سید ممنون حسین اور اقتدار کی رسہ کشی۔۔۔۔

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

اس مرتبہ کراچی سے تعلق رکھنے والے سید ممنون حسین کی صورت میں ملک اور قوم کو ایوان صدر کا ایسا مکین تحفے میں دیا گیا ہے جس کے متعلق مخالف سیاسی جماعتیں بھی یہ موقف رکھتی ہیں کہ وہ خود کوہمیشہ سیاسی طورپر غیر جانبدار رکھیں گے اور وفاق کی حقیقی علامت بن کر سربراہ مملکت کے فرائض سر انجام دیں گے۔ ملک کے موجودہ صدر آصف علی زرداری نے 11مئی 2013 کے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کو دیکھ کر ہی یہ اعلان کردیاتھا کہ وہ آئندہ صدارتی امیدوار نہیں ہوںگے۔ آصف علی زرداری اب پاکستان میں رہ کر سیاست کرنا پسند نہیں کریں گے۔ خیال یہی تھا کہ وہ اب بیرون ملک سے پاکستان واپس نہیں آئیں گے لیکن وہ گزشتہ ماہ کی 30تاریخ کواپنے جانشین کے ہونے والے انتخابات کے روز واپس آگئے۔ پیپلزپارٹی نے صدارتی الیکشن کیلئے سینٹر رضا ربانی کوامیدوار نامزد کرنے کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے سینٹ کے قائد ایوان راجہ ظفر الحق کی طرف سے الیکشن کمشنر کی طرف سے صدارتی الیکشن کیلئے دی گئی 6اگست کی تاریخ کو تبدیل کرکے اس جوا زپر 30جولائی کویہ الیکشن کرانے کاحکم دے دیاتھا کہ صدارتی الیکشن 6اگست کو منعقد کرانے سے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف پربیٹھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کیلئے ان کی انتہائی گراں قد ر اور قیمتی عبادت میں خلل پڑنے کاامکان تھا اور پھر 6اگست کو27ویں رمضان المبارک تھی اور یہ وہ عظےم دن ہے جس کی رات کوشب قدر اور شب مبارکہ کے ناموں سے موسوم کیاگیاہے۔ یہ مسلمانوں کیلئے عبادت کی رات ہوتی ہے۔ توبہ و استغفار کی رات ہوتی ہے اور اہل ایمان اس رات پوری رات جاگ کر اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ جو ارکان اسمبلی کسی مسجد میں اعتکاف میں گئے ہوئے ہوں گے یا 27ویں کی شب ‘ جنہوںنے پوری رات جا کر اللہ سے دعائیں کی ہوں گی ان کے پاس صدارتی ووٹ ڈالنے کیلئے یقینا کوئی وقت نہیں ہوگا۔ الیکشن کی تاریخ تبدیل کرنے کاجواز اس قدر قوی تھا کہ اس جواز کے ہوتے ہوئے یہ دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں تھی کہ ملک کاآئین کیاکہتاہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں اپنے آئین کے طورپرقرآن پاک کاایک نسخہ جمع کرارکھاہے اور ملک کے آئین میں یہ بھی درج ہے کہ اس کاکوئی قانون‘ قرآن وسنت کیخلاف نہیں بن سکتا توپھر الیکشن کمیشن نے اگر 27ویں رمضان المبارک کو غلطی سے صدارتی انتخابات کاشیڈول جاری کردیاتھا تو جب راجہ ظفر الحق نے اس تاریخ کو تبدیل کرنے کی درخواست دی تو الیکشن کمیشن نے اپنا یہ اختیار خود استعمال کرنے کے بجائے راجہ ظفر الحق کو سپریم کورٹ سے رہنمائی لینے بھیج دیاتھا تو سپریم کورٹ ‘ صدارتی انتخاب کی تاریخ عید الفطر کے بعد مقرر نہیں کرسکتی تھی کہ صدارتی انتخابات ہر حال میں سبکدوش ہونے والے صدر کی تاریخ سبکدوشی سے کم ازکم ایک ماہ پہلے ہونا لازمی تھے۔ یہ شرط 1973ءکے آئین میںموجود ہے جو اس ملک کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کاتحفہ ہے لہٰذا ‘ پیپلزپارٹی کو صدارتی الیکشن کابائیکاٹ کرکے آصف علی زرداری کے جانشین کومتنازعہ بنانے کی سعی کرنا درست نہیں تھا۔ ممکن ہے صدرآصف علی زرداری یہ فیصلہ نہ کرتے لیکن 11مئی کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی شکست کے بعد انہیں اپنے فیصلوں پراعتماد نہیں رہا اور انہوںنے بیرسٹراعتزازاحسن کوزیادہ اہمیت دینا شروع کردی ہے۔ اعتزاز احسن نے سینٹر رضا ربانی پر زور دے کر انہیں صدارتی الیکشن کابائیکاٹ کرنے پرمجبور کردیا بلکہ دیکھاجائے تو اس سلسلہ میں تنہا اعتزاز احسن نے پوری پیپلزپارٹی کو یرغمال بنائے رکھا ۔اس تمام صورت حال کے آئینے میں ایک بات تو یہ ابھر کر سامنے آئی کہ تحریک انصاف کی قیادت سیاسی طورپر بالغ ہوگئی ہے اور انہوں نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مخالفت کے باوجود ‘ ان کے صدر کے امیدوار کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑاکرکے صدارتی الیکشن کی ساکھ کو برباد ہونے سے بچا لیا اور مسلم لیگ ن کے امیدوار کا انتخاب مقابلے کی فضا میں ہونے سے صدارتی الیکشن متنازعہ فیہ ہونے سے بچ گیا۔ تحریک انصاف کا یہ فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں سمجھاجانا چاہئے۔ پیپلزپارٹی ‘ صوبہ سندھ میں امن وامان بحال کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔ مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے کے بعد سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی نہ تو کوئی کوشش کی اور ہ ہی کوئی اشارہ کیاتھا ۔لگتاہے کہ مسلم لیگ ن نے گورنر ہاﺅس سندھ کے ذریعے مسلم لیگ ن کو نائن زیرو آنے کی دعوت دے رکھی تھی تاکہ الطاف حسین اس دورے کو حکومت کا خیر سگالی سے بڑھا ہوا ہاتھ قرار دے کر اس ہاتھ کوجھٹکنے کے بجائے شرکت اقتدار کیلئے تھام لے۔ الطاف حسین کو لندن میں جن مشکلات کاسامناہے ان میں وہ ایم کیو ایم کوپاکستان کی وفاقی حکومت کے ساتھ اپوزیشن کاحصہ نہیں بناسکتے۔ ایم کیو ایم نے وزارت اعظمیٰ کیلئے میاں محمد نوازشریف کو بھی ووٹ دیئے تھے۔ اب صدر کے عہدہ کیلئے سید ممنون حسین کو ووٹ دے کر رابطہ کمیٹی یہ توقع کررہی ہے کہ وزیراعظم میاںنوازشریف یا وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف میں سے کوئی نائن زیرو کا دورہ کرکے ایم کیو ایم کوشریک اقتدار کرنے کاسندیسادے۔ الطاف حسین اپنے ایک بیان میں میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف کو اپنے بھائی قرار دے چکے ہیں۔سید ممنون حسین نے صدر کے عہدہ کیلئے ووٹ مانگنے کے بہانے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے ہمراہ نائن زیر و کا دورہ کرلیاتھا لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر فاروق ستار کی طرف سے اس خواہش کااظہار سامنے آچکاہے کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعدنائن زیرو آئے تو ان کی تواضع انکے پسندیدہ کھانے (حلیم وغیرہ) کھلا کر کی جائے گی۔ نئے صد رمملکت کاانتخاب ایک طرح سے پوری قوم کیلئے تحفہ ہے لیکن ایم کیو ایم یہ توقع کررہی ہے کہ وہ عید کے بعد اور صدر کاحلف اٹھانے سے پہلے پہلے ایک مرتبہ نائن زیرو ضرور آئیں گے۔ الطاف حسین انہیں صدر مملکت منتخب ہونے پر روایتی طورپر مبارک دے چکے ہیں لیکن اگر وہ صدر کاحلف اٹھانے سے پہلے یا فورا ً بعد نائن زیرو گئے تو الطاف حسین کے ساتھ طویل ٹیلیفونک ٹاک بھی ہوجائے گی اور ان کی طرف سے اس بات پر اللہ کاشکر بھی اداکیاجائے گا کہ صدر ان کے اپنے شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اپنے ہیں۔ البتہ خوش آئند بات ہے کہ نئے صدر سید ممنون حسین نے بھی کراچی کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی پارٹی نے صدارتی الیکشن کابائیکاٹ کیا اور اس قسم کی باتیں بھی سننے میں آرہی ہے کہ ان کی پارٹی صدر کے انتخاب کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکتی ہے لیکن سید ممنون حسین کو صدر زرداری کاممنون ہوناچاہئے کہ انہوںنے ان کے صدر منتخب ہونے پرجمہوری عمل کاآخری مرحلہ بھی کامیابی سے مکمل ہونے کی بات کی ہے اور یقینا وہ ایوان صدر سے رخصت ہوتے وقت سید ممنون حسین کوشیک ہینڈکلمات میں بھی ایسے الفاظ کہیں گے جو پیپلزپارٹی کی طرف سے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کے نتیجے میں دونوں بڑی جماعتوں کے مابین پیدا ہونے والی تلخی کوکم کرنے کاباعث بنیں گی۔ آصف علی زرداری نے صدر مملکت کاحلف اٹھا کر بھی پارٹی کے سربراہ کا کردار ادا کرنا نہیں چھوڑاتھا لیکن سید ممنون حسین نے صدر مملکت منتخب ہوتے ہی نہ صرف اپنی پارٹی کا سینئر وائس پریذیڈنٹ کاعہدہ چھوڑ دیاہے بلکہ پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ بھی دے دیاہے۔ وہ اس لئے بھی غیر جانبدار صدر ہوں گے کہ ان کو ایوان صدر میں بیٹھ کر صرف صدر کا پروٹوکول انجوائے کرناہے اور اس کے علاوہ انہیں کچھ بھی نہیں کرناہے۔ انہیں میاں نوازشریف نے سرتاج عزیز اور سید غوث علی شاہ پر اس لئے ہی ترجیح دے کر ملک کا صدر منتخب کرایاہے کہ وہ صدر مملکت ہوتے ہوئے بھی میاںنوازشریف کو ہی اپنا حقیقی لیڈر اور ملک کابااختیار آدمی سمجھتے رہیں گے۔ ان کی طرف سے میاں نوازشریف کوہمیشہ ٹھنڈی ہواآئے گی۔ کسی گرمی اورتپش کاسامنا نہیںکرناپڑے گا۔