نواز حکومت کو 2014ء کا اہم چیلنج

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی

گذشتہ 2013ء میں بھی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ 2013ء میں بھی خود کش حملوں ‘ ہینڈ گرنیڈ‘ میزائل حملوں‘ راکٹ حملوں‘ سمیت سر زمین وطن‘ ڈرون حملوں سے لرزتی رہی۔ 2013ء  قومی افق پہ اہم تبدیلیوں کا سال بھی رہا جیسا کہ ملک میں پی پی حکومت کی تبدیلی ن لیگ کی حکومت کے قیام سے ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف‘ چیف جسٹس آف پاکستان کا بدلنا بھی اہم رہا حکومتی سطح پر آنے والی تبدیلیوں سے ملک سے دہشت گردی کی امریکی جنگ کے نقصانات کم نہ ہو سکے۔ اگر مشرف دور کے آٹھ سالوں میں 5 ہزار 365 دہشت گرد حملوں سے 8 ہزار 99 افراد ہلاک ہوئے تو پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں امریکی جنگ کے دہشت گردی کے حملوں میں 4116 افراد لقمہ اجل بنا دئیے گئے (ن) لیگ کے قیام کے بعد 2013ء میں بھی پاکستان کے طول و عرض میں یہ حملے جاری رہے اور 2014ء کے آغاز میں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس سال بھی ملک میں دہشت گردی حملوں کا زور نہیں ٹوٹنے والا 2013ء میں دہشت گردی کی اس امریکی جنگ کے سبب گلوبل اکانومی میں کافی اتار چڑھائو رہا بلکہ خود امریکہ تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہوا۔ شام ‘ کوری اور ایران جیسے ممالک کے لئے 2013ء میں امریکی پالیسیاں تبدیل ہوئیں لیکن مصر میں مرسی حکومت کے خاتمے اور امریکی حکومت کے کردار نے امریکہ کے دہشت گرد چہرے کو بے نقاب کر دیا۔ برما میں بھی بین الاقوامی ضابطہ تحفظ حقوق انسانی کو روندا گیا تاہم برمائی متاثرہ کمیونیٹیزکے حقوق کے لئے عالمی برادری و یو این گنگ رہی۔ 2013 میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک قرارداد منظور ہوئی جس میں پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں میں ہونے والی بے گناہ و معصوم افراد کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہیں بند کرنے کی سفارش کی گئی تاہم امریکہ نے اقوام متحدہ  اور نیٹو افواج کے چند افسران کی مخالفت کے باوجود ڈرون حملوں کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا 2013ء میں بھارتی سرحدی شر انگیزیاں تمام برس جاری رہیں 2013ء کی عالمی سیاس کا جائزہ بتا رہاہے کہ گذشتہ سال امریکہ بھارت گٹھ جوڑ تسلسل کے ساتھ چلتا رہا بھارت اور امریکہ دونوں افغانستان میں طالبات کے دوبارہ ابھر آنے کی سخت مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ طالبان کو افغانی‘ پاکستانی‘ پنجابی و سندھی دھڑوں میں تقسیم در تقسیم کر کے کمزور کر دیا جائے اور یوں اسلحے کے زور پر طالبان کے خلاف اس سخت نقصان دہ جنگ کو سرد جنگ میں تبدیل کر دیا جائے یہ اس لئے بھی کہ امریکی ہائی کمان اپنی گذشتہ 12سالہ دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی اس جنگ کے اب تک کے نتائج سے یہ اندازہ کر چکا ہے کہ افغانستان  کی طالبان فورس کے خلاف جنگ میں بیش بہا سرمایہ کھپانے سے اب ان کا مزید اقتصادی سٹرکچر تباہ ہو جائے گا اور کمزور معیشت کے ساتھ اور مقروض سٹیٹس میں آ جانے کے بعد اس سال 2014 میں ہی ان کا زوال شروع ہوسکتا ہے ؟ غیر ملکی میڈیا میں بھی یہ بات آ رہی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ شاید امریکہ کی جارحیت کا آخری معاہدہ ثابت ہو‘ شاید یہی وجہ ہے کہ 2013ء میں امریکہ ایران‘ شمالی کوریا اور شام کے ساتھ سافٹ ریلیشنز پالیسی لے کر بڑھا ہے تاہم 2013ء میں ترکی کے ساتھ امریکی رویہ سخت نظر آیا شاید یہ ترکی میں اسلام پسندانہ جمہوری حکومت امریکہ اور امریکہ کے حواریوں کیلئے ناقابل ہضم رہی بہرحال امریکہ چاہتا ہے کہ جنوب ایشیاء خطے میں بھارت کا اثر و رسوخ قائم ہو اور پک بھارت الجھائو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی پشت سے پورے پاکستان میں اپنی بلیک واٹر تنظیمیں پھیلا دے اور اسی طرح بھارت بھی افغانستان و پاکستان کے بیشتر حصوں میں قائم اپنے سفارتکاروں سے درپردہ جاسوسیوں کا کام لیتا رہے۔ 2013ء میں مسئلہ کشمیریوں کا تول رہا اور دونوں ملکوں کی جانب سے کسی سنجیدہ پیش رفت کی خبر نہ مل سکی۔ تجزیہ بتا رہاہے کہ 2014ء  میں بھی بھارت یہی کوشش کرے گا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد کے مسائل میں الجھا رہے اور کشمیر ایشو رہا ہے۔ اس لئے 2014ء کو نواز حکومت کو بیدار و چوکنا رہنا ہوگا۔
 کشمیر کا اصولی الحاق تو پاکستان کے وجود کے ساتھ ہو چکا ہے کیونکہ کشمیریوں کے دل اپنے مذہبی و دینی میلان کے سبب پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کشمیر اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کررہے ہیں یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملی نفاذ کا مطالبہ ہے اس مطالبے کی روح یہی ہے کہ تکمیل پاکستان کا عمل سہل ہو جائے 2013ء میں نواز حکومت بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ہی نہیں بلکہ پائوں بھی بڑھاتی رہی ہے اور ممکن ہے کہ پاک بھارت دوستی جنوبی اشیاء خطے کی ضرورت بھی ہو مگر کشمیر کاسٹ پر دوستی پاکستانی قوم اور خود کشمیریوں کو قبول نہیں اس لئے نواز حکومت کو کشمیر کاز یہ 2014ء  میں ٹھوس و دوٹوک پالیسی کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اس کے علاوہ نواز حکومت کیلئے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھارتی آبی دہشت گردی کا معاملہ بھی 2014ء چیلنج رہے گا۔ بھارتی آبی دہشت گردی کے معاملے کو بین الاقوامی پلیٹ فورمز و عدالتوں  میں اپنے حق میں بنانے کے لئے ہماری وکالتوں کا خصوصی سدھار ہونا ضروری رہے گا۔ اگر ہم سفارتی سطح پر بھارت کے ساتھ رہے معاملات درست نہیں کر پاتے اور بھارتی ہٹ دھرمیوں کو بے خوف کائونٹر نہیں کر پائے تو 2014ء  میں پاک بھارت واضح ٹینشن دامن گیر رہنے کا اندیشہ  ہو گا۔ بھارت ہمیشہ سے اپنے قومی مفادات کے حوالے سے ناحق پر اتر آتا ہے۔ اگر ہماری حکومت کو ناحق نہ سہی۔ انتہا پسندی نہ سہی بس اپنے قومی مفادات کیلئے جانبر و جاندار رہنا پڑے گا بیک ڈور ڈپلومیسی و باہمی سفارت کاری سے گر 2013ء میں کچھ نہ بن پایاتو میاں صاحب چاغی کے کارنامے کرنے کا حوصلہ ایک بار پھر دکھا دیجئے گا؟ اب 2014ء کو پاک سرزمین کی نیک بختی میں لکھ دیجئے؟ امریکہ اور بھارت دونوں کی سوچ یہی ہے کہ شمالی اتحاد و طالبان کا ٹکرائو جاری رہے اور اس گیم میں پاکستان کا بیدردانہ استعمال ہوتا رہے نواز حکومت پوری دنیا سمیت امریکہ و بھارت سے دوستی کا خواہاں ضرور ہو لیکن یہ امرنظر انداز نہ کرے کہ 2014ء میں ہمیں اندرونی و بیرونی مسائل کے حل کیلئے امریکی و بھارتی گٹھ جوڑ گیم میں کسی بھی طاقت کے سیاسی روبوٹ بننے سے بچنے کا چیلنج درپیش ہے!!!!