یوم یکجہتی کشمیر اور اس کے تقاضے

کالم نگار  |  احسان اللہ تبسم

پاکستان آزاد کشمیر‘ مقبوضہ کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔ یہ دن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف 5 فروری 1990ءسے منایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے غیور مسلمان قیام پاکستان سے پہلے بھی ڈوگرہ راج سے اپنی آزادی کیلئے ٹکراتے رہے۔ 1947ءمیں مظلوم کشمیریوں کو اپنی آزادی کی امید ہوئی لیکن عرصہ دراز وعدوں‘ قراردادوں‘ یادداشتوں‘ مظاہروں اور مذاکرات میں نکل گیا ہندوستان نے اٹوٹ انگ کی رٹ اور اقوام متحدہ نے بے حسی نہ چھوڑی تو 1990ءمیں کشمیری نوجوانوں نے جہاد کا پرچم تھام کر قابض ہندو فوج سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ آفرین ہے اس 24 سالہ جدوجہد آزادی پر جو آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ‘ پرعزم اور استقامت کا پہاڑ بن کر وادی کشمیر میں اپنی جگہ جاری و ساری ہے۔ یہ ان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حق میں مظاہرے و جلسے منعقد ہوں گے اور جلوس نکالے جائیں گے جن میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔ اپوزیشن اور حکومت پاکستان نے بھی اس روز کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کا اعلان کر رکھا ہے۔ کشمیریوں سے یکجہتی کا اعلان خوش آئند اقدام ہے لیکن یہ یکجہتی محض زبانی حد تک رہ گئی ہے۔ اس لئے کہ اب حکومت پاکستان کی طرف سے ایسی باتیں کہی جا رہی ہیں جو بھارتی حکمرانوں کے دعو¶ں کو تقویت دے رہی ہیں۔ حکومت پاکستان امریکی دبا¶ میں آکر کشمیری کے حوالے سے اپنے بنیادی اور اصولی موقف سے انحراف کرکے کشمیر کے ایک لاکھ سے زائد شہدا کی عظیم قربانیوں سے غداری کی مرتکب ہو رہی ہے۔ مقام افسوس ہے کہ آج جب کشمیر کی تحریک ایک فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکی ہے اور بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں دبا¶ کا شکار ہے ایسے میں پاکستان کو استقامت سے کھڑے رہنا چاہئے تھا اور تمام تر دبا¶ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ پاکستان نے اپنی پالیسی کو یکسر تبدیل کر دیا حکومت پاکستان کا یہ اقدام تحریک آزادی کشمیر کو اندھے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر ضرور منایا جائے لیکن محض رسماً زبانی نعرے اور دعوے کرنے کے بجائے عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ہمیں اس موقع پر دو ٹوک فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم اپنی غیرت و حمیت کا سودا نہیں کریں گے۔ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ پاکستان کی جوہری طاقت کی حفاظت کریں گے ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم امریکی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کریں گے اور اپنی خودداری اور سالمیت و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پوری پاکستانی قوم کو اس عہد کی تجدید کرنا ہو گی کہ کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان تک آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی قوم کو یہ عزم بھی کرنا ہو گا کہ کشمیر کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے شہدا کشمیر کے خون سے کسی حکمران کو غداری نہیں کرنے دیں گے اور تقسیم کشمیر کی سازشیں ناکم بنا دیں جائیں گی۔مظلوم و محکوم کشمیری پاکستان اور عالم اسلام کی مدد کے منتظر ہیں مقبوضہ کشمیر کی مائیں اور بہنیں بھارت کے غاصبانہ اور ظالمانہ شکنجے سے آزادی کیلئے آج بھی کسی محمد بن قاسم‘ صلاح الدین ایوب اور طارق بن زیاد کی منتظر ہیں۔ پاکستانی عوام کو مسلمانوں کے ان عظیم جرنیلوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مظلوم بھائیوں کی مدد کو پہنچنا ہو گا۔ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ مجاہدین صرف اپنی آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ وہ سالمیت وہ دفاع پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ آج کشمیر کا کوئی گھر ایسا نہیں جو شہید کا گھر نہ ہو۔ گذشتہ 24 برسوں میں بستیوں کی بستیاں اجڑ چکی ہیں آج کشمیر میں شہر ویران اور قبرستان آباد ہو چکے ہیں۔ ان عظیم قربانیوں کا تقاضا ہے کہ آزادی کی اس تحریک کو جاری رکھا جائے۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہئے جب تک کشمیری اپنی منزل آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔