شجر بچاﺅ اگر آشیاں بچانا ہے

صحافی  |  سعد اللہ شاہ

سانحہ داتا دربار پر ملک بھر میں ہڑتال اور مظاہرے جاری ہیں۔ سنی اتحاد کونسل نے 8جولائی کو ملک گیر علماء و مشائخ کنونشن کا اعلان کیا ہے۔ اس سانحہ پر تمام مکاتب فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ چار یوم گزر جانے کے بعد بھی لاہور کی فضا مغموم اور افسردہ ہے۔ پنجاب کیا پورا پاکستان خون کے آنسو رو رہا ہے۔ لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے اور داتا دربار کو لاہور کا دل ۔ دہشت گردوں نے ہمارے دل میں چھرا گھونپا ہے اور آن کی آن میں جیسے جسم معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ ذہن شل سا ہو گیا ہے کہ اب اس سے آگے کیا رہ گیا ہے۔ امن و امان کا گہوارہ جہاں زمانے کے ستائے ہوئے، اکتائے اور گھبرائے ہوئے لوگ سکون اور اطمینان کے لئے آتے، اپنے اپنے غموں کی پوٹڑیاں کھولتے اور دل ہلکا کرتے ہیں۔ اللہ کے بزگزیدہ ولیء کامل حضرت داتا گنج بخشؒ کے وسیلے سے دعائیں مانگتے، ملحقہ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے، نوافل پڑھتے اور دعائیں کرتے ہیں۔ یہاں نہ کسی سیاست کا عمل دخل ہے، نہ دنیاداری کا خلل، کتنے مزدور، بے کس، لاچار، بے روزگار اور مجبور آ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ روحانیت کا فیض جاری ہے۔ عبادت گزار اس فضا میں یکسوئی حاصل کرتے ہیں۔ داتا دربار کا خونیں واقعہ اس قدر دلدوز اور جاں سوز تھا کہ اس نے سارا ماحول ہی سوگوار کر دیا۔ یقیناً اس مکروہ اور غلیظ کھیل میں کوئی مسلمان ملوث نہیں ہو سکتا۔ غالب اکثریت کا یہی خیال ہے کہ یہ ایک گھناﺅنی سازش ہے کہ شیعہ سنی فساد کی طرز پر بریلوی اور دیوبندی معرکہ برپا کیا جائے۔ کہا گیا ہے کہ یہ پہلا واقعہ ہے جہاں رحمن ملک نے طالبان کو ملوث نہیں کیا۔ طالبان کے کمانڈر نے خود بھی بڑے شدومد سے اس قبیح فعل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ صاحبان حل و عقد اور بست و کشاد مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ سیاستدان خاک اور خون میں نہائی ہوئی مرگ انبوہ پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔ ہم کس قدر سنگ دل اور بے رحم ہیں کہ ہمیں اپنی بقا و فنا کچھ بھی متاثر نہیں کرتا۔ آنکھوں پر خود غرضی و لالچ کے دبیز پردے چڑھے ہوئے ہیں۔ رحمان ملک دہشت گردوں کے حوالے سے پنجاب کے ساتھ اپنی خفیہ معلومات شیئر کرنے کے لئے تیار نہیں گویا پنجاب پاکستان کا حصہ نہیں۔ گورنر پنجاب طالبان کی بات کرتے ہیں۔ عابدہ حسین اٹھتی ہیں تو جنوبی پنجاب میں کارروائی کا واویلا کرتی ہیں۔ شہباز شریف پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں تاکہ وہ زرداری کی معاونت سے پیچھے نہ ہٹیں۔ خدا کے لئے پاکستان اور اپنے آپ پر رحم کیجئے۔ پاکستان ہے تو آپ ہیں۔ پاکستان نہ صرف پنجاب ہے، نہ صرف سندھ، نہ صرف بلوچستان ہے اور نہ خیبر پی کے، یہ تو اک گلدستہ ہے اب تو یہ خار دستہ لگتا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا کہ جمہوریت نہ رہی تو عدلیہ نہیں رہے گی کتنی معنی خیز بات ہے۔کلیدی اور بنیادی مسئلہ تو یہ ہے کہ بدعنوان، اقربا پروری اور بددیانتی نے ناسور کی طرح اس ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے رگ و ریشے تک سرطان سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ہمارے ادارے برباد ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاست میں بھی اجتماعیت کا تصور نہیں ہے۔ انفرادیت اور فرعونیت باقی سب درباری اور حواری۔ ایسے ماحول میں آگہی اور بصیرت سر اٹھا ہی نہیں سکتی۔ اگر کوئی عقل کی بات کرے بھی تو اسے ”افلاطون“ کہہ کر ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ کوئی سچ بولے تو اسے سقراط ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ روایات و اقدار سب کچھ ہی تو الٹ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں پارٹیاں نہیں خاندان ہیں۔ یہاں پارٹی بیان نہیں دیتی۔ قائد فرماتے ہیں۔ اور پھر دعویٰ جمہوریت کا اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا۔ پارلیمنٹ کیا ہے؟ جعلی لوگوں کا ہجوم، جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان کے قول زریں کے مطابق اصل اور جعلی ڈگری میں کچھ فرق نہیں۔اور وزیراعظم کے بقول جعلی ڈگریوں سے قیامت تو نہیں آ جاتی۔ ”روﺅں میں اپنے دل کو پیٹوں جگر کو میں۔“ عقل و دانش منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ جن لوگوں کو ہم کلام کرتے ہوئے سنتے ہیں ایسے لوگوں سے تو کلام کرنا بھی منع فرمایا گیا ہے۔ بہت بڑی ذمہ داری پڑھے لکھے طبقے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لاتعلقی کے خول سے باہر نکلیں اور قوم کو تعلیم دینے اور ان کا شعور بیدار کرنے کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔