کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اتحاد‘ اتفاق اور دوستی

کالم نگار  |  تنویر ظہور

ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے یعنی کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اتحاد، اتفاق اور دوستی کا دن۔ اس دن دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یہ عہد کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور مسئلہ کے حل تک وہ جھکیں گے نہ بکیں گے اور نہ رُکیں گے۔ یہ تنازع دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کے حل کیلئے کوششیں عالمی سطح پر بھی کی جا رہی ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کو یہ بتانا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد کا مقصد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کرنا ہے۔ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف آج لاہور میں مختلف سیاسی جماعتیں اور کشمیری تنظیمیں مظاہرے، ریلیاں اور سیمینار منعقد کریں گی۔”پاکستان، کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہے۔“ قائداعظمؒ کا ارشاد بڑا حکیمانہ تھا۔ وہ کوئی جذباتی بات نہیں تھی بلکہ وہ جغرافیائی، دفاعی، معاشی، تاریخی اور سماجی ہر اعتبار سے ایک پوری تاریخ ہے۔ حقیقت ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی باغیرت قوم اپنی شہ رگ کو مستقل طور پر دشمن کے قبضے میں نہیں دے سکتی۔ اس مسئلہ میں کشمیری عوام بلاواسطہ، پاکستان اور بھارت بالواسطہ شریک بلکہ فریق ہیں۔ یہ مسئلہ محض ایک مخصوص خطے کی آزادی کا نہیں بلکہ تحریک پاکستان کا ایک حصہ ہے جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کی تحریک تھی۔ کئی لوگ تو بھارتی پراپیگنڈہ سے متاثر ہیں۔ کشمیر کی تقدیر پاکستان کے ساتھ ہے، تاریخ پاکستان کے ساتھ ہے اور کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ ہیں۔ 1948ءمیں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش ہُوا تو اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام کے فیصلے کو اگرچہ تسلیم کر لیا مگر کہا کہ اصل فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کریں گے لیکن صورتحال کو جوں کا توں ہی رہنے دیا۔ اسی روز سے بھارت نے کشمیر کی اہمیت اور جغرافیائی حیثیت کو محسوس کرتے ہوئے وہاں پر اپنی مسلح افواج کو من مانی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی۔ یوں کشمیر کے مسلمان نہتے اور قلیل وسائل کے باوجود بھارتی فوجیوں کا مقابلہ کرتے رہے اور قربانیاں دیتے رہے۔ اسی تنازع کشمیر پر دو جنگیں ہو چکی ہیں لیکن کشمیری مسلمان آج بھی اپنے حق خود مختاری اور حکومت خود اختیاری کے ترساں ہیں۔ پاکستان کا مو¿قف اقوام متحدہ کے مطابق ہی رہا ہے لیکن بھارت نے اس دوران میں کشمیر کو ایک دارالحرب بنا رکھا ہے جہاں پر صرف مسلمانوں ہی کا خون بہتا رہتا ہے۔ مسلمان بھی ہر لمحہ اور ہر پَل اپنے خون سے ارضِ کشمیر کو سرخ کرتے رہتے ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے اگرچہ ہر سال پورے پاکستان میں کشمیری مسلمانوں کیلئے جلسے، جلوس، ریلیاں، احتجاج اور تقریریں ہوتی رہتی ہیں مگر بھارت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حکومت ایوانوں، ثقافتی اداروں اور مذہبی مراکز میں بھی پُرزور انداز میں اس امر کا اعلان کیا جاتا ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھارتی جارحیت پر احتجاج کرتے اور مسلمانان کشمیر کے ساتھ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ کشمیری مسلمانوں پر بھارتی مظالم کی پُرزور انداز میں مذمت کرتے ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر اس ازلی حقیقت کی بھی علامت ہے کہ ہر پاکستانی دل و جان سے ہمہ وقت کشمیری مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی اور ان کے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر اس امر کی بھی دلیل ہے کہ حکومت اور پاکستانی عوام ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ اس روز دنیا کو باور کرایا جاتا ہے کہ کشمیر میں اکثریتی مسلمانوں کا آزادی کا حق ہے اور وہ کشمیر کو بھارتی فوجوں سے واگزار کرنے میں کشمیری مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ کشمیریوں پر ہر روز جو نت نئے مظالم، دہشت گردی، مسلمانوں کی حق تلفی جاری ہے اس سے پوری انسانیت کی جو مستقل تذلیل ہو رہی ہے، خطہ کشمیر کے اکثریتی مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھا جائے۔ کشمیر میں سے بھارتی فوجوں کا مکمل انخلا اور انسانوں کو بے جا قتل و غارت سے بچایا جائے۔ کشمیریوں کو اپنی مرضی سے اپنا حق اختیار کرنے دیں۔