پیپلزپارٹی کا عیسائی چیئرمین اور جے سالک

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بے نظیر بھٹو کی برسی سے دو دن پہلے اپنی ایک تقریر میں فرمایا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں پاکستان کا عیسائی وزیراعظم منتخب ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج پیپلزپارٹی کی طرف سے تمام اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوا ہے کہ شہید بی بی کے ’’ہر خواب کی تکمیل ہمارا عزم‘ ہمارا مشن‘‘ ممکن ہے پاکستان کا عیسائی وزیراعظم بھی بے نظیر بھٹو کا خواب ہو جسے بلاول بھٹو زرداری پورا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر شاید سیاست میں نووارد بلاول بھٹو پاکستان کے آئین سے واقفیت نہیں رکھتے۔ آئین بھی وہ جسے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ پیپلزپارٹی کے بنائے ہوئے دستور کے مطابق ہی صرف مسلمان پاکستان کا وزیراعظم یا صدر منتخب ہو سکتا ہے۔ اس لئے آئین میں وزیراعظم کے لئے موجودہ شرائط کے ہوتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا یہ خواب یا خواہش پوری نہیں ہو سکتی ۔ آئین میں شاید ایسی ترمیم پیپلزپارٹی کے بس میں کبھی بھی نہ ہو کہ کوئی غیر مسلم پاکستان جیسی اسلامی ریاست کا وزیراعظم منتخب ہو سکے لیکن پیپلزپارٹی کا آئین تو ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ جیسی بھی ترامیم چاہیں اپنی جماعت کے آئین میں کر سکتے ہیں جب بلاول اور خودسابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری پیپلزپارٹی میں ایک عیسائی چیئرمین کی قیادت میں کام کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو اس سے یقیناً پاکستان میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو ایک اچھا پیغام جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے ایسے ’’انقلابی‘‘ فیصلے سے ملک کا وہ طبقہ بھی خوش ہو جائے گا جو یہ کہتے ہیں کہ امور مملکت سے مذہب کا کا تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم  صداقت اور حقیقت کو جاننے کے لئے ہمارے قائداعظم‘ بانی پاکستان کی لا تعداد تقاریر موجود ہیں خود بلاول کو بھی چاہئے کہ اگر وہ مستقبل میں پاکستان کی سیاست میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو وہ پاکستان موومنٹ اور قائداعظم کے تصور سیاست کا گہرا مطالعہ کریں۔ بلاول کو معلوم ہونا چاہئے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کیا تھے۔اگر بے نظیر بھٹو کے بیٹے کو قائداعظم کی تقاریر بزبان انگریزی پڑھنے کی توفیق نہ ہو تو وہ پیپلزپارٹی کے رہنما اصول ہی پڑھ لیں جس میں پہلا اصول یہی ہے کہ ’’اسلام ہمارا دین ہے‘‘ ۔
جے سالک مسیحی برادری کا ایک اصول پسند لیڈر ہے۔ انہوں نے جہاں پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے طویل جدوجہد کی ہے وہاں مذہبی امتیازات سے بالاتر ہو کر انسانیت کیلئے ان کی خدمات محتاجِ بیان نہیں ہیں۔ وہ تین مرتبہ مسیحی برادری کے براہ راست ووٹوں سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر بھی رہے۔ 1996ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے جے سالک کا نام نوبل امن انعام کیلئے بھی تجویز کیا تھا۔ یہ دنیا بھر میں قیامِ امن اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جے سالک کی جرأت مندانہ خدمات کا پاکستان کی طرف سے اعتراف تھا۔ جے سالک کی اصول پسندانہ سیاست کی بھی ایک مثال ملاحظہ ہو کہ جب فاروق لغاری نے اسمبلیاں توڑ دیں اور بے نظیر بھٹو کی حکومت بھی جاتی رہی تو اُس وقت جے سالک وفاقی وزیر تھے۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے بعد نگران وزیراعظم معراج خالد چل کر خود جے سالک کے پاس گئے اور انہیں نگران حکومت میں وفاقی وزارت کا منصب پیش کیا۔ جے سالک کا ایک ہی جواب تھا کہ معراج خالد صاحب میں کوئی گھوڑا خچر نہیں ہوں جسے آپ خریدنے آ گئے ہیں، میں آج ایک وزارت کی خاطر بِک گیا تو مجھے باضمیر کون کہے گا۔ جے سالک کے اس انکار پر معراج خالد بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ جے سالک کا مقام کسی وزارت کا محتاج نہیں وہ دنیاوی جاہ و منصب سے بہت بلند انسان ہے۔ جے سالک کے حوالے سے یہ چند باتیں مجھے اُس وقت یاد آئیں جب اگلے دن اُن سے فون پر کوئی ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر کہ وہ اپنی زندگی میں کسی عیسائی کو پاکستان کا وزیراعظم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں، جے سالک نے ایک اصولی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے مسیحی برادری کو ایک نیا جھانسہ اور نیا فریب دینے کیلئے یہ بات کی ہے اگر بلاول اپنی تجویز میں سنجیدہ ہوتے تو حال ہی میں پیپلز پارٹی کے اکثریتی ووٹوں سے جو 18ویں ترمیم منظور ہوئی ہے اُس میں مسلمان وزیراعظم کی شرط ختم کیوں نہیں کی گئی۔  جے سالک نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو مسیحوں سے محبت ہوتی تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تمام مسیحی تعلیمی اداروں پر حکومت قبضہ کیوں کرتی۔ اگر تعلیم کو قومی تحویل میں لینا تھا تو مسیحی برادری کی جائیدادوں کو تو بلامعاوضہ حکومتی قبضے میں نہ لیا جاتا کیونکہ یہ اقدام اسلامی تعلیمات کے بھی منافی تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کے زمانۂ اقتدار میں پنجاب اور سندھ میں مسیحی تعلیمی اداروں اور ان کے ساتھ منسلک قیمتی جائیدادوں پر حکومت نے قبضہ کر لیا تھا تو اس وقت صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام اور ولی خان جماعت کی مشترکہ حکومت نے یہ دلیل دے کر مسیحی تعلیمی اداروں کو حکومتی تحویل میں لینے سے انکار کر دیا تھا کہ ایک اسلامی ملک میں غیر مسلموں کی جائیدادیں بغیر معاوضہ کے نہیں چھینی جا سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی ارکان کے انتخاب کا موجودہ طریقہ کار اقلیتوں کو براہ راست اپنے ووٹوں سے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ جس جماعت کو جتنی مسلم نشستیں عام انتخابات میں حاصل ہو جاتی ہیں اُس تناسب سے اُسی جماعت کا سربراہ اپنے گھر بیٹھ کر اپنی پسند کے اقلیتی نمائندے پارلیمنٹ میں نامزد کر دیتا ہے۔ یہ طریقہ انتخاب غیر مسلم اقلیتوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔  جے سالک نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی اقلیتوں کے اس بنیادی حق کیلئے درخواست دائر کر رکھی مگر کئی سال گزرنے پر وہاں سے بھی ہمیں انصاف نہیں ملا۔ وفاقی شرعی عدالت کے پاس بھی ہم انصاف طلب کرنے گئے لیکن 3 سال تک کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو ہم نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ اب جو عیسائی وزیراعظم بنانے کا جھانسہ دے رہے ہیں وہ قومی اسمبلی میں اُس بِل کی حمایت کریں جو ایک ہندو ممبر قومی اسمبلی نے پیش کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اگر کھل کر حمایت کرے گی اور مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے ہندو ممبر قومی اسمبلی کا بھرپور ساتھ دیا تو کوئی وجہ نہیں کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے اقلیتوں کا یہ بنیادی آئینی حق دوبارہ بحال ہو جائے کہ وہ اپنے نمائندے براہ راست خود منتخب کر سکیں۔