میڈیکل فائل

کالم نگار  |  ڈاکٹر مسعود شیخ

 کچھ روز پہلے اخبار میں ایک خبر پڑھی تو مجھے ایک واقعہ یاد آگیا، ایک بہت ہی بڑی کمپنی میں کسی  ایجنٹ کو بھیجا گیا اور اسکے ذمہ ایک بہت ہی بڑی کامیاب کمپنی کو فلاپ کرنے کا کام تھا۔ اس کام کیلئے اسکو پہلے اس کمپنی میں اعلی عہدہ پر ملازمت دلوائی گئی اور اس کمپنی میں داخل کیا گیا، اسے ایک ہی گزارش کی گئی کہ تباہی کا کام ایسے ہو کہ کسی بھی شخص کو شک نہ ہو پائے۔ اس کمپنی کے تمام ملازم اس سے بہت ہی خوش تھے یہاں تک کہ کسی کو اس سے کوئی شکایت بھی نہ تھی لیکن یہ ایجنٹ پوری طرح سے اپنے ٹارگٹ پر تھا ۔ اور پھر کیا ہوا دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی گھاٹے میں جانا شروع ہوگئی اور ایک دن آیا کہ کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان ہوا اور یہ اپنے پاوئں پر سنبھل ہی نہ سکی۔ جب یہ شخص کام کر کے فارغ ہوا تو کسی نے اس سے پوچھا کہ کمپنی کے تمام ملازمین بھی تم سے خوش تھے، اور تم نے کمپنی کی کوئی پالیسی بھی زیادہ تبدیل نہ کی، لیکن جو تم حاصل کرنا چاہتے تھے وہ کرلیا، ایس اخر کیسے کیا۔ اسنے کہا کہ میں نے ہر اس شخص کو، جو جس کام کا ماہر تھا ، اٹھا کر کسی دوسری پوسٹ پر لگا دیا، اسکی مراعات میں بھی اضافہ کیا، تاکہ وہ کبھی بھی مجھ سے دوبارہ اپنی پوسٹ پر آنے کا تقاضا نہ کرے، اس طرح میں فردا فردا لوگوں کو دوسرے شعبہ میں لگاتا رہا، دیکھتے ہی دیکھتے تمام کاروبار فلاپ ہوگیا، جبکہ کام کرنے والے ملازمین خوش ہو کر میرے ساتھ رہے ۔ یہ واقعہ شاید مجھے اسلئے یاد آ یا کہ کچھ روز پہلے ایک خبر کسی سینئر ڈاکٹر کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنی جس میں یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ بڑے تدریسی ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل کیڈر ڈاکٹرز کی بجائے پروفیسرز کو بنا دیا جائے، اور اسکی توجیح یہ دی گئی کہ ان کے آنے سے ہسپتالوں میں بہتری آجائے گی۔
ذرا سوچئے، ہسپتالوں کا انتظامی کام سنبھالنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں اس میںصرف دفتر میں بیٹھ کر ہی کام نہیں ہوتا بلکہ اور بھی بہت ساری کام ایسے ہیں جو کہ ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں کی کارکردگی کو جانچنے کیلئے عملہ کی حاضری کو یقینی بنانا، ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسنگ سٹاف کا روسٹر درست رکھنا، کسی بھی ہنگامی حالات سے نمبرد آزما ہونے کیلئے ہسپتال کے عملہ کو نہ صرف تیار رکھنا بلکہ ادویات اور دیگر ضروری سامان کا بھی تخمینہ لگائے رکھنا۔ یہ یقینی بنانا بھی ایم ایس کا کام ہے کہ ہسپتال کا ساز و سامان درست کام کر رہا ہے کہ نہیں، آپریشن تھیٹر کا معیار کیسا ہے، کسی قسم کی کوئی انفیکشن تو ان میں موجود نہیں، ان کی صفائی کا انتظام کیسے کیا گیا۔ کیا کوئی جراثیم ایسا تو نہیں جس کا حملہ اس وقت ہسپتال میں ہو چکا ہے۔ ہسپتال میں میڈیکل آڈٹ کروانا اور یہ جاننا کہ علاج معالجے کا معیار بہتری کی طرف جا رہا ہے یا کہ گرنا شروع ہو گیا ہے۔ پھر جنرل کیڈر کے ہیلتھ مینیجرز کا یہ بھی کام ہے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائز ہ لے ۔ پولیو کی روک تھام ہو یا پھر ڈینگی یا ملیریا کا کنٹرول ، فیلڈ میں کام کرنے والے جنرل کیڈر سے تعلق رکھنے والے یہ ہیلتھ منیجرزہی ہیں جو کہ دن رات محنت سے عوام کو ان بیماریوں سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر مختصرا یہ کہا جائے کہ فزیشن کا کام تو کسی ایک مریض کا علاج ہوتا ہے جبکہ کمیونیٹی کا علاج اور ان بیماریوں کے خلاف عوامی آگاہی مہم چلانا، انہی جنرل کیڈر ڈاکٹرز کا کام ہے۔ جنرل کیڈر سے تعلق رکھنے والے یہ ہیلتھ مینیجرز نہ صرف اس کام میں تجربہ کار ہوتے ہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ اس فیلڈ میں ماسٹر ڈگری بھی رکھتے ہیِ، اور یہ ڈگری باقائیدہ پی ایم ڈی سی سے تسلیم شد ہ ہے۔ اس ڈگری کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان ڈاکٹروں کو آئندہ ہیلتھ مینیجر لگایا جائے گا ۔
اب ذرا سوچئے کہ ایک ایسا ڈاکٹر جو کی عوامی صحت کے مسائل سے نابلد ہو، جس کی ٹریننگ میں ہیلتھ مینجمنٹ کا کوئی حصہ نہ ہو، جس کے کیڈر کا بنیادی مقصد ڈاکٹروں کو تعلم دینا ہو، میڈیکل کہ شعبہ میں تحقیق اسکا فرض ہو، اور نئے پڑھنے والے ڈاکٹروں کی اعلی تعلیم و تربیت انکے کیڈر کا اصل کام ہو،اسکو کیسے اسکے اصل کام سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اگر انکو ہسپتالوں میں انتظامی ذمہ داریاں ہی سونپنا تھیں تو آخر انکو کلینکل فیلو شپ کروانے کی کیا ضرورت تھی، اور انکو تو ہیلتھ مینیجرز کا ہی کورس کروانا چاہیے تھا۔