یوم یکجہتی کشمیر

کالم نگار  |  محمد جمیل

برصغیر کی تقسیم کے وقت کشمیری اپنی آنکھوں میں آزادی کے خواب سجائے بیٹھے تھے مگر لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کے ساتھ مل کر سازش کے ذریعے کشمیر کو بھارت میں مد غم کرنے کا پلان تیار کر لیا ۔ در حقیقت تقسیم ہند کے فارمولے کی روح سے ہندو یا مسلم اکثریت علاقوں کی بنیا د پر انہیں بھارت یا پاکستان کا حصہ بننا تھا مگر ریاستوں کے معاملے میں چونکہ بدنیتی کا عنصر شامل تھا ان کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہ کیا گیا ۔برصغیر کی تقسیم کے بعدپاکستان اور بھارت کے درمیا ن نازک ترین مسئلہ تین ریاستوں کا الحاق تھا ۔ انتقال اقتدار کا فیصلہ کرتے وقت 565ریاستوں پر سے تا ج برطانیہ کی عملداری ختم ہوگئی تھی اور والیا ن ریاست کو اپنے جغرافیائی محل وقوع اور ریاست میں بسنے والوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کرنا تھا۔ 15اگست 1947ءسے قبل تقریبا ً تمام ریاستوں نے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا لیکن جو نا گڑھ ، حیدر آباد اور کشمیر کی ریا ستوں کے الحاق پر مسئلہ پیدا ہو گیا۔ 15اگست 1947ءکو نواب جو نا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا اور 15ستمبر 1947ءکو پاکستان نے قبول بھی کر لیا لیکن بھارت کے گورنر جنرل اور غیر منقسم ہندوستان کے سابق وائسرائے نے قائداعظم کو تار کے ذریعے پیغام بھیجا کہ جونا گڑھ کا پاکستان کے ساتھ الحاق ان اصولوں کے منافی تھا جس کے تحت برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی تھی ۔ 17ستمبر کو امن و امان بر قرار رکھنے کی بنیا د پر بھارتی کا بینہ نے اپنی فوجوں کو ریاست جونا گڑھ کا محاصرہ کرنے کا حکم صادر کر دےا اور والیی رےاست جان بچا کر پاکستان آ گےا ۔ پاکستان نے اس اقدام پر احتجاج کےا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مےں درخواست بھی دی مگر اس پر کوئی قرار داد پاس نہ کی گئی اور ےہ درخواست اقوام متحدہ مےں غالباً ©داخل دفتر کر دی گئی۔ رےاست حےدر آباد کا حکمران مسلمان تھا اور وہاں کی آبادی 85فےصد ہندو تھی ، تقسےم ہند کے وقت نظام حےدر آباد نے اعلان کےا کہ اپنی آزاد حےثےت برقرار رکھےں گے۔ ماﺅنٹ بےٹن نے نظام سے کہا کہ حکومت برطانےہ حےدر آباد کو ڈومےنےن کا درجہ نہےں دے گی اور اسے مشورہ دےا بلکہ دباﺅ ڈالا کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق کرے۔ بہر کےف نظام نے بھارت کے ساتھ اےک سال کامعاہدہ قائمہ کر لےا ، لےکن بعد ازاں اس کی ناکہ بندی کر کے اسے بھارت کے ساتھ الحاق کے لےے مجبور کےا گیا، اور 12ستمبر 1948کو بھارتی فوج نے حےدر آباد پر قبضہ کر لےا ۔تیسری ریاست جموں کشمیر تھی جہاں کی غالب آبادی مسلمان اور پاکستان سے متصل تھی لہذا محل وقوع اور مسلم آبادی کے مفادات سے جو تین جون کے فارمولے کی روح کے مطابق اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ نا گزیر تھامگر اس ضمن میں پہلے سے ہی سازش تیار کر لی گئی تھی ۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا زمینی رابطہ ایک چھوٹے سے قطعہ زمین ضلع گورداسپور تھا مگر ریڈ کلف ایوارڈ میں تبدیلی کر کے وہ قطعہ بھارت کو دے دیا گیا تاکہ بھارت بھی کشمیر پر اپنا حق جتا سکے ۔ ریاست جموں وکشمیر کاراجہ ہندو تھا مگر وہ اپنی اکثریتی آبادی کی مرضی اور منشاءکے خلاف فیصلہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ماﺅنٹ بیٹن نے ایک مرتبہ پھر دھونس اور دھاندلی کے ذریعے بلکہ جعل سازی سے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کر ا دیا ۔ کشمیر میں شورش بر پا ہوئی اور بھارت کی پولیس ایکشن کے ذریعے دبانے کو کوشش کی ۔ پاکستان سے رضا کار کشمیر ی بھائیوں کی مدد کیلئے جب کشمیر میں داخل ہوئے تو یہ بھارت ہی تھا جو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا ۔ سلامتی کونسل میں دو قرا ردادیں پاس کی گیئں جن کی رو سے کشمیریوں کے حق خودارایت کو تسلیم کر لیا گیا اور قرار دیا گیا کہ وہاں رائے شماری کے ذریعے فیصلہ ہوگا کہ کشمیری بھارت یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔1989ءسے کشمیر یوں نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا جواب مسلح جدوجہد سے دینا شروع کیا تھا مگر 9/11کے بعد کشمیریوں کی جدو جہد کو بہت نقصان پہنچا کیونکہ اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس انداز سے پیش کیاگیا کہ جنگ آزادی اور دہشت گردی کے مابین فرق ہی ختم ہو کر رہ گیا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارد اد وں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ اقوام متحدہ ایک ایسی ©”عالمی عدالت“ہے جہاں قبضہ سچا اور دعوی جھوٹا سمجھا جاتا ہے ۔ آج امریکہ ، یورپی ممالک حتی کہ مسلم ممالک بھی پاکستا ن کے موقف پر ساتھ کھڑے ہونے کو تیا ر نہیں اور وہ دو طرفہ مذاکرات پر ہی زور دے رہے ہیں ۔ سابق صدر جنرل مشرف نے کئی مرتبہ بھارت کو سخت گیر موقف چھوڑنے پر پاکستان کی طرف سے لچک کا مظاہر ہ کرنے کا عندیہ دیا تھا ، مگر بھارت کی طرف سے سخت سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا ۔ آج بھارت اٹوٹ انگ کی رٹ چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کو مذکرات کے ذریعے حل کرنے کے عمل میں شریک تو ہے مگر اس کی قیادت کا اسرار ہے کہ سر حدوں میں تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ لہذا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ صرف لہجہ تبدیل ہوا ہے اور بھارت اپنے موقف سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ آزادی کے جذبے کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال ہمیشہ بے ثمر ہی رہتا ہے۔ تاریخ انسانی اس امر پر بھی گواہ ہے کہ ظلم کبھی نہیں پپنتا۔ برطانوی سامراج کا حال ہمارے سامنے ہے، جس کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اب وہاں سورج طلوع ہی نہیں ہوتا۔ ویت نام میں امریکا اور افغانستان میں سوویت روس کو جو سبق حاصل ہوا، بھارت کے عقابوں کو ان سے عبرت پکڑنی چاہیے کہ کوئی بھی عظمت کے خواب دیکھنے والی یا توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والی قیادت جب مہم جوئی کے راستے پر چل نکلتی ہے تو صرف عوام کی زبوں حالی پر ہی نہیں، بلکہ بڑی سے بڑی سلطنت یا ایمپائر کی شکست وریخت پر منتج ہوتی ہے۔ امید ہے کہ بھارتی قیادت ٹھوس زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جوش جنوں پر غلبہ حاصل کرے گی اور جس طرح پاکستان کو فریق تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات پر آمادہ ہو گئی ہے، اسی طرح کشمیریوں کو بھی فریق تسلیم کر کے مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔