الحفیظ الامان

کالم نگار  |  بیرسٹیر ظہور بٹ (لندن)

کل شام مےرے ایک بھائی کا اسلام آباد سے فون آیا اس کی آواز میں ایک عجیب قسم کی کپکپی اور ڈر تھا کہنے لگا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں جو برطانیہ جیسے محفوظ ملک میں رہ رہے ہیں یہاں تو لا اینڈ آڈر کی یہ حالت ہے کہ ہم اپنے گھروں کے اندر بھی سہمے سہمے رہتے ہیں میں ایک مدت سے کہتا چلا آ رہا ہوں اور مجھے پھر پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے قائد اعظمؒ کے 11 اگست 1947 کے خطاب کے ابتدائیہ کا حوالہ دےنا پڑتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کسی بھی حکومت کی سب سے پہلے ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ملک میں امن و امان قائم کرے تاکہ ہر شہری کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ مل سکے اگر غور کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی بھی ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کےلئے لازمی شرط بھی یہی ہے کہ وہاں مکمل طور پر امن و امان قائم ہو تاکہ بلاخوف اس ملک میں سرمایہ کاری ہو سکے مگر امن و امان تو کہاں ہمارے ملک میں نہ تو بجلی ہے نہ پانی ہے نہ گیس ہے بس وعدے ہی وعدے ہیں اور یہ 2007 سے ہوتے چلے آ رہے ہیں میاں نواز شریف نے بھی گذشتہ انتخابات سے پہلے بہت سے وعدے کئے تھے جن میں چھ ماہ کے اندر لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کا وعدہ بھی تھا مگر .... ع
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا
اور اب جو کچھ کہا جا رہاہے اس کی اتنی لمبی تاریخیں دی جا رہی ہیں کہ ....ع
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
بات ملک میں امن و امان قائم کرنے سے شروع ہوئی تھی ابھی 30 جولائی کی خبر تھی کہ تحریک طالبان پاکستان نے ڈےرہ اسمعیل خان کی جےل سے اپنے 253 ساتھی چھڑا لئے کہا جاتا ہے کہ کوئی 100 کے لگ بھگ طالبان نے جےل کے مےن دروازے کو راکٹ لانچرز سے اڑا دیا اس کے بعد اندر کے دونوں دروازے کھلے تھے اور اہلکاروں کے ساتھ معمولی جھڑپ کے بعد وہ اپنے تمام ساتھی لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اگر پاکستان کے نقشے پر ایک نظر ڈالیں تو ڈےرہ اسمعیل خان کی سرحد فاٹا کے علاقے جڑی ہوئی ہے جہاں سے یہ طالبان آئے تھے اس سرحد سے جےل کا فاصلہ کوئی 40 یا 45 میل کا ہو گا سوال یہ ہے کہ یہ 100 کے قریب طالبان اپنے تمام اسلحے کے ساتھ جیل تک کیسے آئے؟ ظاہر ہے کہ انہیں کم از کم تین بسوں کی ضرورت ہوگی اور اپنے 253 ساتھی جیل سے چھڑا کر ساتھ لے جانے کےلئے بھی مذید چھ یا سات بسیں اور ساتھ لائے ہونگے اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دس بسوں کا قافلہ فاٹا سے شروع ہوکر ایک گھنٹہ تیس منٹ میں جےل تک آتا ہے اور پاکستان کی سیکیورٹی کے ذمہ داروں کو خبر ہی نہیں ہوتی جبکہ ملک میں امن عامہ کے خراب حالات کی وجہ سے فاٹا سے پاکستان آنے والے تمام راستوں کی نگرانی بلکہ ناکہ بندی کرنا انتہائی ضروری تھی؟ اگر جےل کے اندر طالبان سے لڑائی کے دوران چھ اہلکاروں سمےت 16 افراد جاں بحق ہوتے ہیں تو جےل کے اندر لڑائی بھی ایک آدھ گھنٹے تک ہوتی رہی ہوگی؟ اور اپنے 253 ساتھی چھڑا کر واپس فاٹا تک پہنچتے پہنچتے بھی انہیں ایک گھنٹے سے زیادہ لگا ہوگا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دوران پاکستان کی پولیس رےنجرز یا فوج کہاں چھپی بیٹھی تھی اور یہ فوراً موقعہ پر کیوں نہیں پہنچ سکے؟ ابھی کچھ ہی ہفتے پہلے یہ طالبان بنوں جےل سے بھی اپنے 400 سے زائد ساتھی چھڑا کر لے جانے میں کامیاب ہوگئے تھے تو اسلئے باقی تمام جےلوں کی حفاظت کےلئے جہاں جہاں یہ دہشت گرد بند تھے ان کی سکیورٹی زیادہ سخت کیوں نہیں کی گئی؟ ڈےرہ اسمٰعیل خان کی جےل پہ طالبان کے اس متوقع حملے کی اطلاع تو ہمارے افسران کو بہت پہلے مل چکی تھی تو پھر یہ کوتاہی کیسے ہوئی؟ کیا یہ متعلقہ افسران کی نا اہلی تھی یا کچھ افسران طالبان سے ملے ہوئے تھے؟ یہ اور ایسے کئی سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں مل رہا جیل کے کچھ افسران کو تو معطل کر دیا گیا ہے لےکن ان افسران کی گردنیں کیوں نہیںمروڑی گئیں جنہوں نے ان خطرناک دہشت گردوں کو فاٹا کی سرحدوں کے نزدیک ترین جےل خانوں میں بند رکھنے کے حکم جاری کئے تھے؟ ان کو تو دور و دراز کی جےلوں میں رکھا جانا چاہیئے تھا؟ یہ تو آبیل مجھے مار والی بات ہو گئی؟ ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جن کے جرم ثابت ہو جانے کے بعد انہیں کئی ماہ پہلے سزائے موت بھی ہو چکی تھی تو پھر ان سزاو¿ں پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا کسی کو اندازہ ہے کہ یہ 650 سے زائد چھڑائے جانے والے دہشت گرد ملک میں کسی تباہی مچا سکتے ہیں؟ کیا ہمارے ادارے اسوقت حرکت میں آئیں گے جب رائے ونڈ ان دہشت گردوں کی زد میں آئے گا؟ کیسی عجیب صورت حال ہے کہ روم جل رہا ہے اور نیرو چین سے بنسری بجا رہا ہے ان سے پہلے پیپلز پارٹی والی حکومت بھی ملک میں امن و امان قائم کرنے کی بجائے پورے پانچ سال قومی دولت کے اربوں روپے لوٹنے میں مصروف رہی اور موجودہ وزیر اعظم بھی امن و امان قائم کرنے کی بجائے تمام تعیناتیاں میرٹ کی بجائے ذاتی وفاداریوں کی کسوٹی پر کر نے میں مصروف ہیں تاکہ مستقبل کےلئے اپنے راستے ہموار رکھے جائیں کیا انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا کہ جب برا وقت آتا ہے تو یہ ذاتی وفاداریوں والے چوہے ہی سب سے پہلے چھلانگیں لگا کر جہاز سے باہر کود جایا کرتے ہیں؟ ابھی بھی وقت ہے کہ ایروں غیروں کی بجائے صحیح جگوں پر صحیح لوگ لگائے جائیں اور ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے ملک میں امن و امان قائم کرنے کا بس صرف یہی اےک راستہ ہے اور یہی ہماری حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے باقی تمام پروگرام اس کے بعد ہی شروع ہو سکتے ہیں۔