صحیح وقت میں صحیح فیصلہ

کالم نگار  |  محمد طیب زاہر

قدرتی طورپر اس دنیا میں کچھ ایسے عناصر ہوتے ہیں جو بیک وقت انسان کی ضرورت تو ہوتے ہیں لیکن ان کا استعمال ایک وقت کیلئے سود مند ثابت ہوتا ہے اور اگلے ہی لمحے اس کے نقصانات ہمارے سامنے آشکار ہونا شروع ہوجاتے ہیں اگر ہم صحیح حالات میں صحیح فیصلہ نہیں کرپاتے کہ ہمارے لئے کیا فائدے مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے توہم مشکلات کا حل کبھی بھی نہیں نکال سکتے۔ اسی طرح امن کی آشا کے رکھوالے امن کو ہتھیار بنا کر اپنے مفادات کیلئے مصروف عمل نظر آتے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی کے ابلتے اور گرتے الاﺅ کے پیش نظر امن کو ایک اور موقع دیا جارہا ہے۔وہ طبقہ جو امن کی آشا میں بہتری دیکھتا ہے اور دونوں ملکوں کو امن کے ذریعے اپنے تمام مسائل حل کرنے کی ترغیب دیتا ہے کو چاہئے تھا کہ کشمیر کے حل کیلئے پہلے امن کے ساتھ مذاکرات جو( ایک بے جاں کوشش) کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اس کو آزمانے کی بات کرکے یہ بھی کہتا اگر ایسا نہ ہوا تو پھر جنگ کے ذریعے کشمیر کو فتح کرنے کی صدا بلند تو کرتا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اب پاکستانی فوج پہلے ہی حالت جنگ میں ہے اور مزید کوئی لڑائی افورڈ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن کی سیج سجا کر دہشت گردی کی روک تھام میں ممکن ہے کارگر ثابت ہوجائے۔بھارت سے امن کی اپیل کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔لہٰذا اپنی مشکلات کو دیکھ کر صحیح سمت کا تعین کرنا ہی دانشمندی ہے۔وہ بھی اسی صورت میں اگر آپ کو صرف اپنا آپ نظر نہ آئے۔بھارت کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر کتنی ٹیبل ٹاک ہوئی اور اس کا نتیجہ صرف اور صرف بے ثمر ہی نکلا۔آپ اگر سمٹ کو دیکھ لیں کہنے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کے معاملات دونوں جانب سے تقریباً حل ہوگئے تھے لیکن وہاں کے شدت پسندوں، سیاست دانوں، ایجنسیوں اور بھارتی میڈیا کی ملی بھگت نے بھارتی وزیراعظم کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ تقسیم ہند سے پہلے ریڈ کلف باﺅنڈری میں گرداس پور،بٹالہ،پیٹھانکوٹ ان علاقوں میں مسلم اکثریت کا تناسب پچاس فیصد سے زائد تھا اسی طرح مالدا، کلنا،کریم گنج، حیدرآباد اور کشمیر سمیت یہ مسلم اکثریتی تمام علاقے اپنی طرف شامل کرلئے۔ہماری اعلیٰ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریڈ کلف باﺅنڈری میں ہندوستان نے جس( دیانت داری) کا مظاہرہ کیا وہ اس لئے نہیں تھا کہ وہ آپ کو کشمیر مذاکرات کے ذریعے واپس کردے گا اقوام متحدہ کو بھی اب اپنا کردارادا کرتے ہوئے اُن قرار دادوں پر عمل کروائے جس کے تحت کشمیر کو یہ حق دیاجائے کہ وہ اپنی مرضی کے تحت آزادی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرسکے اور حکومت پاک فوج کے ساتھ مل کر کشمیر کے ساتھ زبانی کلامی یکجہتی کو ترک کرکے عملی طورپر کشمیر کے ساتھ کھڑی ہوں۔