سانحہ داتا گنج بخشؒ

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

لگتا ہے کہ حکومت جس سے میری مراد عوام کے جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار تمام ادارے اور متعلقہ ایجنسیاں ہیں ”محو خواب“ ہیں۔ داتا کی نگری میں وقفے وقفے کے بعد جو قےامت صغریٰ برپا ہوئی ہے اس سے ساری دنےا واقف ہے۔ راقم محوِ حےرت ہے کہ حکومت وقت نے اپنی تمام تر عوام دوستی کے باوجود کوئی سبق نہےں سےکھا، کوئی حفاظتی تدابےر اور حکمت عملی وضع نہےں کی جس کے باعث اب شہر لاہور کا محور و مرکز تجلےات اورانوار و برکات حضرت داتا گنج بخش ؒ کا مزار مبارک اور ملحقہ مسجد دہشت گردی کا ایسا لرزاں خیز نشانہ بنا ہے جس سے پورا پاکستان اور عالم اسلام کانپ اٹھا ہے۔ دہشت گرد خواہ کوئی بھی ہو کلمہ گو یا غیر مسلم مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، میرا سوال صرف یہ ہے کہ یہ سانحہ کیونکر رونما ہو گیا ہے؟ اور ان لاتعداد جانوں کے نقصان جن کی ابھی تک گنتی نہیں ہو پائی اور سینکڑوں زخمیوں کا ذمہ دار کون ہے؟
نہاےت معذرت کے ساتھ مےں ارباب حکومت قوم کے نمائندگان وطن عزےز کے دانشوروں اور خصوصی طور پر مےڈےا سے درخواست گزار ہوں کہ ہم سب کا قومی فرےضہ اےسے سنگےن نوعےت کے المےوں پر ماتم کرنے، مجرموں کو عبرتناک سزا اور تختہ دار تک پہنچانے، زخمےوں اور زندہ بچ جانے والوں کے زخموں پر مرہم لگانے اور چند لاکھ کا معاوضہ دےنے تک محدود نہےں رہنا چاہےے بلکہ اےسے گھناﺅنے جرائم کا سراغ ڈھونڈنے اور مجرموں کے پےچھے دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ شخصےات اور اداروںکی نشاندہی کرنا ہے۔ لےکن آج تک محض بےانات کے علاوہ کسی دہشت گردی کی تفتےش کو ابھی تک اپنے منطقی انجام تک نہےں پہنچاےا گےا۔ کےا اس کی وجہ حکومتی اور سےاسی جماعتوں کی نادانستہ پےشہ ورانہ کردار کی غفلت ہے ےا دانستہ طور پر ان معاملات کی وجوہات مےں الجھنے سے پرہےز کےا جاتا ہے۔ وقت آگےا ہے کہ جب ناصرف عوام بلکہ رےاست کا وجود خطرات سے دوچار ہے تمام سٹیک ہولڈر بلا استثنیٰ موجودہ دہشت گردی کی لہر کو زےادہ سنجےدگی سے پہچاننے اور اس کے سدباب کی بلاخوف جرا¿ت کے ساتھ قلع قمع کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کریں۔
اگرچہ تادم تحرےر کسی دہشت گردگروہ نے سانحہ داتا گنج بخشؒ مےں برپا قےامت صغریٰ کی ذمہ داری قبول نہےں کی لےکن ہر طرف سرکاری اور غےر سرکاری سطح پر ےہ تاثر پاےا جاتا ہے کہ کوئی مسلمان اےسی شرم ناک انسانیت سوز ننگِ دےن ،ننگِ وطن حےوانی حرکت کا مرتکب نہےں ہو سکتا، لےکن کےا اس سے قبل بھی مساجد اور امام بارگاہوں مےں اےسے شرمناک واقعات رونما نہےں ہوتے رہے؟ کےا ان واقعات کے بارے مےں ماہرانہ سطح پر غےر جانبداری کے ساتھ کوئی تحقےقات کسی حتمی فےصلہ تک پہنچی؟ وقت آ گےا ہے کہ ہم علاقائی سطح پر دہشت گردی کو سوات، مالاکنڈ، جنوبی اور شمالی وزےرستان تک محدود رکھنے کے بجائے اور دےگر صوبوں مےں اس کے وجود سے انکار ےا denialکی سوچ کو ترک کر کے دہشت گردی کے نےٹ ورک کا وسےع تر مختلف محاذوں مےں مختلف نام کی تنظیموں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ رابطوں پر سنجےدگی کے ساتھ جائزہ لےنا شروع کر دیں۔
لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے روز افزوں سنگین واقعات سے دہشت گردی کی پھیلتی ہوئی جڑوں کے وجود سے اب denial ممکن نہیں رہا، ان کے تمام تر وسائل جن میں خفیہ ایجنسیاں سرفہرست ہیں ان کی ذمہ داریوں اور فرائض میں ادائیگی کا ازسرنو جائزہ لینا اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ مختلف محکموں کے ہر لیول پر فائز افسروں کی کارکردگی کا status quo کی حالت میں برقرار رکھنا اور اس میں فوری سرجیکل آپریشن نہ کرنا قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کے مترادف ہو گا۔
سانحہ دربار گنج بخش نے بڑے زور سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی قیادت کو آخری دستک دی ہے کہ خواب غفلت سے جاگئے اپنی اپنی معصومیت کے ثبوت پیش کر کے محض denial سے عوام کے سامنے سرخرو ہونے کا وقت ہاتھ سے تیزی کے ساتھ نکل رہا ہے۔ قومی سلامتی کو کئی اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں جن میں دہشت گردی کا چیلنج خطرناک صورت اختیا ر کر رہا ہے۔ اس بار ے میں فوری منصوبہ بندی کرنے کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیاں فوری اجلاس بلا کر مناسب قانون وضع کریں اور انسداد دہشت گردی کے لئے وفاقی و صوبائی سطح پر وزارت انسداد دہشت گردی قائم کر کے تمام متعلقہ محکموں اور خفیہ ایجنسیوں کی از سر نو coordination کا جائزہ لیا جائے۔