منی لانڈرنگ، ہنڈی سکینڈلز۔۔۔ حکومت بیدار ہو!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

خبر گرم ہے کہ منی لانڈرنگ اور ہنڈی کے ذریعے 50ارب روپے بیرون ملک منتقل کر دیئے گئے لیکن ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم بڑے مگرمچھوں کو بچانے کے لئے سرگرم ہے۔ خبر کی تفصیلات کچھ یوں بیان کی جا رہی ہیں کہ سابق وفاقی وزیر عبدالرزاق، رینٹل پاور کوبرا سکینڈل کے درمیان اقبال زیڈ احمد، بلال ایکسچینج، اویس ایکسچینج نے اربوں روپے بیرون ملک بھیجے۔ ایسا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ طاقتور کرداروں نے سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کے تعاون سے ہونے والی انکوائری پر اثرانداز ہو کر مرضی کے تفتیشی افسروں کو تعینات کروایا۔ منی لانڈرنگ اور ہنڈی/حوالہ کے ذریعے غیرقانونی طور پر سرمایہ بیرون ممالک منتقل کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ کاش سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہوتے تو وہ اس پر سوموٹوایکشن لے کر وطن عزیز کو بھاری بھر کم نقصان سے بچا لیتے۔ افتخار محمد چوہدری ہنڈی کے ذریعے غیرقانونی طور پر سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر سوموٹو ایکشن لے کر تاریخ ساز جرات مندانہ کردار ادا کر چکے ہیں تاہم منی لانڈرنگ اور مختلف ذرائع سے بیرون ممالک سرمایہ منتقل کروانے سے ملکی معیشت پر ناقابل تلافی نقصانات مرتب ہوتے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب و رسد میں فرق سے خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح نئے نوٹ چھاپنے کا بحران بھی جنم لیتا ہے جیسے حال ہی میں ہمارے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 226ارب کے نئے نوٹ چھاپنے پڑے لیکن افسوس ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی غیرقانونی طور پر بیرون ملک سرمایہ منتقل ہونے پر اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت معرض وجود میں آتے ہی خنانی اینڈ کالیا کا ایک سکینڈل منظرعام پر آیا تھا لیکن اس وقت بھی سٹیٹ بینک کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ ان کو کوئی شواہد مہیا نہیں کئے گئے۔ ایف آئی اے کے ذرائع تصدیق کرتے رہے کہ مالیاتی سکینڈل میں دباؤ سے تفتیش سست ہوئی وگرنہ آزادانہ پوچھ گچھ سے ایک ہفتے میں 125ملین ڈالر ملک میں واپس آ سکتے تھے۔ ایف آئی اے نے خنانی اینڈ کالیا سکینڈل پر اپنی 400صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ڈالر سکینڈل میں 28بیوروکریٹس اور 14معروف سیاستدان شامل ہیں۔ شاید آج بھی یہی کچھ جاری ہے جس طرح رحمان ملک کے ذریعے اثرانداز ہونے کا انکشاف ہو چکا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور ایک سکینڈل کے اہم کردار کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ملکی معیشت کو کیسے مضبوط تر کیا جا سکتا ہے کہ جب ہر طرف سے غیرقانونی سرگرمیاں جاری ہیں اوپر سے ہمارے ملک میں کام کرنے والی غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو منافع اپنے ممالک بھیجنے کی اجازت بھی ہے ۔ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی غیرملکی کمپنیوں نے 41کروڑ ڈالر کا منافع اپنے ممالک بھیجا۔ ان کمپنیوں میں مالیاتی شعبہ میں کام کرنے والی کمپنیوں نے 11کروڑ 20لاکھ ڈالر، ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے کی کمپنیوں نے 10کروڑ 20لاکھ ڈالر، تھرمل پاور کے شعبے کی کمپنیوں نے 7کروڑ 20لاکھ ڈالر منتقل کئے جبکہ دوسری طرف اسی عرصہ کے دوران دسمبر 2013ء کے دوسرے ہفتے میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 12سال کی کم ترین سطح پر آ گئے۔ سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6دسمبر 2013ء کو 2.9ارب ڈالر کی سطح پر آ گئی حالانکہ 29نومبر سے 6دسمبر ایک ہفتے کے دوران 2013ء میں زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 8کروڑ 35لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی جس کے باوجود حکومت کوئی اقدام نہ اٹھا سکی۔ پاور سیکٹر کو ادائیگی کے لئے 216ارب روپے کے گردشی قرضوں کے لئے نئے نوٹ تو چھاپے جا سکتے ہیں مگر معاشی و اقتصادی طور پر کچھ بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مختصر عرصے کے لئے معاشی و اقتصادی ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی جائے اس پر کیا کہا جائے اور کس حد تک افسوس کیا جائے کہ توانائی بحران کی وجہ سے گذشتہ مالی سال 2012-13ء کے دوران ملک میں کام کرنے والی 3563ٹیکسٹائل کمپنیوں میں سے 265ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئیں۔ ان 265کمپنیوں  میں سے 261 نے کھربوں روپے کا سرمایہ ہنڈی/حوالہ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا۔ صرف 4کمپنیوں نے سٹیٹ بینک کی باقاعدہ اجازت سے 92لاکھ 90ہزار ڈالر ملک سے باہر منتقل کئے۔ خود وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ سرمایہ بنگلہ دیش، بھارت، دبئی، یورپ اور افریقی ممالک میں منتقل کیا گیا تھا لیکن حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ منی لانڈرنگ اور ہنڈی کے ذریعے مزید 50ارب روپے بیرون ملک منتقل کرنے کا ایک نیا سکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ دراصل حکومت کے انہی غیرموثر اقدامات، حکمت عملی اور عدم توجہی کا نتیجہ ہے کہ تاحال روپے کی قدر گرنے سے ملکی معیشت کو جو 770ارب روپے کا نقصان ہوا تھا اس کے اثرات ہر شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں اور مہنگائی کی شرح میں بھی خوفناک حد تک اضافہ جاری ہے۔ آئی ایم ایف کی پیشین گوئیوں سے کہیں زیادہ مہنگائی کی شرح بلند ہوئی ہے اور خدشات موجود ہیں کہ افراط زر کی شرح مزید بڑھے گی۔ حکومت کو ملک کے فنانشل میٹرز کا مسائل کا حل پرانے طریقوں کی بجائے موجودہ صورتحال کے مطابق نکالنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی دوسری قسط موصول ہونے کے بعد 8ارب 52کروڑ 14لاکھ ڈالر تک تو پہنچ گئے ہیں لیکن پھر بھی حکومت پر معیشت کی مضبوطی اور عوام کا نگہبان ہونے کے ناطے سخت ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منی لانڈرنگ اور ہنڈی کے ذریعے پچاس ارب روپے بیرون ملک منتقل ہونے کا جو سکینڈل سامنے آیا ہے اس کی سخت ترین غیرجانبدارانہ انکوائری کرتے ہوئے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دیتے ہوئے غیرقانونی طور پر بیرون ملک سرمایہ منتقل ہونے کا باب ہمیشہ کیلئے بند کر دے کیونکہ ایسا ہونے سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونے سے قوم کے ہر فرد پر غیرملکی قرضے کا حجم خوفناک حد تک بڑھ جاتا ہے جس کے باعث افراط زر، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں مزید خطرناک اضافے سامنے آتے ہیں۔