پاک امریکہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ

صحافی  |  جاوید قریشی

میں نے اپنے پچھلے کالم میں مارچ کے حوالے سے عرض کیاتھا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے معمول سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یوں تویہ مہینہ موسم بہار کی آمد کا پیغام دیتا ہے۔ بہار کا موسم جس میں پھول کھِلتے ہیں ۔قدرت سبزہ کو نئی تراوت اور تروتازگی عطا کرتی ہے،میدان جو ابھی تک سردی کی شدت سے بد رنگی کا شکار رہے ترو تازگی اور رنگ و روپ کا نیا لباس اوڑھ کر دیکھنے والوں کی روح کو اطمینان و سکون عطا کرنے لگتے ہیں لیکن اس مرتبہ مارچ کا مہینہ اِن تمام باتوں کے علاوہ ہمارے لئے نئی خوشیاں اور نئے پیغامات لے کر آیا تھا۔ خدا کرے کہ پاکستانی قوم جو اس مہینے میں اہم فیصلے کرے گی وہ اس کیلئے سکون و اطمینان کا سبب بنیں اور قومی مفاہمت اور ملکی ترقی کی وہ تمام راہیں کھول دیں جن کی راہ یہ قوم عرصہ سے دیکھ رہی تھی۔
قومی مالیاتی کمیشن کی مفاہمت پر مبنی سفارشات کی منظوری اور اُس پر دستخط اپنی جگہ بہت اہم واقعہ تھا 20 برس سے صوبوں میں اتفاقِ رائے نہ ہو سکا تھابجائے خود بھی بہت بڑی کامیابی ہی تھی لیکن اصل کامیابی تو 18 ویں ترمیم پر اتفاق رائے کا پیدا ہو جانا اور سفارشات پر کمیٹی ارکان کے دستخط اور پھر ایک بل کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہے ۔ 1973 کے بعد آئین پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے اہم واقعہ ہے۔ اس پر کمیٹی کے ممبران بالخصوص کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی کو جتنی مبارکباد دی جائے کم ہے۔ یہ موضوع بجائے خود ایک نہیں کئی کالموںکا متقاضی ہے۔ اس پر بات انشاء اللہ آگے چل کر ہو گی۔ سر دست تو پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ پر بات کرنے کا ارادہ ہے۔پاک امریکہ تعلقات گزشتہ کم و پیش 50 برسوں میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پر مبنی رہے ہیں یہ ضرورت جتنی شدید رہی اور جب تک برقرار رہی تعلقات اتنے ہی نزدیکی نظر آئے۔ جب ضرورت پوری ہو گئی تو \\\" تُو کون اور میں کون \\\" یا یوں کہیے کہ ضرورت پڑی تو گلے لگا لیا اور ضرورت پوری ہو گئی تو دھتکار دیا۔ ان قربتوں اور فاصلوں میں تھوڑا بہت فائدہ پاکستان کا بھی ہوا اور وہ اقتصادی امداد کی شکل میں ہوا۔ خدمات کا معاوضہ کبھی مناسب اور کبھی کم ادا کر کے امریکہ اپنا دامن چھڑاتا رہا۔ غالباً بڑے ملکوں کا رویہ ہوتا ہی ایسا ہے ۔ ہم جیسے چھوٹے ، غریب ، پس ماندہ ملک اس سلوک کو سکہ رائج الوقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ پاک امریکہ مزاکرات جسے امریکہ نے خود ہی \\\" سٹریٹجک\\\" مذاکرات کا نام دیا۔ ماضی سے قدرے مختلف نظر آئے۔ ابھی تک تو طریقہ اور امریکی خواہش یہ ہوتی تھی کہ پاکستان امریکی عزائم کی تکمیل میں بتایا گیا کردار ادا کرے اور تھوڑا بہت معاوضہ اس کے عوض قبول کرکے خاموش رہے لیکن اس مرتبہ غالباً امریکہ کو ضرورت پاکستان کی زیادہ شدید تھی۔ یا امریکیوںکو یقین ہو چلا تھا کہ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو افواج کا آبرو مندانہ انخلاء افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی شمولیت اور ان مذاکرات میں پاکستان کے معقول اور قابل قدر کردار کے بغیر ممکن نہیں ۔ اسی وجہ سے مذاکرات کی نوعیت مختلف نظر آئی۔
جب پاک وفد مذاکرات کیلئے واشنگٹن پہنچا تو شاپنگ لسٹ اور مطالبات 56 صفحات پر پھیلے ہوئے تھے، جن میں صاف صاف اور غیر مبہم الفاظ میں پاکستان کی شکایات اور ضروریات کی تفصیل درج تھی جن کا تعلق خطہ میں قیام امن سے تھا ۔پاکستان کی سیکیورٹی ضروریات کا بھی تفصیل سے ذکر تھا۔ جو افغانستان اور بھارت سے متعلق تھیں۔ ان کے علاوہ نیو کلیئر ہتھیار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کیلئے پاکستان کی ضروریات کا تذکرہ تھا۔ ایسے مذاکرات میں امریکہ سننے سے زیادہ بالعموم سنانے پر زور دیا کرتا تھا۔ ایک گردان جو امریکی حکام دہرانے سے کبھی نہ چوکتے تھے وہ پاکستان کو \\\"Do More\\\" کی تلقین ہوتا تھا۔ ان مذاکرات میں جیسا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بعد میں بتایا \\\"Do more\\\" کی گردان دہرائی نہ گئی اور امریکی سنانے سے زیادہ سننے میں بھی دلچسپی لے رہے تھے۔ ہر چند کے وہ ان مذاکرات میں یا مستقبل قریب میں پاکستان کی بہت سی ضروریات پوری نہیںکر سکتا تھا۔ امریکہ کے واسطے بھی کھل کر صاف صاف بات کرنے کا موقع تھا۔ ماضی کی طرح کچھ کہا کچھ رہنے دیا والی بات نہ تھی۔ جس طرح پاکستان نے صاف صاف بات کی اُسی طرح امریکہ نے بھی کی مثلاً امریکہ کو شکایت تھی کہ پاکستان وعدہ کرنے کے باوجود بعض ایسے شدت پسند گروہوں کی مدد سے نہیں چوکتا جن سے پاکستان کے تعلقات ماضی میں رہے ہیں اور جن کے ساتھ پاکستان امریکہ اور نیٹو کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد بھی تعلقات رکھنا چاہتاہے۔ پاکستان کے پاس یہ موقعہ تھا کہ امریکہ کے خلاف اور اس کی ناجوازیوں کے متعلق جو کچھ بھی دل میں تھا اس کی بھڑاس نکال لے اور اس بات پر زور دے کہ پاکستان کے ساتھ اُسی قسم کا سلوک اور برتائو ہو نا چاہئیے جیسا بھارت کے ساتھ ہوتا ہے۔صدر جارج بش اور پرویز مشرف کی صدارت کے دوران پاک امریکہ تعلقات میں کوئی حقیقی بہتری یا گہرائی پیدا نہ ہو سکی۔دونوں طرف سے دوستی کی باتیں ہوتی تھیں لیکن اوپر اوپر سے دونوں ملک اپنے مفاد کی سوچتے رہتے اور چوری چھپے ایسا کوئی کام کرنے سے نہ کتراتے جو محض ان کے انفرادی مفاد میں ہوتا۔ صدر بش تعلقات میں گہرائی پیدا کرنے کی بجائے آئے دن پیدا ہو جانے والے بحران کا حل تلاش کر لینا ہی اپنا مطمع نظر سمجھتے تھے۔ پاکستان کے ساتھ روابط میں گہرائی اور استحکام پیدا کرنا نہ صدر بش کا مقصد تھا نہ انہوں نے اس کیلئے کوشش کی۔ اُدھر صدر مشرف بھی افغان طالبان کو پاکستان میں پناہ حاصل کرنے پر دل مُبرانہ کرتے ۔ مشرف صاحب سوچتے ہوں گے کہ ان لوگوں کو بھارت ، کشمیر اور افغانستان میں پاکستان کے مفاد میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور غالباً کیا بھی گیا ہو گا۔ یہ بات صدر بش اور مریکی انتظامیہ کو ظاہر ہے پسند نہ تھی ۔ وہ افغان طالبان سے برسر پیکار تھے اور انکے دشمن کو پاکستان میں کوئی سہولت یا راحت فراہم کرنا انہیں ایک آنکھ نہ بھاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاک امریکہ \\\" دوستی\\\" اس حد میں اس بد اعتمادی کو دور نہ کر سکی جو ملکوں کے روابط میںپائی جاتی تھی۔ صدر بش کے مقابلہ میں براک حسین اوبامہ نے پاکستان کو اپنے ایجنڈہ میں سر فہرست رکھا ہوا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اوبامہ اپنے درمیان نام حسین کے باعث اپنے ملکی مفاد پر پاکستان کے مفاد کو ترجیح دیں گے لیکن ہو سکتا ہے اوبامہ انتظامیہ کی ترجیحات بش انتظامیہ سے مختلف ہوں۔ گذشتہ 15 مہینوں کے دوران درجنوں سفارتی وفود اسلام آباد آئے گئے ہیں۔ اوبامہ انتظامیہ نے پاکستان کو اس بات پر آمادہ اور قائل کر لیا ہے کہ کھل کر صاف صاف بات امریکہ سے کرے۔ اس طرح امریکہ بھی کھل کر صاف انداز میں پاکستان سے بات کرے۔پاکستان ایک بکھرتی ہوئی ریاست نظر آتی ہے جو اپنے شہریوں کو نہ تحفظ فراہم کر سکتی ہے نہ بجلی، نہ پانی اور نہ ہی روزگار ۔ پاکستانی ریاست کی کوئی پوزیشن ہو ، پاک فوج کی قدرو منزلت امریکی نگاہوں میں ڈرامائی طور پر بڑھ گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ پاک فوج کے نیو کلیئراثاثوں میں اضافہ دوسرے شدت کے ساتھ پاک طالبان کے خلاف پاک فوج کی جنگ اور افغان طالبان کے ساتھ بچے کچے مراسم ہو سکتے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ اور نیٹو افغانستان سے آبرومندانہ انخلاکے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان تمام چیزوں سے آراستہ پاک فوج ، افغان امن مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کی متقاضی بھی ہے۔ پاکستان اور امریکہ ایک موہوم سے تعلق سے اب ایک ٹھوس ساجھے داری کی طرف چل رہے ہیں۔
تسلیم کرنا پڑے گا کہ امریکہ کے حقیقی مذاکرات جنرل کیانی کے ساتھ ہوئے۔ فوج نے کچھ شرائط بتارکھی تھیں اور فوج کا مطالبہ تھا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے انھیں تسلیم کر لیا جائے۔ امریکہ نے ہر سیکٹر سے متعلق معلومات پر علیحدہ علیحدہ بحث کی جس میں طرفین کے متعلقہ وزراتوں اور افسران نے حصہ لیا۔ مقصد یہ تھا کہ دریافت کیا جائے کہ امریکہ کس طرح ایک بکھرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دے سکتا ہے۔ انرجی کی کمی کو دور کرنے کے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں، انفراسٹرکچر کو کیسے ترقی دے کر ایک جدید معیشت کے لائق بنایا جائے وغیرہ۔ بد قسمتی سے ہماری کپڑے کی صنعت کو امریکہ کی منڈیوں تک رسائی کے پاکستانی مطالبہ کا تا حا ل کوئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ امریکہ پاکستان کو اگلے 5 سال 1.5 ارب ڈالر سالانہ کے حساب سے سول سیکٹرز میں امداد دیتا رہے گا۔ فوج کو ایک ارب ڈالر واجب الادا رقم کی ادائیگی فوری ہو جائے گی ۔ اسکے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید سامان حرب جیسے ہیلی کاپٹرز، F.16 جنگی طیارے شامل ہین فراہم کئے جائیں گے۔ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی درخواست سر دست مسترد کر دی گئی۔ جسکی ایک وجہ تو نیو کلیئر پھیلائو میں پاکستان پر لگائے جا نے والے الزامات ہیں(ڈاکٹر قدیر خان والا مسئلہ) دوسرے صدر اوبامہ فوری طور پر یہ بات کانگریس سے منظور کروانے کی پوزیشن میں بھی نہیںہیں۔ البتہ اس پرمزید مذاکرات کئے جائیں گے جو نو ساختہ پالیسی شیرنگ گروپ کی زیر نگرانی ہوں گے مذاکرات کے دوران پاک فوج کی بہت تعریف ہوئی لیکن سختی سے مطالبہ کیا گیا کہ ہماری فوج 30 برس سے قائم تعلقات انتہا پسندوں سے قطعی طور پر ختم کرے اور ان لوگوں کو کشمیر ، بھارت اور افغانستان میں مداخلت سے بھی باز رکھے۔
پاکستان نے لشکر طیبہ کے خلاف کاروائی سے اس وقت تک انکار کیا جب تک پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہو جاتے۔ بھارت تعلقات میں بہتری کی خاطر لشکر کے خلاف پیشگی کاروائی کا متقاضی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا کہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان کا اہم اور کلیدی کردار ہو گا۔ بھارت کو افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار اور سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی پر پالیسی شیرنگ گروپ کے تحت مزید مذاکرات پر بھی تشویش ہے۔ ایک امریکی شہری (David Headley) جو ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک رہا اس تک بھارتی حکام کو ابھی تک رسائی نہ ملنا بھارت کیلئے مزید خفت کا باعث بنا ہے۔اِن مذاکرات پر دونوں ملکوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی ہم منصب امریکی ہلری کلنٹن کے مقابلہ میں زیادہ پُر خوش نظر آتے ہیں۔ برف پگھلنا شروع ہوئی ہے\\\" بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے\\\"