بس کرو باز آﺅ اور جینے دو

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے1951ءمیں ہونے والے انتخابات میں نوابزادہ نصراللہ خان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے مگر سب سے زےادہ اور شدےد تنقید کرتے رہے اس کے بعد اےوبی بنیادی جمہورےت سے لیکر ضےائی شوری جمہورےت تک کبھی کسی انتخاب یا رےفرنڈم پر متفق نہیں پاےا گےا۔حضرت پیر صاحب پگارو مرحوم تو بانگ دہل ہر الیکشن سے قبل کہا کرتے تھے کہ رزلٹ تےار ہے انتخاب ہونا باقی ہے پھر ایک دور میں جنرل رفاقت کے حوالے سے انتخابات کے نتائج حسب منشاءحاصل کرنے کو رفاقت سٹرےٹےجی کہا گیا ۔ہمارے ملک میں تمام ہونے والے انتخابات کے مشکوک ہونے کا تائثر عام ہے، 11مئی 2013 کے نتائج کے حوالے سے صدر زرداری ،الطاف حسےن،عمران خان ،مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ دیگر سٹےک ہولڈر کے تبصرے اور تجزیے سامنے ہیں جناب امین فہیم نے پارلیمنٹ کے روبرو کھڑے ہوکر مبارکباد کچھ ان الفاظ میں پیش کی،میاں نواز شرےف اور مسلم لیگ کو الیکشن میں فتح کی مبارکبادمیں پاکستان کی ایجنسےاں بھی کسی حد تک کی مستحق ہیں۔ہر با شعور پاکستانی کی زبان اور ذہن میں یہ سوال کروٹیں لیتے رہتااور بےزار کرتا رہتا ہے کہ آخر یہ خفیہ ہاتھ اور اسٹیبلشمنٹ ہے کون ،اس کے مقاصد کیا ہیں؟ساری گڑ بڑ یا منصوبہ بندی کے پیچھے ذمہ دار یہی ایجنسےاں ہیں جن کی جانب جناب امین فہیم کا اشارہ ہے۔ہماری دفاعی اداروں کے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور نوکر شاہی کے کل پرزے مل بیٹھ کر ملک کا فیصلہ اپنے زاویہ فکر کے مطابق صادر فرما دےتے ہیں۔
پاکستان کا قےام واضح اور زندہ ثبوت ہے کہ حضرت قائداعظم نے بغےر توپ تفنگ اپنے سے سات گنا بڑی ہندو اکثریت اور سلطنت برطانیہ سے اختلاف ہوتے ہوئے ملی اتحاد ،دلائل کی سچائی اور موقف کی مضبوطی کی بنیاد پرایک سوچ کو عالم ممکن میں بدل ڈالا یہ کارنامہ اعلی کردار اور دےانت دار قےادت کی پشت پر وسیع اور غیر متزلزل قومی اتحاد و اتفاق تھا جو برصغیر کے چپہ چپہ ،حبہ حبہ میں موجود مسلمانوں کا ایک ہی نعرہ © ”بٹ کے رہے گا ہندستان ،بن کے رہے گا پاکستان©©“۔قوم نے حضرت قائداعظم کے مقابل کھڑے بڑے سے بڑے مسلم مذہبی و سےاسی رہنماﺅں کو مسترد کردیا جن میں شیخ العرب و العجم ،ابوالکلام آزاد اور امیر شرےعت جیسی بھاری بھر کم شخصیات شامل تھیں۔لاکھ سازشوں کے باوجود قوم نے پاکستان کو ہی نصب العین بنا کر میر کارواں محمد علی جناح کے پرچم تلے متحد ہوگئی۔
تاہم آج کے منظرنامہ میں ایک رےاست ہے جو ایٹمی قوت کی حامل ہونے کا شرف بھی رکھتی ہے مگر قوم کا شےرازہ بکھرا ہوا اور ملت کا نقشہ بگڑا ہواہے۔ہم لسانی،علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصب و تقسےم کا شکار ہیں ہمارا قومی تشخص برقرار ہے نہ قومی لباس اشرافیہ زیب تن کرتی ،قومی زبان کو ہم دےس نکالا دینے کے در پہ ہیں،قومی ترانہ کہیں سنائی دےتا ہے نہ پرچم کی حرمت دکھائی دےتی ہے ۔قائداعظم کی جماعت مرکزاور پنجاب میں برسر اقتدار ہے ماہ جولائی قائد کی بہن اور مادرملت کی وفات اور پیدائش کا مہینہ ہے۔سرکاری طور پر یا جماعتی سطح پر کوئی اجتماع ہوا،کیک کٹا نہ قرآن خوانی ہوئی ۔ہم احسان فراموشی و محسن کشی کے تسلسل سے مرتکب ہورہے ہیں ۔اک نوائے وقت اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ جو کہ مستند مجاہد پاکستان جناب مجید نظامی کے دم قدم سے مشاہیر کے دن مناتے ہیں ،ہر قومی موضوع کو زیر بحث لاتے ،ہر غےر جمہوری حرکت پر برجستہ ردعمل کے طور پر درست موقف اختےار کیا جاتا ہے۔حکومت اور سےاسی جماعتوں کا رخ نظریہ پاکستان کے مطابق کرنے اور آنے والی نسلوں کو تحریک پاکستان اور مشاہیر سے روشناس کرنے کا سلسلہ صبح شام جاری ہے۔جہاں تک سےاسی جماعتوں کا تعلق ہے جمہوری و نظریاتی حوالے سے مردہ خوانی کی صورت اختیار کر چکی ہےں ان قےادتوں کی پارٹی میں جمہوریت اور نظریہ سے چڑ ہے کوئی مزدورسےاست کی بات سنتا ہے نہ طلباءیونےن کا ذکر آنے دیتے ہیں ۔بلدیاتی اداروں کو عدالت عظمی بحال کرنا چاہتی ہے مگر برسر اقتدار حکومتیں اپنی اپنی زنجیروں میں جکڑ کر انتخاب کرانے کی جستجو میں ہیں۔ میڈےا کا کردار بھی قومی امنگوں اور نظرےاتی رےاست کے حوالے سے نظر نہیں آتا حالانکہ میڈیا قومی تشخص اور وقار کے لحاظ سے بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے پاکستان کو ایک قوم میسر آسکتی ہے مگر میڈیا تو بحران ابھارتا ہے،چور کی نشاندہی بھی کرتا ہے مگر انجام تک پہچانے سے پہلے مصلحت بیںجانے کیوں ہوجاتا ہے؟علماءدین کی جانب نظر اٹھائے تو درجنوں مذہبی جماعتیں الیکشن میں نظر آئےںگیں۔امت کو متحد کرنا جن کا فرض منصبی ہے وہ انتشار و انفاق میں مبتلا ہیں۔استاد اور ادیب بھی قوم بنانے کے بجائے اپنا گھربڑا گھرکے ساتھ آسائش و آرائش کے جذبہ میں مغلوب و مفلوج ہیں ۔
کرپشن و اقربہ پروری کے نتیجہ میں قوم طبقاتی کشمکش کا شکارہے ۔نفرت کا جرم کا راج ہے بلوچستان ہو یا صوبہ سرحد،قبائلی علاقہ جات ہو یا عروس البلاد کراچی مسلمان ایک دوسرے کے خون بہانے اور مال و عزت لوٹنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں ۔حکومت نظر آتی ہے کہیں نہ حکمت دکھائی دیتی ہے،ملک اقتصادی معاشرتی لحاظ سے تباہی کے دھانے پرکھڑا ہے ،قوم نظریاتی و اخلاقی دیوالیہ کا شکار ہے۔صنعت و حرفت کے لیے انرجی چاہیے جس کے حصول کےلئے رقم درکار ہے جو ملکی خزانوں میں نہیں ،ملک پر مسلط اشرافیہ کے غےر ملکی اکاﺅنٹوں میں ہیں۔ ملک کے اصل مالک اٹھارہ کروڑ لوگ بھوک افلاس ،ظلم و ستم کے شکنجے میں جی رہے ہیں مر رہے ہیں۔صحت و تعلیم سے محروم بحرانوں میں پھنسی اور قرضوں میں دبی ملت پاکستانیہ اپنے اشرافیہ سے دست بستہ ملتمس ہے خدا او رسول کے واسطے اپنی عاقبت اور وطن کی بقاءکا فکر کرو لوٹی ہوئی دولت واپس کرو ،بس کرو گھناﺅنا کھیل ختم کرو۔طالع آزماﺅں، باز آجاﺅاور جینے دو وطن تمہاری کرتوتوں کی وجہ سے شکستوں سے دوچارہے پسپائی اور بحرانوں کا شکار ہے۔اسٹیبلشمنٹ والوں آگے بڑھو،جرات دکھاوں،خدا اور بندگان خدا سے معافی مانگواور ازالے کےلئے جان لڑادو۔ملک کو جمہورےت کی پٹری پر چڑھنے دو،چلنے دو،آگے بڑھنے دو ورنہ قوم تمہاری نسلوں کا حشر کر دے گی اور تارےخ اسلام میں تمہارا شمار میر جعفر و میر صادق میں ہوگا۔قےامت تک دھتکارو پھٹکار تمہاری نسلوں کا مقدر ہوگا۔پاکستان تو قےامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور رہے گا انشاءاللہ۔