ہو کر دلوں کی کشتِ ویراں کو سرسبز و شاداب کرنے کا حکم دیا تھا۔اپنے مرشد کے حکم کی تعمیل میں سید علی ہجویریؒ1039ء میں لاہور پہنچے تھے۔
آپ نے وعظ و تلقین اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کر دیا اور اللہ نے آپ کو مرجع خلائق بنا دیا۔ آپ نے منہاج الدین، کتاب الفناو البقا، کشف الاسرار اور متعدد کتابیں لکھیں لیکن کشف المحجوب آپ کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔اس عظیم تصنیف کے یوں تو کئی تراجم ہوئے ہیں مگر اس کا ایک رواں دواں جدید ترجمہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے جان نثار ساتھی میاں طفیل محمد مرحوم نے کیا تھا۔اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ داتا صاحب کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف اسلامی وہ ہے جس کا ایک قدم بھی دائرہ اسلام سے باہر نہ ہو۔ آپ نے نہایت وضاحت اور صراحت سے لکھا ہے کہ حقیقی طریقت وہ ہے جو شریعت کی پابند ہو۔
ہزار برس سے لاہور میں قائم مرکز مہر و وفا میں جوروجفا کا بازار گرم کرنے کا خیال کبھی کسی غیر مسلم یا کافر کو بھی نہ آیا۔ میرا دل اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ رواداری اور محبت بانٹنے والی اس روحانی بستی کو قتل گاہ بنانے والوں کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق ہوگا۔سیاسی ایجنڈا رکھنے والے طالبانوں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اس سے اپنی مکمل لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔یوں لگتا ہے کہ دل میں دھماکہ ہوا ہے اور دل لہو سے بھر گیا ہے اور ایسے میں کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ درد کا اظہار کس پیرائے میں کروں کہ غم کا کچھ بوجھ ہلکا ہو۔
ہم ایسے مواقع پر بھی سنجیدگی اور درد مندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے الزام تراشی پر اتر آئے ہیں۔ہم دہشت گردی کے مقامی و عالمی اسباب کا تعین کرنے کی بجائے تحریکِ پاکستان کے مقدس نام کے پردے میں علمائے کرام کو نشانہ تنقید بناتے ہیں اور فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں ایک تجزیہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ ملائوں نے نظریہ پاکستان ایجاد کیا اور پھر وہ پاکستان کے ٹھیکیدار بن بیٹھے۔ ایک سینئر کالم نگار داتا دربار کے عظیم سانحے کو دیو بندی بریلوی چپقلش کا شاخسانہ بنانے کا افسانہ بیان کرکے سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی سعی کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وطنِ عزیز میں بعض ملکی و غیر ملکی قوتوں نے شیعہ سنی فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سعی کی۔ بعض نے دیو بندی بریلوی مکاتبِ فکر کو آپس میں لڑانے اور پاکستان کو دنیا کی نظروں میں تماشا بنانے کی کوشش کی مگر ایسی کوشش کو پاکستانی عوام کے دینی شعور نے ناکام بنادیا اور انہوں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہونے اور اس آگ میں جلنے سے انکارکردیا۔
پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن امریکہ کے احکامات کی تعمیل میں کبھی ایک محاذ پر مصروف کار ہوجاتی ہیں اور کبھی دوسرے محاذ پر مگر وہ حقیقی فکر مندی کے ساتھ بد امنی اور خودکش دھماکوں کے پیچھے کارفرما ہاتھ کو بے نقاب کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہیں۔ جب کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ رونما ہوجاتا ہے تو حکومتی کارندے بڑھکیں مارنے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی باتیں کرتے ہیں مگر سرجوڑ کر بیٹھنے اور غوروفکر پر آمادہ نہیں ہوتے۔
داتا کی نگری کوہی لیجئے یہاں کئی برس سے مسجدوں اور مدرسوں پر خفیہ پولیس کے دفاتر پر ،پولیس کی تربیت گاہوں، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر غرضیکہ شاہراہوں اور گلی کوچوں میں ہرطرف قیامت صغریٰ کا سماں برپا رہا۔ خود کش حملہ آور اپنی مرضی کا نشانہ چنتے رہے اور لوگوں کو چُن چُن کر بموں اور گولیوں سے بھونتے رہے مگر ہم نے کسی ایمر جنسی کا اظہار کیا نہ کوئی قومی کانفرنس بلائی نہ ہی کوئی ایسا پروگرام وضع کیا جسے بروئے کار لا کر ہم اس بلائے نا گہانی سے نجات پاسکتے۔ اب دہشت گردوں نے داتا کی اپنی آرام گاہ کو قتل گاہ بنا دیا ہے۔
ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو کیوں اندازہ نہیں کہ عالمی ایجنڈہ یہ ہے کہ پاکستان کو جینے دیا جائے اور نہ مرنے دیاجائے۔اگر پاکستان کو ترقی کرنے دی جائے ،اگر پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کا کردارادا کرنے دیاجائے، اگر پاکستان کو اسلام کا قلعہ بننے کا موقعہ دیاجائے اورپاکستان کو مسلمانوں کیلئے رول ماڈل بننے دیاجائے تو پھر عالمی ایجنڈے کی تکمیل دشوار ہوجاتی ہے بلکہ ناممکن ہوجاتی ہے۔ پاکستان کو بالکل کمزور اس لئے نہیں ہونے دیاجاتا کیونکہ امریکہ اپنے مفادات کی جنگ اس کے ذریعے لڑ رہا ہے۔ہم کرائے کے ایسے کارندے بنے ہوئے ہیں کہ جوا تنے سادہ دل ہیں کہ دوسروں کی لڑائی اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے لڑ رہے ہیں اور کشکول گدائی لے کر ہر کسی کے آگے دست سوال دراز کر رہے ہیں۔
یہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا کام ہے کہ وہ اندازہ لگائیں کہ را اور موساد جیسی غیر ملکی ایجنسیاں کتنا اسلحہ اور رقوم بانٹتی ہیں اورپاکستان کو کمزور کرنے کیلئے رات دن تگ و دو کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنے مفادات کا کوئی پاس لحاظ نہیں۔جس جنگ سے امریکہ اور برطانیہ راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔سی آئی اے چیف برطانوی آرمی چیف اور خود حامد کرزئی کے بیانات اس کے واضح ثبوت ہیں مگر ہم اس آگ کو آگے بڑھ کر گلے لگا رہے ہیں۔اس وقت بڑھکوں اور جنوبی پنجاب کو بھی رزم گاہ بنانے اور یہاں آپریشن کرنے کی بجائے فہم و فراست اور فکرو تدبر کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ صدر پاکستان اپنے اقتدار کو بچانے اور دوام بخشنے کیلئے شعلہ نوائی کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں اپوزیشن رہنما نواز شریف ایک روز شعلہ افشانی اور اگلے روزشبنم افشانی سے کام لیتے ہیں اور اللہ اللہ خیر صلا۔ لوگ بیچارے منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔
ایک روز انہو ں نے کہا کہ ہم قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔ دوسرے روز اپنے مطالبے سے دستبردار ہوگئے۔ ایک رو ز اُن کی پارٹی کے ترجمان چوہدری نثار نے مڈ ٹرم الیکشن کی بات کی اگلے روز وہ اپنی بات سے مُکر گئے۔ لوگ بیچارے چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں حکومت بھی اُن کیلئے کچھ نہیں کر رہی ہے او ر نہ ہی اپوزیشن عوام کے درد کا ورماں تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہے۔
اب وزیراعظم نے قومی کانفرنس بلانے کی بات کی ہے۔ یہاں اس سے پہلے بھی کئی کانفرنسیں ہوئی ہیں۔ جب تک حکومت اور اپوزیشن نے امریکی ایجنڈے کو چھوڑ کر پاکستانی ایجنڈا اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کرنا اس وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ جب تک ہم امریکی جنگ کا حصہ بننے، قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن کے مضمرات اور دشمن کے مقاصد کا درست اندازہ نہیں لگاتے اس وقت تک ہم کوئی مفید، جامع اور مؤثر پالیسی نہیں بناسکتے۔ ہمیں انتہا پسندانہ مذہبی روئیے کے آلہ کار بننے والے نوجوانوں کو اس چنگل سے رہائی دلانا ہوگی اور اُن کے ذہن کو اسلام کے سرمدی پیغام سے سیراب کرنا ہوگا۔یہ انتہا پسند مذہبی عنصر جہاں بھی ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ہمیں اس سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور غیر ملکی ایجنسیوں سے اُن کے تعلقات کا نیٹ ورک توڑنا ہوگا۔مختصر یہ ہے کہ ہمیں اپنی حالت خود ہی سنوارنا ہوگی۔ میں رحمت یزداں کے سامنے دستِ سوال پھیلا کر دعاگو ہوں…؎
داتا تری برکات کے دربار ہیں جاری
مخلوق سے روٹھے نہ کبھی رحمتِ باری