کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور عوامی جذبات

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

یوم یکجہتی کشمیر نے دیکھا جائے تو ملک میں ایک روائتی تہوار کی سی شکل اختیار کرلی ہے کئی برسوں کی طرح آج بھی ملک بھر میں کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لئے جلسے ہوں گے ، جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ سیمنار ہوں گے کشمیری عوام پر بھارت کی فوج کے مسلسل مظالم کی مذمت اور احتجاج کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جموں و کشمیر میں استواب رائے کی قرار دادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جائے گا کشمیری عوام کی مظلومیت پر دکھ کا اظہار اور ان کے جذبہ حریت کو سلام پےش کیا جائے گا آزادی کشمیر کے لئے جہادی جذبوں پر مشتمل نغمے اس روز فضا میں گونجتے رہیں گے گلیاں اور بازار سڑکیں او چوراہے اظہار یکجہتی پر مشتمل بےنروں، پوسٹروں، اشتہاروں او ہورڈنگز سے سج جائیں گے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اسی روز بڑھ چڑھ کر تقاریب کا اہتمام کریں گی۔ اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں گے اور ٹی وی چینلوں سے خصوصی پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوں گے ملک میں عام تعطیل ہوگی۔ 2012ءمیں بھی یہی سب کچھ ہوا تھا اور یقین رکھنا چاہےے۔2015ءمیں بھی یہی کچھ ہو گا اگرچہ دل کی گہرائیوں سے دعا ہے 2015ءکشمیریوں کی بھارتی استبداد سے آزادی کا سال بن جائے بلکہ 2014ء بھی، بلاخوف تردید اس روز عوامی سطح پر حقیقی جذبوں کا اظہار کیا جاتا ہے جن جذبات کا مظاہرہ ہوتا ہے ان کی سچائی پر انگشت نمائی نہیں کی جا سکتی بے شک وہ ہر لحاظ سے سچے ہیں اور اس روز کشمیریوں کی آزادی کے لئے جان تک کی قربانی دینے کے جو نعرے بلند کئے جاتے ہیں ان میں اخلاص کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے کبھی ایسا وقت آیا تو پاکستان کے نوجوان اپنے کشمیری بھائیوں کی زندگیاں بچانے غلامی سے نجات دلانے اور کشمیری بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں کی حفاظت کی جدوجہد حریت کی داستان اپنے مقدس لہو سے رقم کریں گے۔لیکن کیا حکومتی سطح پر بھی اس اخلاص کا مظاہرہ ہو گا ماضی کے اوراق پلٹے جائیں تو بہت مختلف تصویر منہ چڑاتی نظر آتی ہے حکومتی سطح پر کشمیریوں کے کاز کو بہت بڑا نقصان پہنچا جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن میں تبدیل کر کے عملاً سرحد کی شکل دے دی گئی پاکستان کی کسی حکومت نے رسمی بیانات اور پھسپھسے مطالبات کی بجائے سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درامد کے لئے بین الاقوامی سطح پر موثر مہم نہیں چلائی کشمیریوں پر ہونے والے آئے روز مظالم کے خلاف عالمی رائے عامہ بیدار کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی اور جنرل مشرف کے دور میں تو اعتماد سازی کے اقدامات کے نام پر کشمیری اور ان کے حامی مجاہدین کو بے اثر کیا گیا آزاد کشمیر میں ان کے تربیتی کیمپ بند کئے گئے جبکہ اپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھانے کے حق کو اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کنٹرول لائین پر آہنی باڑ لگانے کی اجازت دے کر بھارت کو موقع دیا گیا کہ وہ اسے مستقل سرحد میں تبدیل کر دے ، بھارت کو پاکستان کے دریاﺅں پر بگلیہار اور کشن گنگا سمیت بہت سے ڈیم بنانے کی سہولت نظر انداز کرنے کا وطیرہ اختیار کر کے فراہم کی گئی۔ زرداری سےٹ اپ میں بھارت اور کشمیر کے حوالے سے مشرف دور کی پالیسیوں کو جاری رکھا گیا جبکہ موجودہ دور میںبھارت سے تجارت سے جنون کی شکل اختیار کر چکی ہے جبکہ اسی تجارت سے بے پناہ فائدہ حاصل کرنے کے باوجود بھارت پاکستان کے خلاف اپنی معاندانہ روش برقرار رکھے ہوئے ہے پاکستان کے سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی بھر مار ہے بھارت کے پاکستان دشمن چہرے پر خود پاکستانیوں کی جانب سے ” امن کی آشا“ کا نقاب ڈالا جا رہا ہے اس صو2رت میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی محض ایک رسم نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کئی برسوں کی طرح اسی سال سے یوم یکجہتی سے بھی کشمیریوں کی ظلم و ستم کی چکی میں پستی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ دعا کرنی چاہےے ایسا نہ ہو۔