میرے کشمیر

میں شرمندہ ہوں .... مگر کیا کروں.... میں مجبور ہوںتیرے سینے پر ہندو حکمرانوں کااک بوجھ گراں ہےمگر میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گیمیرا لہو تیرے لئے حاضر ہےمیرے آنسو تیری زمین میںہر روز دفن ہوتے ہیںاور دل سے اک آہ.... نکلتی ہےاور آ¶ میرے ہم وطنوںاپنے لہو کی سرخی سےپھر اک بار آزادی کی شمع جلا دیںمیرے وطن تو سلامت رہے(ڈاکٹر فرزانہ نذیر میر‘ جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر۔ لاہور)