یکجہتی کشمیر .... صرف قراردادیں پیش اور منظور نہ کی جائیں

کالم نگار  |  نغمہ حبیب

1990 سے لے کر آج 2014 تک ،یعنی گذشتہ چوبیس سال سے ہم ہر پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں اور پھر سال کے تین سو چونسٹھ دنوں میں اس مسئلے کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ہاں کشمیر سے منسوب چند ایک مخصوص دنوں میں اخبارات میں چند مضمون لکھ اور پڑھ لیتے ہیں اور بس اس کے بعد چا ہے کشمیر میں قتل عام کیا جائے یا عورتوں اور بچوں سے بد سلوکی کی جائے ،پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی جائے، پاکستان پر الزامات لگائے جائیں ، اپنے ہاں ہونے والی تمام دہشت گردی پاکستان کے کھاتے میں ڈالی جائے یا ہمارا پانی روکا جائے ہماری حکومت سب کچھ بھلا کر کبھی بھارت کو پسندیدہ ترین قوم قرار دینے کی کوشش میں مصروف ہو جاتی ہے یا پھر تجارت کی خواہش کرنے لگتی ہے، چاہے پھر ہمارے ٹرکوں پر الزام لگا کر روک دیا جائے اور ایک بار پھر ہماری قومی سبکی کی جائے۔ یوم یکجہتی کشمیر کو اگر صرف بطور چھٹی نہ منا یا جائے اور صرف قرار دادیں پیش اور منظور نہ کی جائیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں اور سال بھر کئے جائیں تو زیادہ موثر ہوں گے ۔مسئلہ کشمیر کو نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ آج کے جدید دور کے طاقتور میڈیا کو بھی آگے بڑھ کر اجا گر کرنا چا ہیے اور بھارت سے دوستی کا راگ الاپتے وقت کشمیریوں کی چیخ و پکار کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا کہ وہ اس مسئلے کے حل میں سنجیدگی دکھائے اور اس کی اہمیت کو سمجھے بلکہ دنیا کے امن کو اس سے لا حق خطرات کا احساس کرے کہ بھارت صرف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیر کا معاملہ حل نہیں کر رہا اور ایک مسلمان ریاست پر غاصبانہ قابض ہے۔ اس کی سات لاکھ فوج کو یہاںہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں کہ کسی بھی کشمیری کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرے اور انہی اختیارت کو استعمال کرتے ہوئے ہزاروں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے جس میں بچے، بوڑھے اور جوان سب شامل ہیں۔ اکثر اوقات دریافت ہونے والی اجتماعی قبریں اس بات کا ثبوت ہے کہ اجتماعی قتل عام کیا جاتا ہے اور اپنے جرم پر منوں مٹی ڈال کر اُسے چھپا لیا جاتا ہے اور حیرت ہے کہ دنیا میں عام طور پر اور پاکستان میں خاص کر زمین کی تہوں سے جرم کو نکال کر باہر کرکے اور دنیا کو دکھا دینے والی این جی اوز اور میڈیا ایسے انسانیت سوز مظالم اور جرائم اگر نظر آ ہی جائیں تو ان پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ورنہ اکثر اوقات تو آنکھیں ہی بند رکھتے ہیں دنیا کا یہ رویہ تو سمجھ میں آتا ہے اور وجوہات کا ذکر میں شروع میں کر چکی ہوں لیکن ہمارا اپنا بھی یہی حال ہے۔دن منا نا بھی اچھا ہے کہ یوں ہم اپنی نئی نسل کو بھی یاد لاتے ہیں اور انہیں کسی بھی معاملے کی نوعیت اور اہمیت سے آگاہی دیتے ہیں لیکن زیادہ ضروری اس کے حل کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنا اور پھر اپنے مطا لبے کو منوانے کے لیے سفارتی سطح پر بھی کام کرنا ہے۔ اگر اس مسئلے کو حل کر لیں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔