”سٹریٹجک مذاکرات کے بعد فوج ڈرائیونگ سیٹ پر“

اجمل شبیر...............
سویلین حکمرانوں کی اپیل پر کئے گئے تاریخی سٹریٹجک مذاکرات صرف بے نتیجہ نہیں رہے بلکہ ناکام ہو گئے ہیں۔ واشنگٹن میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان میں امریکی مفادات کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بات کی گئی۔ سٹریٹجک مذاکرات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں پاکستان کے حوالے سے سکیورٹی ایشوز‘ تجارت اور پاکستان کے ساتھ امریکی سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی معاہدے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ مشترکہ اعلامیہ میں ان تینوں اہم ایشوز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ان سٹریٹجک مذاکرات کے متعلق کچھ یوں لکھا ”تاریخی سٹریٹجک مذاکرات کی ڈرائیونگ سیٹ پر جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے۔ امریکی انتظامیہ نے سویلین حکمرانوں پر کوئی توجہ نہیں دی صرف مسکراہٹوں کے جھومر میں سر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ کیانی اور پینٹاگون کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی پاکستانی سویلین حکمرانوں کے خفیہ رکھی گئی پنٹاگون اور اوباما انتظامیہ نے پاکستانی سویلین حکمرانوں نے خیالات کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ”پینٹاگون اور پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ہونے والی سٹریٹجک مذاکرات کامیاب رہے جبکہ پاکستانی سویلین اور وہائٹ ہاﺅس کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ ان مذاکرات کے فوراً بعد پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پر بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی“ اس تمام صورتحال کے بعد اب لگتا یہی ہے کہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ دوبارہ طاقت میں آ گئی ہے۔ بناءپر کہا جا سکتا ہے کہ اہم ترین سیاسی و آئینی معاملات پر بھی اب فوج کا کنٹرول ہو گا۔ کچھ میڈیا حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب عدالتیں حکومت کریں گی۔ اور ان کے پیچھے فوج ہو گی۔ بنگلہ دیش کے ناکام ماڈل کو پاکستان میں آزمانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ ہماری جمہوریت کی بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔ حالات و واقعات اس بات کی نشاندھی کر رہے ہیں کہ پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی وجہ سے سب سے زیادہ جمہوریت نقصان میں رہی ہے۔ فوج کا فرنٹ لائن پر آنا یا ڈرائیونگ سیٹ پر آنا نیک شگون نہیں ہے۔ جمہوریت کے لئے حالات سازگار دکھائی نہیں دے رہے۔لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی‘ کا سلسلہ اس طرح تیزی سے جاری رہا‘ عوام سڑکوں پر نکل آئے تو حالات و واقعات سویلین حکمرانوں سے بے قابو ہو سکتے ہیں اور اس طرح تیسری قوت فرنٹ لائن پر آ سکتی ہے۔ پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات نہیں تھے۔ امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے یہ مذاکرات کئے گئے۔ بالخصوص افغانستان میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے جہاں اوباما بھی آ دھمکے۔ سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ Nevouness اور پریشانی سے نکلیں اور معاملات جلد از جلد مفاہمت اور مصالحت سے حل کریں۔