کیا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا ہے؟

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

کیا یہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے والی بات ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے لئے حلقہ بندیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اس طرح بادی النظر میں تو یہ حکومت پنجاب کی سبکی کا سامان ہے لیکن درحقیقت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے پہلو تہی کرنے والی حکومت کا کام آسان ہو گیا ہے اور اب وہ اس عدالتی حکم کو جواز بنا کر بڑی آسانی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کو التوا میں ڈال سکتی ہے اور اس التوا کی مدت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ بھی کر سکتی ہے جیسا کہ پنجاب کے وزیر بلدیات رانا ثناء اللہ خان نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل نہ کرنے کا بیان دے کر اس حکومتی ارادے کو طشت ازبام بھی کر دیا ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عدالتی فیصلے کے احترام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرکے 30 جنوری تک بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے۔ حلقہ بندیوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اس کے لئے چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ ازسر نو حلقہ بندیوں کے لئے نئی قانون سازی کرنی ہو گی جس کے لئے کم از کم 6 ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ  1998ء کی مردم شماری پر ہونے والی حلقہ بندی کس حد تک جامع ہو سکتی ہے۔ نئے سرے سے مردم شماری کا فیصلہ ہوا تو بلدیاتی انتخابات مزید ایک سال سے ڈیڑھ سال کے عرصہ کے لئے التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔رانا ثناء اللہ کے اس بیان کا جائزہ لیا جائے تو یہ عدالتی فیصلہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کے مترادف ہے۔
 اب بڑی آسانی کے ساتھ 1998ء کی مردم شماری کو غیر جامع قرار دے کر نئی مردم شماری کا چکر چلا کر انتخابات کو 2015ء کے وسط تک ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں پر مسلسل اعتراضات اور احتجاج کا سلسلہ جاری تھا ان کی جانب سے یہ الزام لگایا جا رہا تھا کہ حکومت پنجاب نے مرضی کی حلقہ بندیوں کے ذریعہ (ن) لیگ کے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے اس طور انتظام کیا ہے کہ اس طرح دھاندلی کے الزام سے بھی بچی رہے گی لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اسے ہی دھاندلی قرار دے کر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اگرچہ عدالتی فیصلے سے اپوزیشن کی ان جماعتوں کو اپنی فتح مندی کا احساس ہو سکتا ہے مگر اس کے نتیجے میں انتخابات کے التوا کا صدمہ بھی انہیں ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ اس فیصلے سے گیارہ ہزار چار سو سے زائد کاغذات نامزدگی کی حیثیت مشکوک ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں انتخابی مہم کے لئے جلسے، جلوسوں، بینرز، پوسٹرز اور کھانے پینے کے انتظامات کرنے والوں کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات کی جا رہی تھی کہ حلقہ بندیاں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی مرضی سے کی گئی ہیں تاکہ ان کے نامزد کردہ امیدوار کامیاب ہو سکیں۔ اگرچہ عدالت عالیہ نے 30 جنوری کی مقررہ تاریخ کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم بھی دیا ہے مگر درپیش صورتحال میں یہ اگست  2014ء یا پھر 2015ء میں کسی ماہ ہو سکتے ہیں تاہم اس کا دارومدار بھی حکومت کی جانب سے نظرثانی کی اپیل دائر کرنے یا دائر نہ کرنے پر ہے۔