امریکی و بھارتی خطرناک عزائم اور ہماری ذمہ داری

محمد اقبال سحر ۔۔۔
29جون کو ٹورنٹو میں G-20 سربراہ اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے کہا۔”بھارت دنیا کی اُبھرتی ہوئی طاقت ہے اور اس حوالے سے اس پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وہ قیام امن کے لئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے۔“ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا۔”منموہن سنگھ غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہےں اور جب وہ بولتے ہےں تو پوری دنیا انہیں سنتی ہے۔“
ہماری سا لمیت کے خلاف امریکہ بھارت مقاصد مشترکہ ہےں اور ان طاقتوں کو پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا ایک آنکھ نہیںبھاتا۔ اگر وطن عزیز پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل نہ ہوتا تو امریکہ اَب تک افغانستان اور عراق کی طرح ہم پر بھی وار کرچکا ہوتا۔اوباما منموہن ملاقات میں جو بات چیت ہوئی، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے دشمنوں کے عزائم کس قدر خطرناک اور زہریلے ہیں۔ اوباما نے اس ملاقات میں بھارت کو نہ صرف دنیا کی ایک اُبھرتی ہوئی طاقت قرار دیا بلکہ بھارتی وزیر اعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کی مدح سرائی بھی کی۔ جس سے واضح طور پر یہ دِکھائی دیتا ہے کہ امریکہ ہر طرح سے بھارت کی مدد جاری رکھے گااور اس میں کسی طرح کمی نہیں آنے دے گا۔ اوباما کی اس ”شہ“ پرمنموہن سنگھ نے پاکستان کے خلاف نہ صرف شکایات کا ڈھیر لگایابلکہ یہ بھی کہا کہ پاکستان بھارت کے خلاف اُٹھنے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
امریکہ کی ہاں میںہاں ملانے والے ہمارے حکمرانوں کے لئے یہ ملاقات لمحہ فکریہ ہے۔ آنکھیں بند کرکے امریکی پالیسیوں پرعمل کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ جب ہم اپنے کسی دوست ملک سے معاہدہ کرتے ہیں تو امریکہ ہم سے نالاں کیوں ہوجاتا ہے، اُس کے ماتھے پر تیوریاں کیوں چڑھ جاتی ہیں اور وہ ”باﺅلا“ساکیوںہوجاتا ہے۔ جبکہ ہماری مخالف قوتوںسے وہ بیسیوں معاہدے کرتا ہے۔ تب اُسے کوئی ضابطہ و قانون نظر نہیں آتا۔ یہ سارا لاوا ہم پر ہی گرتا ہے۔
مثال کے طور پر چےن سے ایٹمی معاہدہ کرنے پر امریکہ سخت معترض ہے۔ ہم پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے کہ اس کو رو بہ عمل میں نہ لایا جائے۔ حالانکہ یہ معاہدہ توانائی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے طے پایا ہے۔اس سے اُسے کیا تکلیف ہے؟اس کے برعکس امریکہ کی دوغلی پالیسی کا شاخسانہ دیکھئے، طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار عالمی مداری کے کرتب کا اندازہ لگائیے کہ اس نے خود بھارت سے ایٹمی تعاون کے متعدد معاہدے کئے ہیں جبکہ دفاعی و اقتصادی معاہدوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ایٹمی تعاون کے معاہدو ں کے تحت بھارت کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کیا جانا، کیا خطے میں عدم استحکام کی راہ اختیار کرنے کے مترادف نہیں ہے؟ اِدھر بھارت نے فرانس، برطانیہ، جاپان، روس اور اسرائیل کے ساتھ ایٹمی تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں۔ ان معاہدوں پربھی امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔اُس کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں آتاہے۔جبکہ برق گرتی ہے تو صرف واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان پر!کیا اب بھی ہمارے اربابِ اقتدار نہیں جان پائے کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کے خلاف گھناﺅنی سازشوں میں مصروف عمل ہےں۔کیا اَب بھی ہمارے حکمرانوں کو معلوم نہیں ہوا¿ کہ امریکہ و بھارت گٹھ جوڑ ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہے۔