اٹوٹ انگ کہنے والوں کا ” انگ “ توڑنے کی ضرورت

صحافی  |  امیر محمد خان

ایک مرتبہ پھر ‘ یوم یکجہتی کشمیر‘ آگیا ہے، ۰۹۹۱ءمیں کشمیر میں ہونے والے بہمانہ قتل عام جس میں ہزاروں افراد بھارتی افواج نے قتل کئے آج کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو اس وقت کے حزب اختلاف کے لیڈرتھے کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی گئی، اور اسوقت کی وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو نے ملک میں اس دن عام چھٹی اعلان کیا۔ عام چھٹی کا اعلان اس طرح کے دنوں میں اسلئے کیا جاتا ہے کو لوگ اپنے کاروبار، ملازمتوں، مدرسوں کی مصروفیات میں ختم کرکے اس دن کی مناسبت سے اجتماعات ، منعقد کریں مگر ہم، ”چھٹی“ مناتے ہیں اور گھر میں آرام کو ترجیح دیتے ہیں‘ یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اس دن نہ صرف اپنے اندر کشمیری شہیدوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ضروری ہے ، بلکہ ہمارا جغرافیائی طور پر ہمارا اولین فرض بنتا ہے کہ ہم آزادی کشمیر کیلئے ہر محاذ پر جو بھی ہوسکتا ہے وہ کام کریں جس سے کشمیر میں شہید ہونے والوں کی روح بھی خوش ہو۔ جب پاکستان کا یوم آزادی آتا ہے تو کشمیری اپنے گھروں پر پاکستان کاسبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں جس سے انکی پاکستان سے محبت عیاں ہوتی ہے یہ مظلوم دنوں صورتوں میں غاصب ہندوﺅں کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں، گولی کھاتے ہیںِِ، لاٹھیاںکھاتے ہیں، کشمیری عوام کی اس تمام جدوجہد اور قربانی کے بعد ہمارے ذمہ داریا ںکیا ہیں ؟؟ کیا ہم بہ حیثیت قوم کشمیری عوام کی اس محبت کا جواب دے رہے ہیں؟ ہرگز نہیں بہ حیثیت عوام تو پاکستان کا ایک ایک بچہ کشمیر کیلئے قربانی دینے کو تیا ر ہے، مگر جب کشمیری عوام قتل و غارت گری ہمارے اپنے ملک میں دیکھتے ہونگے تو انکی کتنی حوصلہ شکنی ہوتی ہوگی، قائداعظم محمد علی جناح کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا اس عظیم رہنماءکے سامنے پاکستان کا کل تھا، آج ہم محسوس کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے شہ رگ کیوں قرار دیا تھا آ ج مکار بھارت ہمارے دریاﺅں کو سوکھا کررہا ہے ، کشمیر کے ذریعے ہمارے پانی پر غاصب ہے جس سے آنے والے دنوںمیں ہماری فصلیں سوکھ جائینگی ، جب زراعت ختم ہوگی تو بھوک و افلاس کا دور ہی ہوتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے بیرونی ایجنڈوں کا اپنا منشور بنانے والے ہمارے حکمران یہ بات نہیں کہ اس سے باخبر نہ ہوں وہ اچھی طرح باخبر ہیں مگر ہندوستان کی دوستی کا دم بھرتے ہوئے نہیں تھکتے، ہندوستان مذاکرات کا ڈرامہ رچاکر، کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے، کشمیری عوام پر اپنے ظلم میں کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں، ہمارے حکمران گزشتہ ۵۶ سال سے کشمیر پراپنا موقف برقرار نہ رکھ سکے جس سے بھارت کے عزائم میں اضافہ ہوا اس نے اپنے آئین میں کشمیر کواپنا صوبہ بناڈالا، اس سے بڑی ڈھٹائی کیا ہوسکتی ہے ؟ وہ عالمی ادارے جنکی یہ مسئلہ اولین ذمہ داری ہے، جس میں اقوام متحدہ ، اور اسکی نام نہاد، سلامتی کونسل“ اس مسئلے پر آنکھیں بند کئے ہوئے جبکہ اس کے پاس قرار دادیں موجود ہیں جس میں خود بھارت نے رائے شماری ، اور کشمیر سے بھارتی افواج کے انخلاءکا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ہمارے ہاںاکثر دانشور عوام کوoic سے یہ کہہ کر گمراہ کرتے ہیں کہOIC نے اس مسلئے پر کیا کیا ؟جبکہOIC کسی چیزکو نافذ کرنے کا ادارہ نہیں وہ صرف رائے عامہ ہموار کرسکتا ہے جو وہ کرتا رہا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے سفارتی ذمہ دار OIC کوکہاں تک لیجا سکتے ہیں ہماری اپنی سفارت پالیسایاں ناقص ہیںکشمیرکے مسئلے کا حل صرف اور صرف بھارت سے دو ٹوک بات ہے، عالمی اداروں اقوام متحدہ، اور سلامتی کونسل میں جاندار سفارت کاری کی ضرورت ہے، بھارت کے ساتھ ” تجارتی ڈرامہ “ ختم کرنا ضروری ہے، پاکستان کشمیر کمیٹی میں سربراہی کو سیاسی رشوت کا درجہ نہ دیاجائے بلکہ اس کو فعال بنانے کی کوشش کی جائے، بھارت جب کشمیر اٹوٹ انگ کی بات کرے تو اس کے ”انگ “ کو تباہ کرنے اور توڑنے کا عظم کیا جائے۔ میاں صاحب کو کشمیری ہیں، اپنے کشمیری ہونے کا حق ادا کریں تاکہ مجاہدین سر فخر سے بلند کرسکیں۔