دہشت گردی کے سانپ کا ڈنگ اوربیرونی عناصر

صحافی  |  عائشہ مسعود

میرے لخت جگر ! حسن ! ایک رات جب میں بہت دیر سے گھر لوٹا تھا اورتم اپنی والدہ کے پہلو میں گہری نیند سو رہے تھے .... میں نے تمہاری طرف دیکھا تو محبت کی ایک لہر میرے دل میں اتر گئی تھی لیکن اگلے ہی لمحے میرا سانس اوپر کا اوپر اورنیچے کا نیچے رہ گیا تھا .... ایک لمبا سانپ کنڈلی مارے تمہارے سر پرکھڑا تھا اور اسی نے اپنا پورا پھن پھیلایا ہوا تھا اور اس کے اور تمہارے درمیان کا فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا .... میرا دل حلق میں آن اٹکا تھا میں فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوگیا تھا اور میرے ہونٹوں سے فوراً سانپ کے ڈنک کی اذیت سے محفوظ رہنے کی دعا جاری ہوگئی تھی .... دعا ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ سانپ نے سر کو جھکایا اور ایک طرف کو چل پڑا .... اللہ تعالیٰ نے حسن تمہیں بچا لیا تھا .... دوسرا منظر ایسا تھا کہ جب تیرا لاشہ میرے سپرد کیا گیا تھا .... میں نے رات کی تاریکی میں خون میں نہائی ہوئی تیری میت اٹھائی تو تیرا جسم گولیوں سے چھلنی تھا .... جنگل کا سانپ تو تجھے تکلیف پہنچانے کی نیت سے باز آگیا تھا لیکن صد افسوس ! کہ انسانی سانپ تیری لاش کو ڈستے رہے .... میری جان حسن ! میں نے تمہارے خوبصورت چہرے سے چادر ہٹائی تو مجھے نور کی کرنیں لپکتی ہوئی محسوس ہوئیں .... تیرے چہرے پر آسودگی ہی آسودگی تھی .... تب میری آنکھیں نم ہوگئیں دل زخمی اور غمگین تھا .... لیکن ہم اللہ کی رضا پر راضی ہوگئے .... پیارے بیٹے حسن ! پھر میں نے تمہیں اپنے ہاتھ سے غسل دیا ‘ کفن پہنایا اور اس عالم میں تمہارا جنازہ لے کر نکلا کہ گویا میرے نصف جسم نے اپنے ہی نصف وجود کی میت اٹھائی ہوئی ہو .... یہ احمد عبدالرحمن البنا کے الفاظ تھے جو کہ انہوں نے اپنے شہید بیٹے امام حسن البنا کے لیے ادا کیے تھے ....مگر دو روز قبل لاہور کے سانحہ میں بہت ساروں نے اپنے پیاروں کو غسل دیا .... کفن پہنایا اوراس عالم میں جنازہ لے کر نکلے کہ گویا ان کے نصف جسم اپنے ہی نصف وجود کی میت اٹھا کر چل دئیے ہوں جتنے بھی سانحات اس قسم کے رونما ہوئے ہیں .... احساسات وجذبات بھی اسی قسم کے ہوتے ہیں اور ملک کا ہرشہری اپنے دل پر دکھ کا عجیب سا بوجھ محسوس کرنے لگتا ہے .... شیخ حسن البنا شہید نے بھی احیائے اسلام کے لیے کام شروع کیاتھا انہوں نے شاہ فاروق کے مظالم ‘ جمال عبدالناصر کی بے وفائی انور سادات کے جبر اور حسنی مبارک کے غیر قانونی اقدامات اندرونی حالات کی خرابی اور بیرونی سازشوں کی سنگینی کا مقابلہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے کیا تھا .... اس قسم کی سازشوں کا مقابلہ کرنے والی اسلامی تحریکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کی تنظیمیں قرار دے کر ان کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں مگر یہ تحریکیں ظلم کے خلاف تقویت حاصل کرتی ہی رہی ہیں .... لہذا اب تو افغانستان میں امریکہ یہ بھی کہنے پرمجبور ہو چکا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی کرنا پڑیں گے .... داتا دربار کے خودکش حملے میں طالبان نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ بیرونی عناصر ہیں اور ”را“ کے ایجنٹ بھی ہوسکتے ہیں .... ہماری پولیس کو چاہیے کہ جلد بازی میں اپنے نمبر بنانے کی کوششیں ترک کرکے خودکش حملہ آوروں کی لاشوں کا اچھی طرح معائنہ کریں تو ہوسکتا ہے کہ نقارہ خلق کی یہ آواز درست ثابت ہو کہ یہ بیرونی عناصر کی کارروائی ہوسکتی ہے اور ان کارروائیوں میں اکیلا بھارت نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کی آشیر باد کے ساتھ ہمارے خلاف برسرپیکار نظر آتے ہیں اور بھارت کے رنج اور ملال کا سلسلہ پاکستان بننے کے بعد سے جاری ہے اور اس قسم کے مظالم پر احتجاج کا سلسلہ بھی تب سے جاری ہے .... حسن البنا شہید نے 14 جون 1948ءکو قاہرہ سے پنڈت جواہرلال نہرو کو ایک خط لکھا تھا کہ وزیراعظم صاحب ! ” حیدر آباد ایک آزاد ریاست ہے اور ہر مسلمان اورہر عرب باشندے کو اس کی آزادی عزیز ہے .... اس کے خلاف کوئی بھی چھیڑ چھاڑ ‘ عالم اسلام کے ہر باشندے کو اشتعال دلانے کا سبب بن سکتی ہے .... عالم اسلام مسلمانوں کے خلاف جارحیت پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا “ مگر پھر تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے حیدر آباد کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر دہشت گردی اور مسلم کشی کا منظم آغاز کر دیا .... اور جس پر حسن البنا شہید نے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ٹیلی گرام بھی دیا تھا .... آج لاہور داتا دربار کے احاطے میں ہونے والے سانحے پر وزیراعظم من موہن سنگھ کو بھی ٹیلی گرام جانا چاہیے .... کیونکہ وہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور انتہا پسندی سے باز ہی نہیں آتے .... پانی روکنے والے اس قسم کی کارروائیاں بھی کرسکتے ہیں .... آج ان حادثات میں شہید ہونے والے اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ جنگل کے سانپ سے تو بچایا جاسکتا ہے مگر اس قسم کی دہشت گردی کے سانپوں سے کیسے نجات حاصل کی جائے کہ انسانی سانپ لاشوں کو ڈستے چلے جارہے ہیں .... اور کتنے ہی حسن البنا گولیوں سے چھلنی ہو چکے ہیں .... حسن البنا کے والد نے حسن شہید کی لاش پر کہا تھا .... میرے پروردگار اپنے بندے کی خوب تکریم فرما اوراللہ تعالیٰ ضرور ان شہیدوں کی تکریم فرمائے گا !!