عمران خان، ہل من مزید!

نازیہ مصطفی
منطقی اور استدلالی اندزِ بیان ، تشکک پسندی کا پہلو ، فلسفیانہ مزاج ، سیاسی اور شخصی تفسیر ، رمز و ایمائیت ، نکتہ آفرینی ،محرمیوں کے باوجودغیر قنوطی اندازِ فکر اور شوخی و ظرافت مرزا غالب کی شاعری میں ”غالب“ عناصر دکھائی دیتے ہیں۔قادرالکلام شاعر نے فارسی تراکیب کا استعمال شروع کیا تو اردو میں پُراثر شیرینی، حلاوت اور شگفتگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ فارسی الفاظ نے نہ صرف اردو زبان کا دامن کشادہ کیابلکہ شاعری میں بھی رعنائی پیدا کر دی۔غالب نے فارسی اور اردوکے امتزاج سے اپنے فن کو نکھارا اور فارسی کی شیرینی کو اردو کی گھلاوٹ سے اس طرح ملا دیا کہ اُن کی زبان میں ایک گنگا جمنی رنگ پیدا ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی کے اس عظیم شاعر کا اردو کلام منظر عام پر آتے ہی دلی کی ادبی دنیا اُس سے خائف نظر آنے لگی۔لال قلعہ تک محدود بہادر شاہ نے غالب کو اپنا ”مصاحب“ بنایا تو خود کو آبرو مند سمجھ کر غالب نے شہر میں اِترانا شروع کردیا۔ ایسا کرتے ہی دارالحکومت کے شعراکا لشکر طعن و تشنیع کے ہتھیار اٹھاکراسد اللہ پر حملہ آور ہوگیا، لیکن غالب کا دبدبہ ایسا تھا کہ سامنے آکر چوٹ کرنے والے کم کم ہی نظر آئے۔ غنیم میں زیادہ تر وہ تھے ، جنہیں پشت سے حملہ کرنے کی عادت تھی۔ایسے ہی کم ظرفوں نے غالب کے خلاف سازشوں اور دشنام طرازی کا ایک طومار باندھ دیا۔اُنہی دنوں مخالفین نے غالب کو”گالیوں“ بھرے بے نام خطوط بھیجنا شروع کردیے۔ ایک بار کسی مخالف نے غالب کو ماں کی گالی لکھ دی۔ مرزا اُسے پڑھ کر ہنسے اور خط کی صرف و نحو اور املا درست کرنے بیٹھ گئے۔ مرزا بولے”اس بیوقوف کو گالی دینے کا بھی شعور نہیں۔ بوڑھے اور ادھیڑ عمر شخص کو بیٹی کی گالی دینی چاہیے، تاکہ اسے غیرت آئے۔ جوان آدمی کو ہمیشہ جورو کی گالی دو کہ اسے جورو سے بہت لگاو¿ ہوتا ہے اور بچے کوہمیشہ ماں کی گالی دیتے ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ ماں سے مانوس ہوتا ہے“۔نقل کفر ،کفر نا باشد، غالب کہا کرتے تھے ”خداوند نے انگریزی زبان گالیاں دینے کیلئے بنائی ہے کیونکہ اردو زبان کی گالی دل پر جا لگتی ہے ، جبکہ انگریزی میں دی گئی گالی کو ہنسی خوشی مذاق ہی مذاق میں ٹالا جا سکتا ہے“۔گالیوں کے بیان میںاپنی تصنیف ”آبِ گم“ میںمشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں ” بزرگوار رحیم بخش کو عام طور پر الہ دین کہتے تھے۔ البتہ کوئی خاص کام مثلاً پیر دبوانے ہوں یا بے وقت چلم بھروانی ہو یا محض پیار اور شفقت جتانی ہو تو الہ دین میاں کہہ کر پکارتے، لیکن گالی دینی ہو تی تو اصل نام لیکر گالی دیتے تھے“۔
اگر سیاست کو دیکھا جائے تو سیاست میں گالیوں کا استعمال اتنا ہی پرانا ہے، جتنی خود سیاست یا موجودہ طرز سیاست قدیم ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے ”شہاب نامہ“ میںنواب آف کالاباغ ملک امیر محمد کا ذکر کرتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ رقم کیا ہے۔ لکھتے ہیں ”چوہدری ظہور الٰہی سیاست کے افق پر نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے فوجی آمر ایوب خان کی ناک کے بال بن گئے“۔ یہ صورتحال دیکھ کر نواب امیر محمدکو اپنا اقتدار ڈولتا ہوا محسوس ہوا۔ نواب صاحب ایوب خان کو ملنے گئے تو پہلے تو انہوں نے چوہدری ظہورالٰہی کو موٹی موٹی اور غلیظ گالیاں دیں اور ساتھ ہی کاغذوں کا ایک پلندہ ایوب خان کے سامنے رکھ دیا ، جو انہوں نے ایک ایس پی سے تیار کروایا تھا اور بولے ” حضور! ان کاغذات میں اس (گالی) آدمی کا کچا چٹھا ہے“۔ ساتھ میں یہ بھی فرمایا” جناب ابھی تو میں نے اپنا شکاری کتا اس پہ نہیں چھوڑا“۔دوسری جانب یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی شخص جتنا صاحب علم ہوگا ، وہ گالی بھی اتنے ہی نستعلیق انداز میں دے گا۔ مثال کے طور پرستر کی دہائی میں دھوبی گھاٹ فیصل آباد کے جلسے میں آغا شورش کشمیری نے پنجاب اسمبلی کے اس وقت کے ڈپٹی سپیکر شمیم احمد خان کو ”دھوپ چھاو¿ں کی اولاد“ کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ ”خطاب“ شمیم خان کو گالی لگا اور تھوڑی دیر بعد ہی شورش کشمیری کو پولیس اٹھاکر لے گئی۔اس کے برعکس برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عقلیت پسند دانشور، شاعر، انشاءپرداز، افسانہ نگار اور نقاد علامہ نیاز فتح پوری مولاناالطاف حسین حالی کے اسلوبِ بیاں سے اتنے متاثر تھے کہ ایک بار علامہ نے مولانا کو خط لکھا ”مولانا! آپ کے اسلوب بیان میں اگر مجھے کوئی گالیاں بھی دے تو میںہل من مزید کہتا رہوں گا“۔
قارئین کرام!ملک بھر میں سیاسی اور دانشور حلقوں میں اس وقت ایک ہی بحث چل رہی ہے کہ عمران خان نے عدلیہ کیلئے ”شرمناک“ کا جو لفظ استعمال کیا، وہ گالی ہے یا نہیں؟لیکن اس کیلئے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ دراصل گالی ہے کیا؟ گالی دراصل نا شائستہ ، نازیبا ، سخت اور کڑوے کسیلے الفاظ کا وہ مجموعہ ہے جو کسی کو ذلیل کرنے کیلئے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بولا جائے۔یہ زبان کا بیہودہ، غلط اور ناجائز استعمال ہے، خواہ کسی بھی رنگ یا حالت میں کیا جائے۔ عربی میں اسے ”سب و شتم“ کہا جاتا ہے۔ اہل علم کے نزدیک کسی دوسرے کے سامنے وہ بات کہنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، یعنی جس سے اُس کی عزت پر آنچ اور حرف آتا ہو،گالی ہے۔ اہل لغت ہر بیہودہ اور گندی بات کو گالی کہتے ہیں اور عیب جوئی، الزام تراشی ، لعن طعن اور ہتک عزت یہ سب گالی کے مفاہیم میں شامل ہیں۔ اردو لغت کے مطابق گالی، بدزبانی اور فحش گوئی کا نام ہے۔ گالی دینا یعنی بری بات منہ سے نکالنا ، گالیاں دینا یعنی بدزبانی کرنا، برا بھلا کہنا اور د شنام طرازی کرنا، گالی ہے۔ گالی عموماً غصّے کی حالت میں وجود میں آتی ہے، لیکن کبھی کبھی زبان کے علاقائی فرق کی وجہ سے بھی عجیب و غریب انداز میں لا شعوری طور پر”گالی“ عالم وجود میں آجاتی ہے۔میری رائے میں عمران خان کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ اسی علاقائی فرق کی وجہ سے لاشعوری طور پر عمران خان انتہائی غصے کی حالت میں عدلیہ کیلئے ”شرمناک“ کا لفظ استعمال کرگئے، جو بعین انسانی نفسیات ہے۔ غصے میں اول فول بولنے کا یہ معاملہ کسی بھی شخص سے سرزد ہوسکتا ہے، لیکن چونکہ گالی ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے فرد ، سماج اورمعاشرہ میں تہذیب کی پیمائش کی جاتی ہے، لہٰذا اس آلے میں اگر تہذیب کا ”اشاریہ“ کم نظر آئے تو اس پر شرمسار ہونا برائی نہیں، بلکہ بڑائی کی بات ہے، عمران خان اگر اپنی غلطی تسلیم کرلیں تو اسے ان کی بڑائی ہی مانا جائے گا اور دوسری بات یہ کہ اگر عمران خان ایک عام سیاسی رہنما سے اوپر اُٹھ کر ایک مصلح اور ایک مدبر سیاست دان بننا چاہتے ہیں تو انہیںاپنے لہجے کو شہد میںغسل دینا ہوگا۔عمران کو اپنے لبوں کو اتنا شیریں بنانا ہوگا کہ رقیب بھی گالیاں کھاکر بے مزا نہ ہو۔نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ اس ملک کو عمران خان کی ضرورت ہے ، لیکن سنجیدہ حلقے سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو اپنا اسلوبِ بیان حالی سے مستعار لینے کی ضرورت ہے کہ مخالف گالیاں کھاکر بھی کہے”عمران خان !ہل من مزید!“۔