مجبور و محکوم و فقیر۔ کشمیر

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ

جب برصغیر میں مسلمانوں نے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا تو اُن کے عظیم لیڈر محمد علی جناح نے اس کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہاتھا۔ پاکستان تو اسی روز بن گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہواتھا۔ اس طرح بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کشمیر اُس دن ہی پاکستان کا حصہ بن گیا تھا جب امیر کبیر سید علی ہمدان نے وہاں قدم رکھاتھا۔ شاہ صاحب کے کشمیر آنے کاواقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ امیر تیمور لنگ ان سے بوجوہ مخاصمت رکھتا تھا کیونکہ ان کے والد سید شہاب الدین ہمدان کے حکمران رہے تھے۔ سید علی ہمدان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے شکوک و شبہات کی خلیج وسیع کر دی۔ ایک دن اس نے انہیں بلایا اور بڑا جز بز ہوا شاہ صاحب نے جواباً کہا ایک عرصہ ہوا ہم نے دنیا چھوڑ دی ہے رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک لنگڑا ریچھ مردار کو گھسیٹ رہا ہے۔ لنگڑا تو وہ تھا ہی پھر ریچھ کے استعارے نے اسے چکرا دیا اس نے فوری طور پر ان کی جلاوطنی کا حکم صادر فرمایا۔ اس طرح وہ 1373ءمیں اپنے سات سو مریدین کے ساتھ پہلی بار کشمیر تشریف لائے اس سلسلے میں روایت ہے کہ ایک ہندو مجذوب عورت سارا سال برہنہ رہتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کچھ شرم کرو مرد تمہیں اس حالت میں دیکھ کر کیا سوچتے ہونگے۔ بولی مجھے کشمیر میں کوئی مرد نظر نہیں آتا۔ ایک دن لوگوں نے دیکھا وہ تھرتھر کانپ رہی ہے اور سر سے لیکر پاﺅں تک چادر اوڑھ رکھی ہے۔ استفسار پر بولی کشمیر میں ایک مرد کامل داخل ہوگیا ہے۔ یہ سید علی ہمدان تھے گو ان کی آمد سے قبل اکا دکا مسلمان تھے لیکن مذہب حقہ کی باقاعدہ تبلیغ انہوں نے شروع کی اور بالاخر کشمیر ایک مسلمان ریاست بن گیا۔ گو وہاں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن انگریزوں نے اس کو گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کردیا جب پاکستان اور ہندوستان دو الگ ریاستیں بنیں تو بڑی عجیب صورت حال پیدا ہوگئی والی ریاست ہندو تھا۔ بستی مسلم اکثریت تھی جس کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ بدقسمتی سے کچھ مسلم لیڈر قائداعظم سے ذاتی مخاصمت رکھتے تھے۔ ان کا سرخیل شیخ عبداللہ تھا اگر اُس کی سوانح عمری ”آتش چنار“ پڑھی جائے تو بین السطور اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ محمدعلی جناح کشمیر گئے تو وہ ان کو ایک مقدمے میں وکیل کرناچاہتے تھا قائداعظم نے حامی تو بھر لی لیکن فیس طلب کی جس کا براہ راست تعلق INTELLECTUAL HONESTY سے تھا انہوں نے ساتھ ہی چندہ دینے کی پیشکش بھی کی باالفاظ دیگر ایک ہاتھ سے فیس لیکر دوسرے ہاتھ سے واپس کرنے کا عندیہ دیا۔ گو وہ کھل کر بات نہیں کرتا لیکن کچھ یوں گمان ہوتا تھا جیسے اس کی انا اصول پرستی سے براہ راست ٹکرائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جواہر لعل نہرو نے بہلا پھسلا لیا ہو پاکستان سے اس قدر کدورت بے وجہ نہیں ہو سکتی تھی! کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان سے تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ کے بعد نہرو نے غیر مبہم الفاظ میں تمام دنیا سے وعدہ کیا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی اس سلسلے میں یو۔این۔او نے ایک ریزولیوشن بھی پاس کیا۔ بعد میں پنڈت جی مکر گئے یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی۔ کہاوت ہے کہ جنگ میں پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے اس کا گلا گھونٹنے میں انہوں نے کسی قسم کی ضمیر کی خلش محسوس نہ کی دوسرا وہ کشمیری پنڈت تھے۔ انہیں بلامبالغہ اس جنت نظیر خطے سے ایک جذباتی لگاﺅ تھا۔ سب سے اہم بات اس کی GEO POLITICAL IMPORTANCE تھی وہ ایک چالاک بنیا ہونے کے ناطے جانتے تھے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے دریاﺅں کا منبع ہے مسلمانوں کا نمدا اسی صورت میں کسا جا سکتا تھا کہ کشمیر کو ہتھیا لیا جائے۔ شیخ عبداللہ کو بڑی دیر کے بعد اپنی غلطی کا ادراک ہوا لیکن اُس وقت تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا بلکہ محض پانی گزر رہا تھا۔ پل میں دراڑیں پڑچکی تھیں۔ شیخ صاحب کا مسکن کشمیر میں اس کی جیلیں تھیں۔ ایک طویل عرصے تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد پنڈت جی نے اسے مذاکرات کے لئے پاکستان بھیجا اور خود پرلوک سدھار گئے۔ شیخ نے مذاکرات کیا کرنے تھے ان کی ارتھی کو کندھا دینے ہی پہنچ گیا۔ گزشتہ چھیاسٹھ برسوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ کشمیریوں میں آزادی کی تڑپ موجود ہے اس کی خاطر انہوں نے ہندو فوج کے بے پناہ مظالم جھیلے تھے کھیت،کھلیان، اور مکان مساجد اور مزار سامراج کی دست برد سے محفوظ نہیں رہے۔ باایں ہمہ کشمیریوں نے ہمت ہارنے یا ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ دونوں حکومتیں مذاکرات کا شوشہ چھوڑتی رہتی ہیں لیکن پرنالہ وہیں رہتا ہے۔ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ مشرف حکومت نے ہندوستان کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل نکال لیا تھا لیکن حکومت کی بے وقت رخصتی نے اسے ایک بار پھر سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی کچھ اسی قسم کا دعویٰ کیا تھا اگر انہیں یک بینی و دوگوش ایوان اقتدار سے باہر نہ نکالا جاتا تو واجپائی کو میاں صاحب نے رام کر لیا تھا! ناطقہ سر بگریباں سے اسے کیا کہئے! یہ دونوں صاحبان قوم کو بتائیں کہ وہ کونسا سنہری فارمولا تھا جو دونوں ملکوں کے عوام کو قبول ہوتا جو حکومتیں ایک ڈیم پر اتفاق رائے پیدا نہ کر سکیں وہ اتنے بڑے مسئلے کو کیسے حل کر پاتیں؟ کشمیر کے مسئلے کے تین ممکنہ حلہیں اولاً ہندوستان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ کہے مہاراج ہم سے بڑی بھول ہو گئی ہے شما کیجئے آپ اس طبل علم کے مالک و مختار ہیں لہذا کشمیر کا نذرانہ قبول فرمائیں! دوم دنوں ملک کشمیر کو ایک آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر مان لیں سوئم لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی باﺅنڈری مان لیا جائے۔ پہلے حل کو ایں خیال است و محال است و جنوں ہی کہا جا سکتا ہے۔ جنونی ہندو ایسی حکومت کا تیا پانچہ کر دیں گے۔ ہاتھ آئی ہوئی لکشمی کو وہ کیسے چھوڑنے پر راضی ہونگے؟ سارے کشمیر کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کرنے پر بھی رضامند نہیں ہوں گے۔ ان کا فوراً استدلال یہ ہوگا کہ ان ”مسلوں“ نے بالاخر ایک ہو جانا ہے۔ تیسرا حل اہل پاکستان اور کشمیریوں کو قبول نہیں ہوگا اس قسم کی سوچ رکھنے والی حکومت کو قوم نے کان سے پکڑ کر باہر نکال دینا ہے اگر مندرجہ بالا تینوں تجاویز قابل عمل نہیں تھیں تو پھر اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ ایک اور جنگ معروضی حالات میں یہ ممکن نہیں ہے دونوں ملک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں ایک ایسی جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے جس کا منطقی نتیجہ وجود سے عدم وجود ہو تو کیا برسہا برس کی جدوجہد اور قربانیاں رائیگاں جائیں گی؟ بالکل نہیں! یہی تاریخ کا سبق ہے اگر روس جیسی سوپر طاقت بغیر جنگ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتی ہے تو ہندوستان اس عمل سے کیوں نہیں گزر سکتا؟ کشمیریوں کی جنگ آزادی کے علاوہ بھی وہاں کئی تحریکیں چل رہی ہیں بظاہر ناممکنات بھی بسا اوقات ممکن ہو جاتی ہیں۔ظلم پھر ظلم سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا