اللہ کا نام لے ساقی!…(i)

عامرہ احسان ................
’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا فلسفہ اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ آٹھ سال مسلم ممالک کی جان، مال، عزت سے کھیلنے کے بعد‘ پوری دنیا کو اپنی جلو میں لیکر وحشت‘ دہشت اور بربریت کے سارے عالمی ریکارڈ توڑ کر امریکہ اب راہِ فرار کا متلاشی ہے۔ کسی گھن گرج کے ساتھ کمزور‘ نہتے‘ ملک پر پوری دنیا کی عسکری قوت (Military Might) کے ساتھ بھاری بھر کم اصطلاحیں گھڑ کر حملہ آور ہوا تھا۔ آپریشن اینا کونڈا (Anaconda)‘ ڈیزی کٹر بم‘ بموں کی ماں (Mother of all bombs)۔ قبیل کے خونخوار نام، تکبر میں ڈوب کر آکسیجن چوس لینے والے ہتھیاروں کے تذکرے، ہم انہیں دھواں دے کر غاروں سے نکال باہر کریں گے۔ (We will smoke them out of thier caves) امریکہ کی خونخواری کے آگے دم سادھے پاکستان نے اپنا قومی وقار‘ تشخص‘ نظریہ دائو پر لگایا۔ افغان بھائیوں سے غداری کی بے غیرتی گوارا کی۔ امریکہ کے آگے ڈھیر‘ زیر ہو گئے۔ ہماری سرزمین کفر کیلئے دیدہ و دل فرش راہ کئے حالت رکوع و سجود میں رہی۔ ایمان بھول گئے۔ اسلام بھول گئے۔ دو قومی نظریہ بھول گئے۔ ملک کے اساس سے منہ موڑ لیا۔ ہم نے اللہ کو بھلا دیا ہم اپنا آپ بھول گئے۔ اُن لوگوں کی طرح مت ہو جائو جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنا آپ بھلا دیا (الحشر۔ 19) ہوش کھو بیٹھے دیوانے ہو گئے۔ اسی جنون میں ہم نے روس کے خلاف جہاد میں جو قربانیاں دی تھیں سب ضائع کر دیں۔ ہم افغانوں کے ساتھ یک جاں دو قالب ہو گئے تھے۔ ہمیں تزویراتی گہرائی حاصل ہو چکی تھی۔ افغانستان پاکستان فطری اتحادی، یک جان دو قالب کی کیفیت لئے بھارت کے مقابل ایک مضبوط پوزیشن میں آچکے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاد اپنے عروج پر تھا۔ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لانے کو ہوتیں۔ اگر ہم یوں حواس باختہ ہو کر امریکہ کے قدموں میں نہ جا پڑے ہوتے۔طالبان نے یہ سخت ترین جنگ یک و تنہا لڑی۔ ہم ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ چکے تھے۔ پاکستان میں امریکہ دشمنوں کو ہم نے چُن چُن کر اٹھایا، بیچا، مارا، زندانوں میں ٹھونسا۔ لال مسجد تا قبائل ہم نے طالبان کو محبت بھری نگاہ سے دیکھنے والی ہر آنکھ پھوڑ ڈالنا اپنا فرض منصبی جانا۔ اب جب امریکہ جھوٹ کی بیساکھیوں پر کھڑی اور گھڑی یہ جنگ بُری طرح ہار رہا ہے۔ شبِ غم گزار کر بے نیل و مرام لوٹ جانے کو ہے تو ذرا دیکھئے ہم کہاں کھڑے ہیں۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا خون بہہ چکا ہے۔ ظلم کی داستانوں میں ہمارا حصہ پر قدم پڑتا رہا ہے دشتِ لیلیٰ، پُلِ چرخی، باگرام، گوانتامو سے لیکر لہولہان، دربدر قبائل تک۔ امریکہ اپنی شکست کا اعتراف کر چکا ہے۔ فرنٹ لائن اتحادی، شکست میں بھی برابر کا شریک ہے۔ 41 کافر ممالک کی صلیبی جنگ میں ’’قربانیاں‘‘ دینے والا مسلمان ملک۔! جس کی اپنی بنیاد کلمۂ لا الہٰ اور شہدأ کے خون پر رکھی گئی تھی۔ یہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین اندوہناک باب ہے۔
جنرل میکرسٹل ہذیانی کیفیت کو پہنچ کر جو کہہ گیا۔ وہ خود ایک تبصرہ ہے فتح و شکست کے اس باب پر…؎
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!
لیکن اوباما سمجھ گیا اور تجاہل عارفانہ سے کام لینا مناسب نہ سمجھا۔ ایسے میں محض چند روز قبل سوالوں کی بوچھاڑ کی تاب نہ لاکر بے ہوش ہو جانے والے جنرل کو جیسے تیسے افغانستان بھیجنا پڑا! معیشت اور ساکھ تباہی کے آخری دہانے پر کھڑی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر چھ آٹھ لاشیں وصول کرنے اور محتاط پسپائی کا ایک بیان دے کر قدم بہ قدم پیچھے ہٹنے پر امریکہ مجبور ہے۔ قندھار آپریشن کا اعلان کر کے واپس لینا پڑا۔ ہلمند میں منہ کی کھائی۔ ایک کمزور نہتے ملک سے ذلیل و رسوا ہو کر نکلتا امریکہ اب بھی ہماری گردن دبوچنے پر قادر ہے؟
ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ہمیں گھُور سکتا ہے۔ چین کے ساتھ ایٹمی توانائی کے حصول کے معاہدے پر آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ قبل ازیں شمسی توانائی بروئے کار لانے کا بہترین منصوبہ رکوا سکتا ہے۔ تُف ہے اس کمزوری، بزدلی اور بے غیرتی پر۔
قندھار کے کنوئوں کا پانی کچھ ہمارے سول فوجی حکمران بھی پی دیکھیں۔ شاید ایمان‘ ہمت‘ حوصلے کی کوئی رمق پیدا ہو جائے۔ ایف سولہ طیارے دے کر حاتم طائی کی قبر پر جو لات ماری ہے اسکی حقیقت بھی حد درجے تکلیف دہ ہے۔ عملاً گویا ریموٹ کنٹرول امریکہ کے ہاتھ ہی میں رہے گا اور اسے ہم امریکہ کے حکم پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف آزمائیں گے۔ افغانستان سے دُم دبا کر بھاگنے والے قطار اندر قطار پاکستان اُترے چلے آتے ہیں۔ ہم اپنے گھر کا احوال درست کر لیں تو شاید انہیں بھی آنکھیں دکھانے کے قابل ہو سکیں لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! چہار جانب حکمرانی کی ہر شاخ کی جو کیفیت ہے وہ انجامِ گلستان بیان کئے دے رہی ہے۔ ایسے میں یہ اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ افغانستان میں تو بدترین ہزیمت سے دوچار ہے۔ خدانخواستہ وہ لگے ہاتھوں پاکستان سے بدلہ اتارنے میں اپنی مجروح انا کی مرہم پٹی کرنے نہ بیٹھ جائے۔ یہاں ڈرون حملے بدستور جاری ہیں۔ امریکہ کی خاطر ہمارے سورما اپنی آبادیوں پر روزانہ بمباری کر رہے ہیں۔ فیصل شہزاد تو عدالت میں پیش کر دیا گیا لیکن اس کے نام پر یہاں پکڑے جانے والے مفقودالخبر ہیں۔ پاکستان میں بے تکلفی سے گھومتا پھرتا غیرقانونی اسلحے سے لیس گورا سرکاری مہمان نوازی اور علاج معالجے کی نازبرداریاں کروا کر خصوصی طیارے سے واپس باعزت بھجوا دیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ایک مکمل سکوت کا پہرہ ہے۔(جاری ہے)