مسئلہ کشمیر اور موجودہ حکومت کی ”کاوشیں“

ہمیں ”ظاہری“ طور پر آزاد ہوئے 67 سال ہونے کو ہیں۔ قیام پاکستان سے آج تک ہمارے ازلی و ابدی دشمن بھارت سے آج بھی اہم مسئلہ کشمیر حل طلب ہے۔ آغاز سے ہی بھارت ”کشمیر ہمارا اٹوٹ رنگ ہے“ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونے ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن ممکن ہے۔ ہزاروں کشمیری مسلمان بھارت کی ”دہشت گردی“ میں شہید ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں چونکہ اکثریت غیر مسلم ممالک کی ہے لہذا وہ بھی اب مسئلہ کشمیر کے بارے خاموش تماشائی سے زیادہ کردار ادا نہیں کر رہا۔ جہاں تک ہماری حکومتوں کے کردار کا عمل دخل ہے وہ بھی منفی صفر ہے۔ سابقہ حکومت بھی بھارت کو ”موسٹ فےورٹ“ قرار دینے کے لئے پر تولتی رہی موجودہ حکومت تو ویسے ہی آغاز سے ہی ”بھارت نوزای“ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب جب بھی کوئی خطاب کرتے ہیں تو رسمی طور پر ”کشمیر“ پر بھی ایک جملہ پڑھ دیتے ہیں اور ”مذاکرات“ کا ڈھونگ ہی رچایا جا رہا ہے۔ ”دہشت گردی“ ہو ےا ”مسئلہ کشمیر“ موجودہ حکومت کی ”کاوشیں“ مذاکرات اور ”اگر مگر“ سے آگے بڑھتی ہوئیے نظر نہیں آتیں۔ اسی مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پانی کا مسئلہ تو ہماری حکومتیں ”مذاکرات“ سے حل کر نہیں سکیں یہی وجہ ہے کہ پانی کا مسئلہ و تنازع اب مزید گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے جس کے بارے میں بابائے صحافت جناب مجید نظامی بھی حکومت کو گاہے گا ہے خبردار کرتے رہتے ہیں کہ اگر یہ پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو عنقریب ہمارے خطہ کو ریگستان میں تبدیل ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ سوال یہ ہے کہ محض ہر سال یوم ”یکجہتی کشمیر“ منانے اور”مذاکرات“ کی رٹ لگانے سے کیا کشمیر کا ایک اہم مسئلہ حل ہو پائے گا۔ موجودہ حکومت کی ”کاوشیں“ جہاں کسی عوام مسئلے کے حل میں زبانی جمع خرچ سے زیادہ حیثیت کی حامل نہیں ہےں۔ وہاں مسئلہ کشمیر کے بارے بھی موجودہ حکومت سے ”توقع“ رکھنا بے سود ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل دہشت گردی‘ لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ لاقانونیت کے بارے میں موجودہ حکومت کی کارکردگی ابھی تک صفر ہے۔ ایک طرف تو نواز شرےف صاحب اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر پر بھی لب کشائی رسماً کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ہزاروں کشمیری مسلمانوں کے خون ناحق کو بالائے طاق رکھ کر بھارت سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ شہباز شرےف تو چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد بھی ختم ہو جائے ”تجارت“ ہونی چاہےے بس۔ مولانا فضل الرحمن بھی ہر حکومت سے حسب روایت کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بننے کا اعزاز حاصل کر لیتے ہیں۔ کشمیر کمیٹی نے آج تک کشمیریوں کے بارے کونسی ” خدمات“ سرانجام دی ہیں۔ ”مولانا“ کبھی وضاحت کر دیں۔ امریکہ کے ہاتھوں کتا بھی مر جائے ”مولانا فضل الرحمن“ اسے بھی ”شہید“ کا درجہ دیتے ہیں۔ بھارت کے ہاتھوں ہزاروں کشمیری مسلمان آئے روز جو مارے جا رہے ہیں ”مولانا صاحب“ اس کے بارے میں بھی فتوی صادر فرما دیں۔ محض ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانا اور ”مذاکرات“ کا گےت گاتے رہنا کافی نہیں ہے۔ اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے لئے کس دلیر‘ جرات مند اور ہمدرد قیادت کی ضرورت ہے۔ کشمیر و دیگر بھارتی تنازعات کا حل صرف ایک اور جنگ میں مضمر ہے۔ موجودہ حکومت سمیت ہر حکومت کی کشمیر کے بارے پالیسی ہمیشہ ”منافقانہ“ اور”بزدلانہ“ رہی ہے۔