روٹری انٹرنیشنل کی ڈسٹرکٹ انسٹالیشن سیریمنی

روٹری کلب آف لاہور گیریزن نے 3جولائی2010ءکی شب لاہور کے ایک شادی ہال میں”روٹری انٹرنیشنل“ کی ”ڈسٹرکٹ انسٹالیشن سیریمنی“ کا اہتمام کیا۔ تمام مہمانوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ تقریب ٹھیک دس بجے شب ختم کر دیئے جانے کا پروگرام بنایا گیا تھا لہذا مہمان بروقت تشریف آور ہو جانے میں تغافل نہ کریں چناچہ لاہور کے کم و بیش تمام روٹری کلبوں کے عہدیداران عین بروقت تشریف آور ہو گئے ان میں ”روٹری کلب لاہور شالیمار“ کے عہدیداران و ممبران بھی جلوہ گر تھے‘ یوں تو اس تقریب کا ہر مہمان خوش و خرم اور ہشائش بشاش نظر آ رہا تھا مگر یکم اور دو جولائی کی درمیانی شب پیکر شریعت اسلامیہ حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ کے دربار درخشاں میں سفاک و شقی القلب خودکش حملہ آوروں نے تقریباً پونے گیارہ بجے شب سے گیارہ بجے شب تک جو تین تباہ کن دھماکے کئے تھے اور ان میں جو ناقابل فراموش جانی نقصان ہوا تھا اس کے اثرات نے روٹری انٹرنیشنل کی اس تقریب کو منتظمین کی تیاری کے مطابق رنگ و آہنگ کے سانچے میں نہ ڈھلنے دیا کیونکہ اس تقریب میں انفرادی سطح پر روٹری انٹرنیشنل کی ترقیاتی معرکہ آرائی سے زیادہ اس المناک سانحہ کا تذکرہ بھی ہوتا رہا اور روٹری کلب شالیمار لاہور کے ایک رکن کے مطابق نئے ڈسٹرکٹ روٹری گورنر شہزاد احمد نے ان خیالات کا اظہار کیاکہ داتا دربار میں جو سانحہ ہوا ہے اس کے باعث ہم نے تقریب کو سادگی کے سانچے میں ڈھال دیا ہے مگر ہم نے اپنی موجودگی میں وہ نوٹ کیا کہ روٹری انٹرنیشنل کے اس اجلاس میں ابھی ایک روز پہلے ہونے والی دہشت گردی کی کھل کر مذمت نہ کی گئی نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قرارداد منظور کی گئی۔اور افغانستان اور پاکستان پر مشتمل روٹری ڈسٹرکٹ کے ”آﺅٹ گوئنگ“گورنر عثمان مسعود سے لیکر نئے ڈسٹرکٹ گور نر شہزاد احمد تک کو داتا دربار میں وقوع پذیر ہونے والے سانحہ کی بھرپور مذمت کرنا چاہئے تھی اور پوری امن پسند دنیا کو آواز دی جانا چاہئے تھی کہ پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کی پرامن زندگی کو لہولہان بنا دینے کی جو گھناﺅنی سازش کی ہوئی ہے اور پاکستان کو آزردہ اور مغموم کر دینے کےلئے پورے پاکستان میں خفیہ معاندانہ منصوبوں کے تحت جو خود کش دھماکے کئے جا رہے ہیں اور جس طرح خصوصاً لاہور کو ان خود کش دھماکوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے اس کی روک تھام کے لئے پوری امن پسند دنیا سامنے آئے کیونکہ پاکستان کے دشمن جس عظیم اسلامی ملک پاکستان پر دہشت گرد ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں وہ پاکستان تو خود تمام دنیا سے کہیں زیادہ سالہا سال سے دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اس کے پرامن بزرگ و جوان و بچگان و مردان و خواتین مسلسل لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ پھر روٹری انٹرنیشنل کی اس تقریب میں دہشت گری کا نشانہ بن جانے والے معصوم لوگوں کی بلندی¿ درجات و مغفرت کےلئے دعا کی جانا چاہئے تھی ۔ آج کی تقریب میں عثمان مسعود کو پاکستان اور افغانستان پر مشتمل روٹری انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ کا آخری مشترکہ آﺅٹ گوئنگ گورنر قرار دیا گیا کیونکہ اب روٹری انٹرنیشنل نے پاکستان اور افغانستان پر مشتمل روٹری ڈسٹرکٹ کو دو زونز میں تقسیم کر دیا ہے یعنی اس علاقے کے دو روٹری ڈسٹرکٹ بنا دیئے گئے ہیں چنانچہ جس روٹری ڈسٹرکٹ میں لاہور شامل ہے اس کے نئے گورنر شہزاد احمد کی ہال میں آمد پر سٹیج تک تمام راستہ ان پر گل پاشی کی گئی اور فضا کو اس طرح رنگین و معطر کر دیا گیا کہ جیسے ”سقفِ حریمِ تقریب“ سے ان پر گل پاشی ہو رہی تھی۔ پورے ہاﺅس نے بھی ان کی آمد کا پرجوش خیر مقدم کیا چنانچہ انہوں نے کارروائی کو اوپن قرار دیا اور تلاوت قرآن مجید کے بعد پاکستان اور افغانستان کے قومی ترانے پیش کئے گئے‘ آج آﺅٹ گوئنگ گور نر عثمان مسعود میں وہ طمطراق نظر نہیں آ رہا تھا جو ایک سال قبل ڈسٹرکٹ گورنر کے طور پر لوگوں کے سامنے آتے ہوئے ان میں نظر آ رہا تھا۔ روٹری انٹرنیشنل کی اس تقریب کا ماٹو ”پولیو فری پاکستان“ تھا ویسے بھی روٹری انٹرنیشنل پوری دنیا سے پولیو کو نابود کر دینے کےلئے گراں قدر مہم چلائے ہوئے ہے مگر آج اس ادارے کا ماٹو”دہشت گردوں کے حملوں سے فری پاکستان“ بھی ہونا چاہئے تھا تاہم پولیو کو نابود کر دینے کا ذکر ہوتا رہا اور ہر مہمان کو ایک ”فقیرانہ“ ”جھولا‘ بھی دیا گیا جس میں ”پولیو فری پاکستان“ کے سلوگن کی حامل ایک ایک بنیان اور ایک ایک ٹوپی کے علاوہ پولیو سے نجات حاصل کرنے سے متعلق لٹریچر بھی تھا۔